یہ ہو کیا رہا ہے…اور جو ہو رہا ہے کمال ہو رہا ہے اور کمال کا ہو رہا ہے… ہم تو صاحب ابھی سے ۲۰۲۵ کو تاریخ ساز سال قرار دینا چاہتے ہیں… لیکن ابھی اس کے دو ڈھائی ماہ باقی ہیں… کیا پتہ کہ ان دو ڈھائی ماہ میںہمیں اور آپ کو کیا کیا دیکھنا پڑے… وہ سب کچھ دیکھنا پڑے جو ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا… بالکل بھی نہیں کیا تھا … اس لئے ہم ان دو ڈھائی ماہ کا انتظار کریں گے… اور اللہ میاں کی قسم اگر ان دو ڈھائی ماہ میں مزید کچھ نہیں ہو تا ہے تو بھی ہم ۲۰۲۵ کو ایک تاریخ ساز سال قرار دینے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے … بالکل بھی نہیں کریں کہ … کہ سال رواں نے دنیا کو بدل کے رکھ دیا ہے… اگر یہ کہیں گے کہ دنیا کو ہلا کے رکھ دیا ہے تو… تو صاحب ہم ایسا کہہ سکتے ہیں… اجی کس کم بخت نے سوچا تھا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ ہمارا ملک طالبان کے وزیر خارجہ کی میزبانی ہی نہیں کرے گا بلکہ کابل میںاپنا سفاتخانہ دو بارہ کھولنے کا اعلان کرے گا … کس نے سوچا تھا کہ پاکستان کے حوالے سے جو تلخی ہمارے ملک کے لہجے میں ہے وہی تلخی یا پھر اس سے زیادہ طالبان کے لہجے میں ہو گی اور… اور اس کا برملا اظہار طالبا ن ہمارے ملک کی سرزمین پر کریں گے… اللہ میاں کی قسم کم از کم ہم نے ایسا نہیں سوچا تھا… بالکل بھی نہیں سوچاتھا … کہ ہمیں وہ دن ابھی بھی یاد ہے جب دہشت گردوں نے آئی سی ۸۱۴ جہاز کو ہائی جیک کرکے قندھار پہنچایا تھا اور وہاں طالبان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے بجائے ان کا مکمل ساتھ دیا تھا … یہ ہمیں یاد ہے … یہ ہم نہیں بھول سکتے ہیں… اسی طرح جس طرح ہم یہ نہیں بھول سکتے ہیں کہ دہلی اور سرینگر میں کس قدر تشویش تھی… طالبان کا کابل پر قبضہ کرنے کے بعد اس بات کی تشویش کہ … کہ کہیں طالبان کشمیر نہ آجائیں اور… اور آج جب طالبان کے وزیر خارجہ دہلی میں ہیں تو… تو اللہ میاں کی قسم ہمیں یہ ایک خواب سا لگتا ہے… لیکن یہ حقیقت ہے‘ یہ سچ ہے … یہ سچ کہ ۲۰۲۵ میں دنیا سچ میں بدل گئی ہے … مکمل طور پر بدل گئی ہے… حریف ممالک دوست بن رہے ہیں اور دوست اور اتحادی ممالک ایک دوسرے کے حریف…اور یہ کمال کسی اور کانہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے …۲۰۲۵ کا۔ ہے نا؟



