مرکزی وزیر کرن رجیجو کا حالیہ بیان کہ ’وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کی تقدیر بدل گئی ہے‘ دراصل اس وسیع تر قومی تبدیلی کا آئینہ دار ہے جو گزشتہ ایک دہائی میں بھارت کے سیاسی، اقتصادی اور انتظامی ڈھانچے میں دکھائی دے رہی ہے۔ آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی صرف ایک آئینی ترمیم نہیں تھی بلکہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے جموں و کشمیر کو ملک کے مرکزی دھارے سے جوڑنے کے عمل کو مضبوط تر بنا دیا۔ اس فیصلے کے بعد جو تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، وہ محض اعداد و شمار یا تقریروں کا حصہ نہیں، بلکہ زمینی سطح پر محسوس کی جانے والی حقیقت بنتی جا رہی ہیں۔
اگر پچھلے چند برسوں کا جائزہ لیا جائے تو جموں و کشمیر میں ترقی کا ایک نیا باب کھلا ہے۔ جہاں کبھی خوف، غیر یقینی اور سیاسی جمود کی فضا چھائی رہتی تھی، وہاں اب تعمیراتی سرگرمیوں اور معاشی بحالی کے آثار نمایاں ہیں۔ سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے، اسکولوں اور کالجوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے، کھیلوں کے میدانوں میں نوجوانوں کی شرکت بڑھ رہی ہے، اور سیاحت جسے کبھی تشدد نے نقصان پہنچایا تھا، اب ایک بار پھر ریاستی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنتی جا رہی ہے۔
وزیر رجیجو نے بجا طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ۲۰۱۴ کے بعد سے جو ترقیاتی رفتار جموں و کشمیر میں دیکھنے کو ملی، وہ اس سے پہلے ممکن نہیں تھی۔ آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے کے بعد آئین ہند کی وہ دفعات اور ریزرویشن پالیسیز لاگو ہوئیں جو ماضی میں اس خطے کے عوام کی پہنچ سے باہر تھیں۔ اب مرکزی اسکیمیں…چاہے وہ خواتین کی بہبود، نوجوانوں کے روزگار، یا بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق ہوں‘براہِ راست جموں و کشمیر کے شہریوں تک پہنچ رہی ہیں۔
ترقی کا یہ سفر اگرچہ قابلِ تعریف ہے، لیکن کسی بھی معاشرے میں تبدیلی صرف انفراسٹرکچر سے نہیں آتی۔ پائیدار ترقی کے لیے اعتماد اور شراکت لازم ہے۔ آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی کے بعد انتظامی ڈھانچے نے خود کو نئے انداز میں منظم کیا ہے، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی سطح پر بھی عوامی شمولیت کو مکمل طور پر بحال کیا جائے۔ ریاستی درجہ کی بحالی اور اسمبلی انتخابات کے انعقاد سے عوام کو ایک واضح اطمینان ملے گا کہ ان کی آواز فیصلوں کا حصہ ہے۔ مرکز اور عوام کے درمیان اعتماد کی یہ مضبوطی جموں و کشمیر کے استحکام کی سب سے مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔
وزیر رجیجو کا یہ کہنا کہ’دنیا کشمیر کو دیکھنا چاہتی ہے‘ ایک حقیقت پر مبنی جملہ ہے۔ کشمیر کی فطری خوبصورتی ہمیشہ سے عالمی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ مگر اصل حسن تب ابھرتا ہے جب اس سرزمین پر امن اور خوشحالی ایک ساتھ پروان چڑھیں۔ گزشتہ چند برسوں میں سیاحت کے شعبے میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ صرف سری نگر ہی نہیں بلکہ گلمرگ، پاہلگام، دودھ پتھری اور بانڈی پورہ جیسے مقامات بھی نئی جان پا رہے ہیں۔ ہوٹل، ہاؤس بوٹس اور ہوم اسٹے پروگرامز میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے، جس نے مقامی روزگار کے مواقع کو بھی وسعت دی ہے۔
مرکز کی طرف سے نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے کے لیے کیے گئے اقدامات پورے ملک میں ایک بڑے رجحان کا حصہ ہیں۔ کٹرہ میں جس تقریب میں وزیر رجیجو نے شرکت کی، وہاں ملک بھر کے ۵۱ ہزار نوجوانوں کو تقرری نامے دیے گئے۔ یہ اقدام نہ صرف حکومت کی روزگار پالیسی کا تسلسل ہے بلکہ اس عزم کی بھی علامت ہے کہ ترقی کا فائدہ صرف کسی ایک خطے تک محدود نہ رہے۔ جموں و کشمیر کے نوجوان بھی اسی قومی تحریک کا حصہ ہیں جہاں روزگار کو صرف ذریعہ معاش نہیں بلکہ خدمتِ وطن کا موقع سمجھا جا رہا ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو جموں و کشمیر کا معاملہ اب صرف علاقائی نہیں رہا بلکہ قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کی ایک بڑی علامت بن چکا ہے۔ آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد یہاں کے لوگوں کو وہی آئینی، تعلیمی اور روزگار کے مواقع میسر آئے ہیں جو ملک کے باقی حصوں میں ہیں۔ اس برابری کا احساس بتدریج اعتماد میں بدل رہا ہے، اور یہی اعتماد آنے والے برسوں میں امن و ترقی کا ضامن بن سکتا ہے۔
تاہم، کسی بھی بڑی پالیسی کے ساتھ کچھ خدشات فطری ہوتے ہیں۔ ترقی کی رفتار اگرچہ متاثرکن ہے، مگر اس کا حقیقی ثمر تب ہی ظاہر ہوگا جب اس کے اثرات عام شہری کی زندگی میں دکھائی دیں گے۔ ایک مضبوط سڑک، ایک نیا ادارہ یا ایک کھیل اسٹیڈیم تب معنی رکھتا ہے جب ان کے ساتھ لوگوں کے دلوں میں بھی خوشی اور اعتماد کی فضا پیدا ہو۔
حکومت نے جس طرح امن اور ترقی کے بیچ توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے، وہ ایک سوچے سمجھے راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔ انتظامی استحکام کے بعد اب اگلا مرحلہ سیاسی استحکام کا ہے۔ جب تک عوامی نمائندے بحال نہیں ہوں گے، یہ سفر ادھورا محسوس ہوگا۔ لیکن یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ مودی حکومت نے اس سمت میں مضبوط بنیاد رکھ دی ہے، جس پر ایک جامع، پرامن اور خوشحال جموں و کشمیر تعمیر ہو سکتا ہے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ ترقی صرف شہروں تک محدود نہ رہے بلکہ دیہات، پہاڑی علاقوں اور دور دراز وادیوں تک بھی پہنچے۔ نوجوانوں کو روزگار، خواتین کو بااختیار بنانے، اور تعلیمی اداروں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔ عوامی فلاح اور مقامی شمولیت کا یہی امتزاج اس تبدیلی کو پائیدار بنا سکتا ہے۔
جموں و کشمیر کی نئی تقدیر صرف آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی سے نہیں بلکہ اس عزم سے وابستہ ہے کہ ترقی، امن اور شراکت تینوں مل کر ایک ایسا مستقبل تراشیں جہاں ہر شہری کو احساسِ ملکیت اور اعتماد نصیب ہو۔ یہی بھارت کی اصل طاقت ہے، اور یہی وہ سمت ہے جس میں مودی حکومت نے جموں و کشمیر کو آگے بڑھایا ہے۔





