نئی دہلی، 22 جولائی (یو این آئی) عام آدمی پارٹی (عآپ) نے جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران خواتین کے ساتھ مبینہ بدتمیزی اور مظاہرین پر طاقت کا استعمال کرنے کے معاملے میں مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو نشانہ بنایا ہے۔
عآپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے ساتھ مبینہ مار پیٹ اور بدتمیزی کرنے والے پولیس افسران کو فوراً نوکری سے نکالا جائے کے بدھ کو مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ متعلقہ افسران کی شناخت ہو جانے کے باوجود اب تک نہ تو کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور نہ ہی کسی کو معطل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ خاتون مظاہرین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کرنے والے پولیس افسران کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر موجود کئی ویڈیوز میں ڈی سی پی سطح تک کے افسران کی شناخت کی جا سکتی ہے اور ان کے نام بھی سامنے آ چکے ہیں، لیکن حکومت کی طرف سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے دہلی پولیس کمشنر سے اس معاملے میں جواب دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران خواتین کے ساتھ بہت زیادہ بدسلوکی کی گئی، نوجوانوں کے ساتھ مار پیٹ کی گئی اور پولیس کے ساتھ سول ڈریس میں موجود لوگوں نے کیل لگے ڈنڈوں سے مظاہرین پر حملہ کیا۔ اس پورے واقعہ پر مرکزی حکومت اور وزیرِ اعظم کی خاموشی کئی سوال کھڑے کرتی ہے۔ عآپ لیڈر نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت واقعی نوجوانوں کی بات سننا چاہتی ہے، تو اسے قصوروار پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کرنا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اگر حکومت کارروائی نہیں کرتی ہے، تو اس سے یہ پیغام جائے گا کہ پولیس کی مبینہ بربریت کو اعلیٰ سطح پر سرپرستی حاصل ہے۔









