ہم نہیں جانتے ہیں اور بالکل بھی نہیں جانتے ہیں کیا ہوا ہے… لیکن کچھ تو ضرور ہوا ہے ۔اگر کچھ نہیں ہوا ہوتا تو لداخ کے لوگ سڑکوں پر ہوتے اور نہ ریاستی درجے کے مطالبے کیلئے اپنی جان تک کی قربانی دیتے ۔کچھ ضرور ہوا ہے‘ جو اتنی بڑی تبدیلی آئی ہے… لداخ میں آئی ہے ۔ورنہ سچ تو یہ ہے کہ لداخ خوش تھا ‘ کشمیر… جموںکشمیر کے حصے بخرے ہونے پر خوش تھا… کشمیر سے الگ ہونے پر خوش تھا… ایک یونین ٹریٹری بننے پر خوش تھا… کہ… کہ یہ لداخیوں کا ایک بڑا مطالبہ تھا … یہ مطالبہ کہ اسے کشمیر اور کشمیریوں کے غلبے سے آزاد کر کے ایک یونین ٹیریٹری میں تبدیل کیا جائے… اس مطالبے پر مرکز نے سر تسلیم خم کرتے ہو ئے لداخ کو کشمیر اور کشمیریوں کے غلبے سے آزاد کیا… انہیں آزادی دلائی اور… اور ایک یونین ٹریٹری میں تبدیل بھی کیا… عام طور پر سرکا ر اپنے وعدوں سے مکر جاتی ہے… ان سے انحراف کرتی ہے… لیکن یہاں تو معاملہ کچھ اور ہی ہے… سچ تو یہ ہے کہ لداخ میں معاملہ الٹا ہے کہ یہاں مرکز ی حکومت نے اپنے وعدوں سے کوئی انحراف نہیں کیا ہے… بلکہ الٹا لداخ کے لوگ اپنے مطالبے سے منحرف ہو گئے ہیں…گرچہ انہیں یو نین ٹیریٹری کا درجہ ان کی مانگ پر دیا گیا … اور آج لداخی ریاستی درجے کیلئے سڑکوں پر آ رہے ہیں… احتجاج کررہے ہیں… مظاہرے کررہے ہیں… پتھراؤ کررہے ہیں اور… اور اس کے جواب میں لداخ کے معصوم اور نہتے اپنی جانوں سے ہاتھ بھی دھو رہے ہیں کہ… کہ مطالبے کے حق میں مظاہرے کے دوران چار لوگوں … چار شہریوں کی ہلاکت کوئی معمولی بات نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے… اسی لئے تو صاحب ہم کہہ رہے ہیں کہ کچھ تو ضرور ہوا ہے… اور کیا ہوا ہے یہ ہم نہیں جانتے ہیں… ہاں لیکن ممکن ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں لداخ اور اس کے واسیوں کی سمجھ میں یہ بات آئی ہو گی کہ… کہ ان کی جموںکشمیر سے الگ ہونے کی مانگ… یونین ٹیریٹری میں بدلنے کا مطالبہ عملی طور پر ان کے حق میں ثابت نہیں ہوا ہے… اس سے انہیںکوئی فائدہ نہیں ‘ الٹا نقصان پہنچ گیا ہے… اسی لئے آج یہ سڑکوں پر نکل آئے ہیںاور… اور اُس چیز کا مطالبہ کررہے ہیں جو کہیں کسی جگہ نصاب میں بھی نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے ۔ ہے نا؟



