دنیا کی جدید تاریخ میں اگر کسی ادارے نے سب سے زیادہ امیدیں باندھی ہیں تو وہ اقوام متحدہ ہے۔ دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد وجود میں آنے والا یہ عالمی ادارہ انسانی برادری کے لیے امن و امان، تعاون، انصاف اور ترقی کا ضامن قرار پایا۔
مگر سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود یہ ادارہ اپنی اصل روح اور مقصد کے مطابق دنیا کے بڑے تنازعات کو حل کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ پر کی جانے والی تنقید دراصل ایک بڑی حقیقت کی عکاس ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اقوام متحدہ خود ناکام ہے یا اس کی ناکامی کے پیچھے طاقتور ممالک کے سیاسی مفادات کارفرما ہیں؟
صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ پر یہ الزام عائد کیا کہ یہ ادارہ عالمی تنازعات کے حل کی کوشش ہی نہیں کرتا اور اپنے بنیادی کردار سے غافل ہوچکا ہے۔ بظاہر یہ ایک سخت اور تنقیدی موقف ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود امریکہ سمیت سلامتی کونسل کے دیگر پانچ مستقل اراکین نے اپنے ویٹو اختیارات کے ذریعے اس ادارے کو عملی طور پر غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس …یہ پانچوں ممالک اپنی سیاسی ترجیحات کے مطابق ویٹو پاور استعماال کرتے ہیں۔ کسی بھی قرارداد یا فیصلے کو اگر ان میں سے کوئی ایک ملک ویٹو کر دے تو وہ قرارداد مسترد ہو جاتی ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جس نے اقوام متحدہ کو اقوام عالم کے لیے انصاف کی علامت بننے سے روک دیا ہے۔
جب اقوام متحدہ قائم ہوئی تو سلامتی کونسل کو یہ خصوصی اختیار دیا گیا کہ وہ دنیا میں امن قائم رکھنے کے لیے اقدامات کرے۔ لیکن ساتھ ہی پانچ بڑی طاقتوں کو ویٹو پاور دی گئی تاکہ ان کی منظوری کے بغیر کوئی فیصلہ نافذ نہ ہو سکے۔ اس کی وجہ بظاہر یہ تھی کہ عالمی امن کے لیے ضروری ہے کہ بڑی طاقتیں متفق ہوں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ اختیار طاقتوروں کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار بن گیا جس نے کمزور اقوام کے مسائل کو دبانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اگر ہم اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو سب سے زیادہ ویٹو کا استعمال امریکہ نے کیا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کے حق میں ویٹو کا سہارا لیا۔ فلسطین کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کو عالمی سطح پر روکنے کی ہر کوشش امریکہ کے ویٹو کے باعث ناکام ہوئی۔ یوں اقوام متحدہ ایک تماشائی ادارے کی شکل اختیار کر گیا، جو دنیا کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے بڑی طاقتوں کے مفادات کا نگہبان بن کر رہ گیا۔
ویتنام جنگ، عراق پر حملہ، افغانستان کی جنگ، شام کی خانہ جنگی… ان تمام معاملات میں امریکہ نے اقوام متحدہ کو نظرانداز کیا اور یکطرفہ کارروائیاں کیں۔ یوں یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ جب بڑی طاقتوں کے مفادات داؤ پر ہوں تو اقوام متحدہ کی حیثیت ایک کاغذی شیر سے زیادہ نہیں رہتی۔
اگرچہ امریکہ سب سے زیادہ تنقید کی زد میں ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ روس اور چین نے بھی اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ویٹو کا بھرپور استعمال کیا۔ شام کے تنازع میں روس نے کئی بار سلامتی کونسل کی قراردادیں ویٹو کیں تاکہ بشار الاسد کی حکومت پر دباؤ نہ ڈالا جا سکے۔ چین نے بھی افریقی ممالک اور خاص طور پر سوڈان کے حوالے سے اپنے معاشی مفادات کی خاطر ویٹو پاور کا سہارا لیا۔ یوں دیکھا جائے تو ویٹو ایک ایسا ہتھیار ہے جو دنیا کے بڑے تنازعات کو سلجھانے کے بجائے مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
اس صورتِ حال نے کمزور اور ترقی پذیر ممالک کو شدید مایوسی سے دوچار کیا ہے۔ فلسطینی عوام ہوں یاکوئی اور ہر جگہ اقوام متحدہ کی بے بسی نے انسانیت کو شرمندہ کیا۔ جہاں بھی انسانی حقوق کی پامالی ہوئی، طاقتور ممالک نے اپنے مفادات کو ترجیح دی اور اقوام متحدہ کو بے اثر بنا دیا۔
ایک عام تاثر یہ بن چکا ہے کہ اقوام متحدہ دراصل ’طاقتوروں کا کلب‘ ہے، جہاں انصاف اور اصول نہیں بلکہ مفادات کی سیاست غالب ہے۔ یہ ادارہ بڑی طاقتوں کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔
آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اقوام متحدہ کو اس کے اصل مقصد کے مطابق فعال بنایا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب صرف اسی وقت ہاں میں دیا جا سکتا ہے جب ویٹو پاور کے نظام پر نظر ثانی ہو۔ کئی بار یہ مطالبہ اٹھایا جا چکا ہے کہ سلامتی کونسل کی رکنیت کو مزید ممالک تک بڑھایا جائے یا ویٹو کے اختیار کو ختم کر دیا جائے، تاکہ فیصلے واقعی اقوام عالم کی اجتماعی رائے کی عکاسی کریں۔ لیکن چونکہ ویٹو پاور رکھنے والے ممالک ہی اصلاحات پر فیصلہ کرتے ہیں، اس لیے یہ کام آج بھی ایک خواب ہی معلوم ہوتا ہے۔
اگر اقوام متحدہ کو واقعی موثر بنانا ہے تو ویٹو پاور کے استعمال کو محدود کرنا ہوگا۔ کم از کم انسانی حقوق کی پامالی اور انسانی المیوں سے متعلق قراردادوں میں ویٹو کا حق ختم کیا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر اقوام متحدہ کی ساکھ مزید کمزور ہوگی اور دنیا میں اس کا وقار ختم ہوتا چلا جائے گا۔
اگرچہ صدر ٹرمپ کی تنقید سیاسی مفاد کے تحت کی گئی، مگر اس میں ایک بڑی حقیقت پوشیدہ ہے۔ اقوام متحدہ واقعی تنازعات کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ لیکن اس ناکامی کی سب سے بڑی ذمہ داری خود امریکہ پر عائد ہوتی ہے، جو اس ادارے کو بار بار اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھاتا رہا ہے۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ ٹرمپ کی تنقید ’چور مچائے شور‘کے مترادف ہے۔ امریکہ وہ ملک ہے جس نے سب سے زیادہ ویٹو استعمال کیا، اقوام متحدہ کے فیصلوں کو نظر انداز کیا اور یکطرفہ جنگیں چھیڑ کر عالمی امن کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ ایسے میں اگر امریکہ اقوام متحدہ پر انگلی اٹھاتا ہے تو یہ دنیا کے ساتھ ایک مذاق ہی سمجھا جائے گا۔
۔۔





