جموں و کشمیر کی طویل تاریخ میں امن و ترقی کی راہیں ہمیشہ مشکلات اور چیلنجز سے بھری رہی ہیں۔ گذشتہ دہائیوں میں اس خطے نے نہ صرف دہشت گردی بلکہ سماجی و اقتصادی مشکلات کا بھی سامنا کیا۔ عوام کی زندگی کے ہر شعبے میں دہشت گردی کے اثرات نمایاں رہے، جس نے نہ صرف عوام کی حفاظت کو خطرے میں ڈال دیا بلکہ ترقی کے خوابوں کو بھی مفلوج کر دیا۔ اس پس منظر میں مرکزی حکومت کی سخت اور فیصلہ کن انسداد دہشت گردی کی پالیسی نے نہ صرف اس خطے میں دہشت گردی کے جال کو کمزور کیا بلکہ امن قائم کر کے عوام کو راحت کی سانس لینے کا موقع فراہم کیا ہے۔
جمعرات کووزیر داخلہ امیت شاہ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی سکیورٹی جائزہ اجلاس نے یہ واضح کر دیا کہ جموںکشمیر میں دہشت گرد نیٹ ورک تقریباً ختم ہو چکا ہے اور سکیورٹی فورسز کو مکمل آزادی دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کو ناکام بنائیں۔ یہ واضح ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے نہ صرف دہشت گردوں کی منصوبہ بندی ناکام ہوتی ہے بلکہ عوام میں اعتماد اور تحفظ کا احساس بھی مضبوط ہوتا ہے۔ کشمیری عوام خاص طور پر اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ امن کے بغیر ترقی کے خواب محض خواب ہی رہ جاتے ہیں۔
گذشتہ چند برسوں میں کشمیر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلسل اور جامع آپریشنز جاری رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے ہر ضلع، ہر پہاڑی علاقے اور ناہموار زمینوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کیے اور ان کی نقل و حرکت محدود کی۔ اس کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کی ہدایات کے تحت لائن آف کنٹرول اور انٹرنیشنل بارڈر پر انسداد دراندازی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ دہشت گرد کسی بھی طرح سے سرحد پار کر کے خطے میں عدم استحکام پیدا نہ کر سکیں۔ اس جامع حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ جہاں ایک طرف دہشت گرد نیٹ ورک تقریبا ختم ہوا، وہیں دوسری طرف عوام نے سکون اور تحفظ کی سانس لی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ امن قائم ہونے سے مقامی معیشت اور سیاحت کو فروغ ملتا ہے۔ کشمیری نوجوان اور کاروباری افراد اب اپنے منصوبوں پر توجہ دے سکتے ہیں، سیاحتی مقامات میں گاہک آ رہے ہیں، اور روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ امن کے بغیر نہ صرف انفراسٹرکچر کی ترقی رک جاتی ہے بلکہ سماجی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام میں اس امن کی قدر کو ہر لحاظ سے محسوس کیا جا رہا ہے۔
وزیر داخلہ نے اجلاس میں زور دیا کہ سکیورٹی فورسز کو ہر ممکن وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کے منصوبوں کو ناکام بنا سکیں۔ اس فیصلے کا اثر یہ ہوا کہ نہ صرف دہشت گردوں کا حوصلہ پست ہوا بلکہ عوام میں اعتماد کی فضا قائم ہوئی۔
جموں و کشمیر میں گزشتہ دہشت گردانہ حملوں، جیسے کہ اپریل میں پہلگام حملہ، نے واضح کر دیا تھا کہ خطے میں امن کی صورتحال حساس ہے اور کسی بھی چھوٹے سے غفلت کے نتیجے میں دہشت گرد سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں۔ لیکن مرکزی حکومت کی جامع منصوبہ بندی اور مقامی انتظامیہ کی مسلسل نگرانی نے یہ ثابت کیا کہ دہشت گردی کو مکمل طور پر جڑ سے ختم کرنا ممکن ہے۔ ایسے اقدامات نے نہ صرف سیکیورٹی فورسز کی استعداد بڑھائی بلکہ مقامی عوام میں بھی یقین پیدا کیا کہ امن قائم رکھنے کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ امن اور ترقی کا تعلق ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ کشمیری عوام جان چکے ہیں کہ امن کے بغیر تعلیم، صحت، روزگار، اور بنیادی سہولیات کی ترقی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی انسداد دہشت گردی کی کامیاب پالیسیاں نہ صرف فورسز کی کارکردگی کا مظہر ہیں بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی میں بھی خوشحالی لانے کا سبب بن رہی ہیں۔ امن کی یہ فضا نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر سیکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے، سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے، اور معاشی ترقی کے راستے کھولتی ہے۔
مرکزی حکومت کی یہ کامیاب حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کرنے سے خطے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ نہ صرف سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود کی بلکہ عوام کو یہ احساس بھی دلایا کہ ان کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس سے نہ صرف عوام میں اعتماد بحال ہوا بلکہ امن قائم رہنے کی صورت میں ترقی کے دروازے بھی کھلے۔
اس پس منظر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مرکزی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں نہ صرف قومی سلامتی کے لیے ضروری ہیں بلکہ وہ عوام کی خوشحالی، سماجی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے بھی بنیادی ستون ہیں۔ کشمیری عوام اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ امن اور ترقی آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ جیسے ہی دہشت گردی کا خاتمہ ہوتا ہے، عوام کی زندگی میں سکون آتا ہے اور ترقی کے راستے کھلتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن قائم کرنے کے بعد عوام میں خوشحالی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ مرکزی حکومت کی سخت اور فیصلہ کن پالیسیوں نے نہ صرف دہشت گرد نیٹ ورک کو نقصان پہنچایا بلکہ عوام کو یہ اعتماد دیا کہ ان کی زندگی محفوظ ہے اور ترقی ممکن ہے۔ امن کے بغیر کوئی بھی معاشرتی اور اقتصادی ترقی ممکن نہیں، اور یہی پیغام حکومت کی کامیاب انسداد دہشت گردی کی پالیسی سے اب واضح ہو چکا ہے۔





