سرینگر کی این ڈی پی ایس عدالت کا حالیہ فیصلہ، جس میں دو بدنام منشیات فروشوں کو دس سال قیدِ بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی گئی، محض ایک عدالتی کارروائی نہیں بلکہ ایک علامت ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ قانون اب خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔ وادی میں بڑھتی ہوئی منشیات کی لت ایک ایسا زہر بن چکی ہے جو نہ صرف نوجوانوں کی زندگیاں نگل رہا ہے بلکہ معاشرتی ڈھانچے کو بھی اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ اس فیصلے نے یہ امید جگائی ہے کہ اگر نیت مضبوط ہو اور کارروائی بلا امتیاز ہو، تو اس ناسور کو روکا جا سکتا ہے۔
پچھلے چند برسوں میں کشمیر میں منشیات کی اسمگلنگ اور استعمال خطرناک حد تک بڑھا ہے۔ پولیس کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ درجنوں مقدمے ہر ماہ درج ہوتے ہیں، ہزاروں نوجوان نشے کے عادی پائے جا رہے ہیں، اور سینکڑوں خاندان اس عذاب سے تباہ ہو چکے ہیں۔ سرینگر، بارہمولہ، کولگام اور اننت ناگ جیسے اضلاع میں منشیات کے مراکز خاموشی سے پھیل رہے ہیں۔ یہ محض جرم نہیں، ایک سماجی المیہ ہے۔
ایسی صورتِ حال میں این ڈی پی ایس عدالت کا فیصلہ ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ مجرموں کو سخت سزا دینا نہ صرف قانون کی بالادستی قائم کرتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے سبق بھی بنتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف عدالتوں کے فیصلے کافی ہیں؟ کیا سزا سنانے کے بعد مسئلہ ختم ہو جاتا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ عدالتیں تب حرکت میں آتی ہیں جب جرم ہو چکا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے روک تھام کا جو مرحلہ ہے، وہ پولیس، والدین، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں کے کندھوں پر ہے۔
جموں و کشمیر پولیس، خصوصاً اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس، نے حالیہ برسوں میں کئی کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔ منشیات فروشوں کے نیٹ ورک کو توڑا، بین الاضلاعی اسمگلروں کو گرفتار کیا اور عدالتوں میں ٹھوس شواہد پیش کیے۔ لیکن پھر بھی، منشیات کا بہاؤ نہیں رکا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پولیس کی سرگرمیاں زیادہ تر کارروائی تک محدود رہتی ہیں، جب کہ ضرورت ایک جامع حکمتِ عملی کی ہے۔
پولیس کو اب صرف پکڑنے والے ادارے کے بجائے ایک روک تھام کرنے والے ادارے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسکولوں، کالجوں اور محلوں میں جا کر آگاہی پروگرام چلانا، منشیات کے عادی نوجوانوں کی بحالی کے مراکز سے ربط رکھنا، اور والدین کے ساتھ رابطے بڑھانا… یہ سب اس لڑائی کا حصہ ہیں۔ اگر پولیس چاہے تو وہ صرف قانون کا محافظ نہیں بلکہ سماج کا رہنما بھی بن سکتی ہے۔
منشیات کا سب سے پہلا نشانہ گھر ہوتا ہے۔ ایک نوجوان جب اس زہر میں ڈوبتا ہے تو اس کے آثار سب سے پہلے گھر میں ظاہر ہوتے ہیں …مزاج میں چڑچڑاپن، پڑھائی سے بے رغبتی، پیسوں کی زیادتی، راتوں کی بے خوابی۔ مگر افسوس کہ اکثر والدین یا تو ان نشانیوں کو نظرانداز کرتے ہیں یا انہیں معمولی سمجھ کر خاموش رہ جاتے ہیں۔ یہی خاموشی جرم کو جگہ دیتی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے دوست بنیں، ان سے گفتگو کریں، ان کی حرکات پر نگاہ رکھیں۔ گھر کا ماحول ایسا ہونا چاہیے جہاں بچہ خوف سے نہیں، اعتماد سے بات کر سکے۔ اگر والدین خود شعور نہیں پائیں گے، تو کوئی ادارہ ان کی جگہ نہیں لے سکتا۔
کشمیر جیسے مذہبی اور ثقافتی معاشرے میں علما کی بات عام لوگوں کے دلوں تک پہنچتی ہے۔ منبر و محراب سے اگر نشے کے خلاف مسلسل اور سنجیدہ آواز اٹھے تو یہ کسی سرکاری مہم سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ جمعہ کے خطبے، مساجد کے دروس، اور مدرسوں میں نصیحت …یہ سب سماج کی سمت درست کرنے کے طاقتور ذرائع ہیں۔
علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ نشے کے مسئلے کو صرف اخلاقی نہیں بلکہ سماجی تباہی کے تناظر میں اجاگر کریں۔ یہ بات نوجوانوں کے ذہنوں میں بٹھانی ہوگی کہ نشہ صرف گناہ نہیں، خودکشی کی ایک آہستہ رفتار شکل ہے۔ اور جو قوم اپنے نوجوانوں کو کھو دے، وہ اپنا مستقبل کھو دیتی ہے۔
یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ منشیات کا کاروبار اتنا وسیع اس لیے ہے کہ اس کے اردگرد ایک خاموش حمایت موجود ہے۔ کچھ لوگ اسے ’’چھوٹا موٹا دھندا‘‘ سمجھ کر نظرانداز کرتے ہیں، کچھ لوگ خوف یا مصلحت میں زبان بند رکھتے ہیں۔ یہ خاموشی دراصل شریکِ جرم بننے کے مترادف ہے۔ اگر محلوں، دیہاتوں اور کالجوں میں لوگ اجتماعی طور پر نشہ فروشوں کے خلاف آواز اٹھائیں تو ان کے لیے زمین تنگ ہو جائے۔
صرف گرفتاری اور سزا کافی نہیں۔ ہزاروں نوجوان پہلے ہی منشیات کے عادی ہو چکے ہیں۔ ان کی بحالی کے لیے حکومت کو زیادہ مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے، جہاں علاج، مشاورت اور نفسیاتی مدد بآسانی دستیاب ہو۔ بدقسمتی سے کشمیر میں ایسے مراکز بہت محدود ہیں۔ اگر ایک طرف عدالتیں سخت فیصلے سنا رہی ہیں تو دوسری طرف انتظامیہ کو نرم ہاتھ سے ان متاثرہ نوجوانوں کو زندگی کی طرف لوٹانا ہوگا۔
عدالتوں کی تیز رفتار کارروائی بھی ایک طاقتور پیغام ہے۔ این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت اکثر مقدمے برسوں تک لٹکے رہتے ہیں، جس سے ملزمان کو ہمت ملتی ہے اور گواہ کمزور پڑ جاتے ہیں۔ سرینگر کی عدالت نے اس روایت کو توڑا ہے۔ ۲۰۲۱ کا مقدمہ صرف تین برس میں منطقی انجام کو پہنچا، جو قانون کی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے۔ اگر ہر کیس میں یہی تسلسل قائم رہے تو منشیات فروشوں کے لیے وادی زمین تنگ ہو جائے گی۔
آخر میں سچ یہی ہے کہ کوئی بھی جنگ پولیس یا عدالت اکیلی نہیں جیت سکتی۔ جب تک عوام خود بیدار نہ ہوں، منشیات کا زہر پھیلتا رہے گا۔ اسکولوں میں نشے کے خلاف مضمون نویسی کے مقابلے ہوں، مساجد میں آگاہی نشستیں ہوں، میڈیا میں باقاعدہ مہمات چلائی جائیں …یہی وہ راستے ہیں جن سے ہم اپنی نئی نسل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔
این ڈی پی ایس عدالت کا فیصلہ یقیناً قابلِ ستائش ہے۔ مگر یہ آغاز ہے، انجام نہیں۔ پولیس کو مزید فعال ہونا ہوگا، والدین کو چوکس، علما کو متحرک، اور سماج کو متحد۔ اگر ہم سب نے مل کر یہ جنگ نہ لڑی تو آئندہ نسلوں کے ہاتھ سے قلم چھن کر سگریٹ پکڑا دیا جائے گا، اور کتاب کی جگہ خالی بوتلیں رہ جائیں گی۔





