سرینگر/۲۴ ستمبر
لیفٹیننٹ گورنر‘منوج سنہا نے نیشنل ڈیفنس کالج میں زیرِ تربیت بھارتی مسلح افواج، سول سروسز اور دوست ممالک کے سینئر افسران کے ایک وفد سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں آپریشن سندور ہندوستان کے حالیہ تاریخ کے جرأت مندانہ ترین فوجی اقدامات میں سے ایک تھا۔ اْنہوں نے کہا کہ متوازن اسٹریٹیجک ضبط و تحمل اور جارحانہ کارروائی نے دہشت گردی کے خلاف ایک نئی سرخ لکیر کھینچ دی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’اگر مستقبل میں ہندوستان پر کوئی دہشت گرد حملہ ہوا تو اسے جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا اور اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ہندوستان نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی ایٹمی بلیک میلنگ برداشت نہیں کی جائے گی اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ٹھیک نشانے کے ساتھ فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی‘‘۔
سرحدی علاقوں کی ترقی کے بارے میں بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم نے یہ وڑن دیا کہ سرحدی دیہات کو ’آخری گاؤں‘ نہیں بلکہ ’پہلا گاؤں‘ سمجھا جائے۔ اْن کا کہنا تھا کہ اس اصطلاح کی تبدیلی نے ان علاقوں کی اہمیت کو اْجاگر کیا ہے کیونکہ یہ نہ صرف ملک کی پہلی دفاعی لائن ہیں بلکہ اْن کی جامع ترقی ہماری ترجیح ہے۔
ایل جی نے کہا’’ہم نے یہاں جموں کشمیر میں سرحدی علاقوں کی ترقی کے لیے اقتصادی نمو، سلامتی اور سماجی و ثقافتی انضمام کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے ایک اسٹریٹیجک نقطۂ نظر اپنایا۔ ہم نے مضبوط ربط و ضبط قائم کیا تاکہ تجارت اور سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔ بہت سے علاقے جو ۱۹۴۷سے بجلی سے محروم تھے، اْنہیں گرڈ پاور اور انٹرنیٹ سے جوڑا گیا، جس سے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئی‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ ہندوستان کا قدیم منتر اور نصب العین ’وسودھیو کٹمبکم ‘ (ساری دنیا ایک خاندان ہے) آفاقی اخوت اور عالمی اتحاد کا راستہ دکھائے گا۔










