کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ راجستھان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ ملی بھگت سے کالے کاروبار کا کھیل کھیل کر عام اور معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ایک اخباری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسی دوائیں بانٹ رہی ہے جن کے نمونے ایک بار نہیں بلکہ 40 بار فیل ہوچکے ہیں، لیکن یہ دوائیں حکومت کی ملی بھگت سے تقسیم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے ایک خبر بھی پوسٹ کی جس میں لکھا تھا، "راجستھان حکومت ایک کمپنی سے دوائیں خرید رہی ہے جس کے 40 نمونے فیل ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں دو بچوں کی موت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ جس کمپنی کے ادویات کے نمونے فیل ہو رہے ہیں اسی کمپنی کو راجستھان کی بی جے پی حکومت نے ریاست بھر میں ادویات کی سپلائی کا ٹھیکہ دیا ہے۔ اس کمپنی کا سیرپ پینے سے سیکر میں دو بچے ہلاک ہوچکے ہیں اور اس کے نمونے تین درجن سے زائد مرتبہ فیل ہوچکے ہیں۔ یہ کمپنی پہلے ہی بلیک لسٹ میں ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ بی جے پی حکومت جو راجستھان کے عوام اور کمیشن کے نام پر معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیل رہی ہے، دوائی کے نام پر مفت ‘موت کا سامان’ تقسیم کر رہی ہے۔










