ہمیں کہا گیا ہے او ربار بار کہاگیا ہے کہ اللہ میاں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں… اور یہ بھی کہ…صبر کا پھل میٹھا ہو تا ہے… ہمیں پھل ‘ میٹھے یا کھٹے سے کوئی سرو کار نہیں ہے… ہاں ہم بھی اللہ میاں کا ساتھ چاہتے ہیں… اس میں یقینا ہماری دلچسپی ہے… ہمیں یقین ہے کہ آپ کی بھی ہوگی… دلچسپی !…اس لئے صاحب آپ بھی صبر کیجئے اور ہم بھی ۔ ہم اور آپ مل کر صبر کریں گے ‘وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کے حوالے سے صبر کریں گے … اسی طرح صبر کریں گے یا صبر کرنے کا مشورہ اپنے وزیر اعلیٰ کو دیں گے… دہلی کے حوالے سے صبر کرنے کا مشورہ …جس طرح ہم ان کو لے کر صبر کررہے ہیں ‘ اسی طرح یہ جناب بھی دہلی کو لے کر صبر کریں … کہ جہاں ایک سال کٹ گیا‘ بیت گیا وہاں باقی ماندہ چار بھی کٹ جائیں گے ‘ بیت جائیں گے … پہلا سال بیت گیا ‘ مکمل ہو گیا اور عمرعبداللہ ریاستی درجے کی بحالی کا انتظار کرتے رہے… اور ہم اس انتظار میں کہ… کہ کب درجہ بحال ہو جائیگا تاکہ عمرعبداللہ کچھ کام کر سکیں …کہ وزیرا علیٰ ہر ایک کام… کام آنے والے کام نہ کرنے کا الزام خود پر نہیں بلکہ دہلی پر لگا رہے ہیں… اب واقعی میں دہلی مورد الزام ہے یا پھر وزیر اعلیٰ دہلی کو بدنام کررہے ہیں… یہ تو ہم نہیں جانتے ہیں کہ… کہ اگر ہم کچھ جانتے ہیں تو صر ف یہ ایک بات جانتے ہیں کہ… کہ کوئی کچھ بھی کہے ہمیں صبر کرنا ہو گا… حضرت ایوب جیسا صبر کہ اگر ایک سال میں ہماری اس نا سمجھ ‘ سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ… کہ ہمارے کام نہیں ہو ں گے… لوگوں کے کام آنے والے کام نہیں ہوں گے تو… تو پھر ہم سا نا سمجھ کوئی نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے ۔ اور اگر پھر بھی آپ نے کچھ سمجھنا ہے تو وزیر اعلیٰ کے نائب کی اس بات کو سن لیجئے ‘ آپ سب کچھ سمجھ جائیں گے… ان جناب کاکہنا ہے کہ ان کی حکومت ایک سال نہیں بلکہ پانچ سال بعد اپنا رپورٹ کارڈ پیش کرے گی…پہلے چھ ماہ‘ پھر ایک سال اور اب پانچ سال… یہ بات ‘ ان جناب کا یہ بیان کافی ہے… وہ سب کچھ سمجھنے کیلئے جو آپ کو سمجھنا چاہئے … سمجھنا ہی نہیں بلکہ سمجھ کر پھر اس پر صبر کرنا بھی چاہئے ۔ ہے نا؟




