نئی دہلی، 7 ستمبر (یواین آئی) مغربی ایشیا کے بحران کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹیں اب کم ہونے لگی ہیں، جبکہ ملکی طلب اور وسیع تر معاشی اعداد و شمار میں مضبوطی کے باعث کاروباری اعتماد کئی سہ ماہیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) نے پیر کو جاری کیے گئے کاروباری اعتماد کے سروے میں یہ بات کہی۔ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں کاروباری اعتماد اشاریہ (بی سی آئی) 60.8 سے بڑھ کر دوسری سہ ماہی میں 66 تک پہنچ گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اضافہ کاروباری توقعات میں وسیع پیمانے پر مضبوطی کی نشاندہی کرتا ہے۔
سی آئی آئی کے ڈائریکٹر جنرل چندرجیت بنرجی نے کہاکہ ’’بی سی آئی میں کاروباری اداروں کی جانب سے ظاہر کی جانے والی مثبت سوچ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستانی معیشت میں مضبوطی برقرار ہے۔ مضبوط ملکی طلب اور مستحکم وسیع تر معاشی اشاریوں کے سہارے کاروباری سرگرمیوں میں مسلسل بہتری اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ حکومت کی معاون پالیسیاں پیداوار اور نئے آرڈرز میں تیزی سے توسیع کی حمایت کریں گی۔‘‘
اس سروے میں مختلف شعبوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والی 240 سے زیادہ چھوٹی اور بڑی کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سروے کے نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ توقع سے بہتر مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے اعداد و شمار محض شماریاتی نتائج نہیں ہیں بلکہ زمینی سطح پر معاشی سرگرمیوں میں آنے والی تیزی کا حقیقی عکاس ہیں۔
مسٹر بنرجی نے کہاکہ ’’صنعت کے نقطۂ نظر میں مثبت تبدیلی آئی ہے اور یہ محض اتفاق نہیں ہے۔ جب کاروباری اعتماد، وسیع تر معاشی اشاریے اور زمینی سطح کی سرگرمیاں ایک ساتھ آگے بڑھتی ہیں تو یہ ایسے ترقی کے چکر کی نشاندہی کرتے ہیں جو زیادہ وسیع، پائیدار اور طویل مدت تک جاری رہنے والا ہوتا ہے۔‘‘





