راجیہ سبھا کی چار نشستوں کیلئے جاری رسہ کشی نے نیشنل کانفرنس اور کانگریس ‘ دونوں اتحادی جماعتوں‘ کے درمیان تعلقات میں ایک بار پھر نرمی اور سختی کے بیچ کی لکیر کو نمایاں کر دیا ہے۔ بظاہر یہ معاملہ ایک ’’نشست‘‘ کا ہے، لیکن دراصل اس کے پیچھے وہ سیاسی خدوخال پوشیدہ ہیں جو آنے والے مہینوں میں ریاست کی سیاست کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔
نیشنل کانفرنس نے کانگریس کو ایک غیر محفوظ نشست کی پیشکش کی ہے، جب کہ کانگریس اپنے امیدوار کے لیے تین محفوظ نشستوں میں سے کسی ایک پر بضد ہے۔ کانگریس کا استدلال ہے کہ وہ چونکہ حکومت کی اتحادی جماعت ہے، اس لیے اس کا حق بنتا ہے کہ اسے ایک ایسی نشست دی جائے جس پر کامیابی کے امکانات یقینی ہوں۔ مگر نیشنل کانفرنس کے لیے یہ فیصلہ اتنا سادہ نہیں۔
یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے غیر معمولی سیاسی وسعتِ نظر کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ایسی نشستیں کانگریس کے لیے خالی چھوڑی تھیں جن پر اس کی اپنی جیت کے امکانات روشن تھے۔ یہ اقدام اتحاد کے استحکام اور وسیع تر سیکولر سیاست کے فروغ کے نام پر کیا گیا تھا۔ لیکن کانگریس ان میں سے بیشتر نشستوں پر کامیاب نہ ہو سکی، جس سے نیشنل کانفرنس کے اندر یہ احساس مضبوط ہوا کہ اتحادی قربانیوں کے باوجود اسے مطلوبہ سیاسی فائدہ نہیں ملا۔ یہی وہ پس منظر ہے جس نے آج کی صورتِ حال کو جنم دیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس کیا کرے؟ اگر وہ کانگریس کے مطالبے کو نظرانداز کرتی ہے، تو اس سے دونوں جماعتوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ اتحاد کے بندھن کو اگرچہ وقتی طور پر برقرار رکھا جا سکتا ہے، لیکن دلوں میں پیدا ہونے والی دراڑیں طویل مدت تک اپنی موجودگی محسوس کراتی رہتی ہیں۔ کانگریس کا یہ مؤقف بھی غیر منطقی نہیں کہ جب وہ حکومت کا حصہ ہے، تو اسے ایک محفوظ نشست کا حصہ ملنا چاہیے۔ مگر سیاست میں منطق کے ساتھ طاقت کا توازن بھی ایک حقیقت ہوتا ہے اور اس وقت طاقت کا پلڑا صاف طور پر نیشنل کانفرنس کے حق میں ہے۔
نیشنل کانفرنس کو اسمبلی میں عددی برتری حاصل ہے۔ اس لیے اگر اتحاد ٹوٹ بھی جائے تو حکومت کے گرجانے کا کوئی خطرہ نہیں۔ یہی وہ اطمینان ہے جس نے این سی کو قدرے سخت مؤقف اپنانے کا حوصلہ دیا ہے۔ لیکن یہی اعتماد اگر زیادہ بڑھ گیا تو وہ سیاسی نرمی، جو اتحاد کو قائم رکھتی ہے، متزلزل ہو سکتی ہے۔ سیاست میں طاقت کی زیادتی اکثر تنہائی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔
این سی نے راجیہ سبھا کی چار نشستوں میں سے تین پر اپنے امیدوار نامزد کر دیے ہیں… چودھری محمد رمضان، سجاد کچلو اور شمی اوبرائے۔ اس کے بعد اگر ایک نشست کانگریس کو دی جاتی ہے، تو لازماً کسی ایک امیدوار کو دستبردار ہونا پڑے گا۔ یہ فیصلہ آسان نہیں، کیونکہ ہر امیدوار کے پیچھے پارٹی کے اندرونی دھڑے اور مفادات وابستہ ہیں۔ اگر قیادت ایک نشست قربان کرتی ہے تو پارٹی کے اندر اختلافات سر اٹھا سکتے ہیں۔ ایسے میں نیشنل کانفرنس کو توازن قائم رکھنے کے لیے سیاسی بصیرت، تدبر اور داخلی نظم و ضبط کا سہارا لینا ہوگا۔
کانگریس کے مطالبے کی اخلاقی بنیاد یہ ہے کہ وہ این سی کی حکومت کی اتحادی ہے اور انتخابی حمایت کا حصہ ہے۔ لیکن این سی کے لیے یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ سیاست میں اتحاد کا مطلب محض اقتدار کی شراکت نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کی تقسیم بھی ہے۔ اگر اتحادی جماعت اپنے آپ کو برابر کے شریک کے بجائے محض ’’حمایتی قوت‘‘ سمجھنے لگے تو اتحاد کی روح ختم ہو جاتی ہے۔
اسی لیے این سی کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ اپنے قلیل المدتی سیاسی مفاد کو ترجیح دیتی ہے یا اتحاد کے طویل المدتی استحکام کو۔ محفوظ نشست دینا یقینا ایک سیاسی قیمت کا تقاضا کرتا ہے، مگر کبھی کبھار اتحاد کی بقا کے لیے قیمت دینا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ دوسری طرف، اگر این سی اپنے فیصلے پر قائم رہتی ہے اور کانگریس کا دباؤ مسترد کر دیتی ہے، تو اسے یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ سیاسی اتحادوں کی بنیاد صرف عددی اکثریت پر نہیں بلکہ اعتماد، شراکت اور تاثر پر بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ حالات میں نیشنل کانفرنس کے لیے کوئی خطرہ نہیں … نہ حکومت گرنے کا، نہ اسمبلی میں اپنی برتری ختم ہونے کا۔ لیکن اتحاد کا کمزور ہونا مستقبل میں مرکز سے تعلقات، پارلیمانی سیاست میں تال میل، اور جموں و کشمیر کی قومی سطح پر نمائندگی کے توازن پر اثر ڈال سکتا ہے۔
اگر دوسری طرف دیکھا جائے، تو کانگریس کو بھی اپنے مطالبے کے سیاسی وزن کا اندازہ ہونا چاہیے۔ محض اخلاقی بنیاد پر محفوظ نشست کا اصرار وقتی طور پر درست لگ سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت بھی سامنے ہے کہ این سی نے پہلے ہی انتخابی مرحلے میں اس کے لیے خاطر خواہ قربانیاں دی تھیں۔ سیاسی شراکت داری کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مرحلے پر ایک فریق رعایت دے، تو دوسرے مرحلے پر دوسرا فریق وسعتِ نظر دکھائے۔ اگر دونوں صرف اپنے اپنے مفاد پر اصرار کریں تو اتحاد محض کاغذی رہ جاتا ہے۔
نیشنل کانفرنس اس وقت دو نکتوں کے درمیان کھڑی ہے …ایک طرف سیاسی اصول، دوسری طرف عملی سیاست۔ محفوظ نشست چھوڑ دینا اصولی لچک کا مظہر ہوگا، مگر پارٹی کے اندرونی نظم کو جھٹکا دے سکتا ہے۔ جبکہ اپنے فیصلے پر اٹل رہنا داخلی طور پر نظم کو مضبوط رکھے گا، مگر اتحادی تعلقات میں دراڑ ڈال سکتا ہے۔ دونوں راستے مشکل ہیں اور دونوں کے نتائج دیرپا ہو سکتے ہیں۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس اپنی پوزیشن کا ازسرنو جائزہ لے۔ اسے دیکھنا ہوگا کہ راجیہ سبھا کی ایک نشست سے زیادہ اہم اس کا سیاسی تاثر ہے … کیا وہ ایک مضبوط مگر لچکدار جماعت کے طور پر ابھرنا چاہتی ہے یا ایک ایسی قوت کے طور پر جو وقتی اکثریت کے غرور میں شراکت داری کے توازن کو نظرانداز کر دیتی ہے؟
آخرکار، سیاست میں فیصلے کبھی خالص جیت یا ہار کے نہیں ہوتے۔ کبھی ایک قدم پیچھے ہٹنا دراصل آگے بڑھنے کی حکمتِ عملی ہوتا ہے۔ نیشنل کانفرنس اور کانگریس دونوں کو یہی توازن سمجھنے کی ضرورت ہے۔





