نئی دہلی، 3 اکتوبر (یو این آئی) وزیرِ خزانہ نرملہ سیتارمن نے جمعہ کے روز کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے حکومت ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے اور اب نجی- سرکاری شراکت داری (پی پی پی) منصوبوں میں نجی شعبے کی دلچسپی بھی نظر آ رہی ہے۔ محترمہ سیتارمن نے یہاں چوتھے کوٹلیہ اقتصادی کانفرنس (کے ای سی) کا افتتاحی خطبہ دیا اور حکومت کی حصولیابیوں کا تذکرہ کیا۔
وزارتِ خزانہ کے تعاون سے انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک گروتھ (آئی ای جی) کے زیرِ اہتمام ’سنگین عالمی غیر یقینی حالات میں خوشحالی’ کے موضوع پر تین روزہ اس کانفرنس میں ملک و بیرون ملک کے ماہرِ اقتصادیات، ماہرین، پالیسی ساز اور عالمی تنظیموں کے نمائندے حصہ لے رہے ہیں۔
محترمہ سیتارمن نے کہا کہ اس وقت پرانے عالمی نظام کی بنیاد اتنی تیزی سے کھسک رہی ہے، کہ آگے کیا ہوگا، اس کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ہندوستانی معیشت اپنی بنیادوں پر قائم ہے، اسی لیے اس دور میں بھی اس کی کارکردگی مضبوط ہے۔
انہوں نے کانفرنس سے ایسی تجاویز اور سفارشات کی امید کی جن سے ایک کثیر قطبی نظام کو مضبوط کیا جا سکے، جو سخت مقابلے کی بجائے تعاون کو فروغ دے اور ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک نئے عالمی نظام کے پیمانے طے کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
اپنے خطاب کے بعد ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان جی ڈی پی کا کتنا فیصد سرمایہ کاری پر خرچ کرنے کا ہدف رکھتا ہے، اس کے لیے وہ کوئی عدد پیش کرنا مناسب نہیں سمجھتیں ، لیکن گزشتہ پانچ برسوں سے حکومتی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حکومتی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اب نظر آ رہا ہے کہ نجی شعبہ بھی سرمایہ کاری بڑھانے میں دلچسپی لے رہا ہے، پی پی پی منصوبوں کی جانب سے اس کی دلچسپی نظر آرہی ہے۔
محترمہ سیتارمن نے یہ بھی کہا کہ حکومت ریاستوں کو بھی اپنے اپنے علاقوں میں اپنی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات میں مدد کر رہی ہے، کوشش ہے کہ ملک کے ہر شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ "ہم بے مثال تبدیلیوں اور غیر یقینی حالات کے اس دور میں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ ایسی دنیا میں واقعہ کہیں بھی ہو، فیصلے کہیں بھی ہوں، وہ ہماری تقدیر کا تعین کرتے ہیں، اسی لیے ہمیں ان میں فعال شراکت داری بنانی ہوگی، جہاں ممکن ہو نتائج کو شکل دینی ہوگی، اور جہاں ضروری ہو، اپنی خود مختاری کا دفاع کرنا ہوگا۔”










