لداخ… خاص کر لہیہ میں اس وقت کیا ہو رہاہے اور کیا نہیں ‘ ہماری اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے ۔ اس میں دلچسپی مرکزی سرکارکو ہے اور ان سب کی ہے جو موجودہ صورتحال سے کوئی سیاسی فائدہ اٹھانے کی سوچ رہے ہیں… لیکن ہم ٹھہرے عام لوگ… بالکل عام …اس لئے صاحب ہماری لہیہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے… اورہونی بھی نہیں چاہئے کہ… کہ ہمارا اب ان کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے… البتہ ایک بات ضرور ہے جو ہم کہنا چاہتے ہیں اور… اور وہ ایک بات یہ ہے کہ ایسا کم… بہت کم بار ہو تاہے جب ہم سجاد لون کی کسی بات سے اتفاق کرتے ہیں… ایسا بہت کم بارہوتا ہے… اور اللہ میاں کی قسم سجاد صاحب نے لہیہ اور لہیہ واسیوں کے بارے میں جو کچھ کہا ہے ہم اس کی حرف بہ حرف تائید کرتے ہیں… اس لئے نہیں کرتے ہیں کہ لہیہ کے لوگ ہم سے الگ ہونا چاہتے تھے… یقینا ہم اس لئے نہیں کرتے ہیں… یہ تو صاحب ان کا حق تھا … ان کا کیا کسی کا بھی حق ہے کہ وہ کس طرح اور کس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے …اس لئے اگرلہیہ ہم سے الگ ہونا چاہتا تھا اور… اور مرکزی حکومت کی مدد اور مکمل آشیر واد کے ساتھ یہ ہم سے الگ ہوا بھی تو… تو ہمیں کوئی گلہ اور شکوہ نہیں ہے… گلہ اور شکواہ ہے تو… تو صرف اس ایک بات پر ہے کہ انہوں نے کشمیر اور کشمیریوں کو خوب بد نام کیا… ہول سیل میں کیا… با ت بات اور ہر ایک بات پر کیا… ۷۰ سالوں تک کیا…اُس سب کیلئے کیا جو ہم نے کبھی کیا ہی نہیں… بالکل بھی نہیں کیا… اور یہی بات ‘ یہی حقیقت سجاد صاحب ہمیں بتا رہے ہیں ‘ سمجھا رہے ہیں… خاص کر ان لوگوں اور سیاستدانوں کو جو لہیہ کے حالات پر سینہ کوبی کررہے ہیں… حالانکہ یہ بات واضح ہے…یہ کہ مرکز نے جب جموںکشمیر اور لداخ کے حصے بخرے کئے تو… تو اس نے جموںکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کر نے کا وعدہ ضرور کیا… لیکن ایسا کوئی وعدہ لداخ کے ساتھ نہیں کیا گیا اور… اورلہیہ اور اس کے لوگ خوش بھی تھے… اب کیا ہوا جو یہ ریاستی درجہ چاہتے ہیں ‘ ہمیں نہیں معلوم … کہ اگر ہمیں کچھ معلوم ہے تو… تو یہ ایک بات کہ… کہ ہمیں لہیہ کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے… مرکز انہیں ریاست کا درجہ دے تو… تو بسم اللہ ‘ نہ بھی دے تو… تو ایسا ہی سہی کہ اس نے ایسا کوئی وعدہ کیا بھی نہیں تھا … بالکل بھی نہیں کیا تھا ۔ ہے نا؟



