نئی دہلی، 22 جولائی (یو این آئی) وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام کو دونوں ملکوں کے درمیان عام تعلقات کی پہلی شرط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر توجہ دیے جانے نیز متعلقہ نظام کو اس سمت میں کام کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کیے جانے کی ضرورت ہے۔
مسٹر جے شنکر نے بدھ کو کواڈ اور آسیان ملکوں کی میٹنگوں سے الگ چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔ وزیرِ خارجہ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کازان اور تیانجن کی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بعد سے ہندوستان اور چین کے درمیان تعلقات آہستہ آہستہ معمول پر آرہے ہیں۔ ہندوستان اور چین کے درمیان مستحکم اور باہمی تعاون پر مبنی تعلقات کو کثیر قطبی ایشیا اور کثیر قطبی دنیا کے لیے اہم بتاتے ہوئے انہوں نے کہا، "ہمارا ماننا ہے کہ باہمی احترام، باہمی مفاد اور باہمی حساسیت کی بنیاد پر ہی مستحکم اور تعاون پرمبنی تعلقات استوار کیے جا سکتے ہیں۔ ایسا تعلق کثیر قطبی ایشیا اور کثیر قطبی دنیا میں اہم تعاون دے سکتا ہے۔” سرحد پر امن اور استحکام کو عام تعلقات کے لیے انتہائی ضروری بتاتے ہوئے مسٹر جے شنکر نے کہا، "سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام عام تعلقات کے لیے پہلی شرط ہے۔ اکتوبر 2024 سے، دونوں فریقوں نے اس اہم مقصد کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ اس کے لیے ہمیں مسلسل توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔ اس شعبے میں متعلقہ نظام کی پوری حمایت اور حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ دو بڑے اور اہم پڑوسی ملکوں کے ناطے، ہندوستان اور چین کے اپنے اپنے مخصوص مفادات ہیں اسی لیے اعلیٰ لیڈروں نے اتفاق کیا تھا کہ اختلافات کو تنازع نہیں بننے دینا چاہیے۔ انہیں ٹھیک سے سنبھالنا سفارت کاری کی ذمہ داری ہے۔ وزیرِ خارجہ نے تعلقات کومعمول پرلانے کی سمت میں براہِ راست پروازوں کی بحالی، ویزا نظام کو اپ ڈیٹ کرنے، کیلاش مانسروور یاترا کو پھر سے شروع کرنے اور سرحدی تجارت کو دوبارہ شروع کرنے جیسے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔
مسٹر جے شنکر نے کہا کہ دونوں ملکوں کو اپنے تعلقات کے کچھ اہم پہلوؤں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں منصفانہ مارکیٹ تک رسائی اور تجارتی توازن اہم ہیں۔ سپلائی چین کی معتبریت کے بارے میں بھی تشویشات ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری اور عام لوگوں کے درمیان تبادلے کو آسان بنانے پر توجہ دیے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساتھ ہی دونوں ملکوں کو "اپنی باہمی ترجیحات کے مطابق مختلف نظام اور پلیٹ فارمز کی میٹنگوں پر بھی متفق ہونے کی ضرورت ہے۔” انہوں نے موجودہ عالمی صورتِ حال کو پیچیدہ بتاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اس سال برکس کے صدر کے طور پر چین کی جانب سے ہندوستان کی حمایت کی تعریف کرتا ہے۔








