ایک سال پہلے… جی ہاں تقریبا ً ایک سال پہلے جب اپنے گورے گورے بانکے چھورے عمرعبداللہ نے کشمیر میں… جموںکشمیر میں وزارت اعلیٰ کی کرسی سنبھالی تھی تو… تو انہوں نے کہا تھا… یہ کہا تھا کہ مرکز کے ساتھ مخاصمت نہیں بلکہ مفاہمت ہی جموںکشمیر کے حق میں ہے… سو انہوں نے بھی مرکز کے ساتھ مخاصمت کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا… یہ اعلان ایک سال پہلی کی بات ہے… آج ایک سال بعد کی نہیں ‘ بالکل بھی نہیں کہ… کہ آج ایک سال بعد ہم دیکھ رہے ہیں… یہ دیکھ رہے ہیں کہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے کے لب و لہجے سے مفاہمت نہیں بلکہ مخاصمت کی بو آ رہی ہے… یہ جناب آگ اگل رہے ہیں یا اگلنے کی تیاری کررہے ہیں… ہمیں کوئی اعتراض نہیںہے… بالکل بھی نہیں ہے کہ یہ عمر عبداللہ کا حق ہے کہ وہ کون سا لہجہ اختیار کریں اور کون سا نہیں … مفاہمت والا یا مخاصمت والا … لیکن… لیکن ایک بات جو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر ایک سال پہلے مرکز کے ساتھ مخاصمت جموںکشمیر کے حق میں نہیں تھی تو… تو آج ایک سال بعد کیسے ہو سکتی ہے… کیا اس ایک سال میں عمرعبداللہ نے جموں کشمیر کو خود مختار … معاشی طور پر خود مختار اور خودکفیل بنا یا ہے… اتنا خود مختار اور خود کفیل کہ اب جموںکشمیر کو مرکز کی انگلی پکڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے … اور ہماری جو بھی ضرورتیں ہیں وہ ہم خود ہی پورا کرنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں… جواب آپ بھی جانتے ہیں اور ہم بھی… پھر یہ مخاصمانہ لب و لہجہ کیوں … یقینا مرکز نے جموںکشمیر کو ریاستی درجہ دینے کا وعدہ کیا ہے… اور بار بار کیا ہے… اور یہ بھی سچ ہے کہ اس درجے کی بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے… لیکن صاحب اس کا یہ مطلب نہیں ہے … اور بالکل بھی نہیں ہے کہ اس پر مرکز کے ساتھ مخاصمت کا راستہ اختیار کیا جائے… چلئے ایسا ہی کرتے ہیں اور… اور مرکز کے ساتھ مفاہمت کے بجائے مخاصمت کا راستہ اپنائیں گے… لیکن کیا اس راستے پر چل کر عمرعبداللہ اپنی منزل کو پا سکتے ہیں… اگر ان کی منزل جموں کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی ہے تو… تو یقینا وہ اسے نہیں پا سکتے ہیں … بالکل بھی نہیں پا سکتے ہیں… ہاں اگر ان کا ہدف کچھ اور ہے تو… تو صاحب ممکن ہے کہ مرکز سے مفاہمت کے بجائے مخاصمت سے ان کا وہ ہدف پورا ہوجائیگا … لیکن جموں کشمیر پھر بھی اپنے ہدف… ریاستی درجے کی بحالی سے دور نہیں بلکہ بہت دور چلا جائیگا ۔ ہے نا؟



