نئی دہلی، 22 جولائی (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تحریک چلانے والوں پر وعدے سے مکرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں دھاندلی کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرہ کر رہے لوگوں کو بات چیت کے ذریعے حل نکالنے کی یقین دہانی کرائی تھی اور ان سے تحریک کو ملتوی کرنے کی اپیل کی تھی، لیکن وہ یقین دہانی کرانے کے بعد پیچھے ہٹ گئے۔
نئی دہلی سے رکنِ پارلیمنٹ بانسری سوراج نے بدھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہیڈکوارٹر میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں جنتر منتر پر چل رہی تحریک کو لے کر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی ملک کے نوجوانوں کو قوم کا معمار مانتے ہیں۔ انہوں نے وکست بھارت کو مضبوط کرنے کے لیے ‘نوجوانوں کی قیادت والی ترقی’ کے منتر کو بنیاد بنایا ہے۔ اس کا مطلب ہے نوجوانوں کی قیادت میں ملک کو بااختیار بنانا۔ مسٹر مودی اور مودی حکومت طلبہ کے مفادات کو سب سے اوپر رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا، "ہماری سب سے بڑی ترجیح ہمارے بچوں کے مستقبل کی حفاظت ہے۔ میں یہ واضح کر دوں کہ مسٹر مودی خود اور مودی حکومت طلبہ کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب 11 مئی کو معلوم ہوا کہ پیپر لیک ہو گیا ہے تو مودی حکومت نے فوراً کارروائی کی۔” انہوں نے کہا کہ وزارتِ تعلیم نے ایف آئی آر درج کرائی اور جانچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے سپرد کر دی۔ تیرہ ملزمان ابھی بھی جیل میں ہیں۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) کا دوبارہ امتحان صرف 37 دنوں میں کرایا گیا اور نتائج صرف 25 دنوں میں ظاہر کر دیے گئے۔
بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ خامیوں کو دور کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ امتحان پاس کرنے والوں میں 58 فیصد طالبات ہیں۔ مودی حکومت نے بہت ذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے عدالت سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ اس معاملے کی سماعت روزانہ ہو اور گنہگاروں کو جلد از جلد سخت سزا دی جائے، تاکہ طلبہ کو انصاف مل سکے۔ اس دوران انہوں نے نظامِ تعلیم، بالخصوص امتحانی نظام کے مفلوج ہونے کے اپوزیشن کے الزام کو سرے سے مسترد کر دیا اور کہا، "ہم نیٹ کے لیے کمپیوٹر پر مبنی امتحان کی طرف بڑھ رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) نیز جدید نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔”
محترمہ سوراج نے کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے گزشتہ تین مہینوں میں کامیابی کے ساتھ تین امتحانات خوش اسلوبی سے منعقد کیے ہیں۔ جوائنٹ اینٹرنس ایگزامینیشن (جے ای ای)، کامن یونیورسٹی اینٹرنس ٹیسٹ (سی یو ای ٹی) اور نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) کے لیے دوبارہ امتحانات منعقد کیے گئے ہیں۔ اس لیے، یہ کہنا کہ ہندوستان کا نظامِ تعلیم، خاص طور پر امتحانی نظام مفلوج ہو گیا ہے، سراسر جھوٹ اور غلط ہے۔ انہوں نے اس تحریک کو لے کر حکومت کے رویے کے بے حس ہونے کے الزام پر کہا کہ یہ ایک غلط فہمی ہے جو جان بوجھ کر پھیلائی جا رہی ہے۔ سی جے پی اور دیگر پارٹیوں نے ایک تحریک شروع کی اور کہا گیا کہ یہ طلبہ کی تحریک ہے۔ اس تحریک کے تئیں حکومت کا رویہ حساس رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ تحریک کے دوران کئی غلط باتیں اور گمراہ کن دعوے کیے گئے۔ کچھ لوگوں نے ایسے الزامات لگائے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے 12 سال کی ایک بچی کے زخمی ہونے کے دعوے کو بھی غلط بتاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی خبریں اور الزامات صحیح نہیں ہیں اور ان کا استعمال ایک غلط ماحول بنانے کے لیے کیا گیا۔ بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے چھ جون کو امریکہ سے لوٹے، تو دہلی پولیس نے انہیں ہوائی اڈے پر ہی دھرنا دینے کی اجازت دے دی۔ یہ اجازت شام پانچ بجے تک کے لیے تھی۔ پھر بھی پولیس نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ چونکہ احتجاجی مظاہرہ پرامن رہا، اس لیے پولیس نے کسی بھی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔
انہوں نے کہا، "میں آپ سب کے ذریعے اس ملک کے بچوں اور طلبہ سے کہنا چاہتی ہوں کہ آپ بہت سمجھدار ہیں۔ سچ آپ سے چھپا نہیں رہے گا۔ میرے ملک کے نوجوان انتشار کا ذریعہ نہیں ہیں۔ میرے ملک کے نوجوان ہندوستان کے معمار ہیں۔” انہوں نے کہا کہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ انتشار کی علامت ہے۔ یہاں تک کہ جب بغیر کسی اجازت کے پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی گئی، تب بھی حکومت بات چیت کے لیے تیار رہی۔









