حساب مانگاجا رہاہے … اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ‘عمرعبداللہ سے حساب مانگاجارہاہے… اس بات کا حساب کہ انہوں نے گزشتہ ایک سال میں کیا کیا اور کیا نہیں ۔ حساب اس لئے مانگا جا رہا ہے کیونکہ آج عمرعبداللہ کا اقتدارمیں ایک سال مکمل ہوا ہے…اور ان سے اسی ایک سال کا حساب مانگا جارہا ہے ۔اس لئے مانگا جا رہاہے کیونکہ مانگنے والوں کا خیال ہے کہ… کہ عمرعبداللہ نے ایک سال پہلے الیکشن… اسمبلی الیکشن کے دوران لوگوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا… وعدے پور ا نہ کرنے کے خوب بہانے بنائے لیکن وعدے پورے نہیں کئے… اوراسی بات پر ان سے حساب مانگا جارہا ہے…مانگئے جناب … وزیرا علیٰ سے حساب مانگئے لیکن… لیکن حساب مانگنے سے پہلے ایک بار سوچ لیجئے … اور ہاں ایک بات بھی سوچ لیجئے کہ آپ ویر اعلیٰ سے کس کا حساب مانگ رہے ہیں… ان باتوں اور وعدوں کا جو انہوں نے الیکشن کے دوران کئے … لوگوں سے کئے…؟ اگرآپ اسی بات کا ان سے حساب مانگ رہے ہیں تو…تو مت مانگ لیجئے… یہ ہماری آپ کو صلاح ہے … اور مشورہ بھی ۔حساب مانگنے سے پہلے اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیجئے کہ اگر آپ عمرعبداللہ کی جگہ ہو تے تو…تو آپ نے آسمان سے کون سے تارے توڑ لائے ہوتے ؟آپ نے لوگوں سے کیا ہوا کون سا وعدہ پورا کیا ہوتا …آپ میں اور عمر عبداللہ میں صرف ایک بات کا فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ ہیں اور آپ نہیں … وعدوں … لوگوں سے کئے وعدوں میں کوئی کسی کے پیچھے ہے اور نہ آگے…سبھی الیکشن کے دوران وعدے کرتے ہیں … سو عمرعبداللہ نے بھی کئے … سبھی وعدے کرنے سے پہلے جانتے ہوتے ہیں… ان کا دین و ایمان ہو تا ہے کہ … ان وعدوں کی عمرزیادہ نہیں ہوتی ہے… جس دن ان کے اقتدار کی عمر کا آغاز ہو تا ہے ‘وہ دن ان ے وعدوں کا آخری دن ہو تا ہے… اور عمرعبداللہ استثنیٰ نہیں ہیں… بالکل بھی نہیں ہیں۔ ان جناب نے بھی وعدے کئے … ہول سیل میں کئے اور… اور جس دن اقتدار ان کے ہاتھ آیا اسی دن ان کی مٹھی سے سارے وعدے … ریت کے دانوں کی طرح ایک ایک کر پھسل گئے …اس لئے صاحب کون سا وعدہ اور کس وعدے کا آپ ان سے حساب مانگ رہے ہیں کہ… کہ اللہ میاں کی قسم اس حمام میں آپ سب … سب مطلب سب‘ ایک جیسے ہیں ۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



