نئی دہلی، 29 اگست (یو این آئی) زراعت اور خدمات کے شعبے کی مضبوط کارکردگی کی بدولت موجودہ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 7.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔
مرکزی شماریاتی دفتر نے جمعہ کے روز جاری اعداد و شمار میں بتایا کہ پہلی سہ ماہی میں مستحکم قیمتوں پر ملک کی جی ڈی پی 47.89 لاکھ کروڑ روپے رہی جو پچھلے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے 44.42 لاکھ کروڑ روپے سے 7.8 فیصد زیادہ ہے ۔ یہ مالی سال 2023-24 کی چوتھی سہ ماہی کے بعد سب سے بڑی شرح نمو ہے ۔ مالی سال 2024-25 کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی ترقی کی شرح 6.5 فیصد تھی۔
موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جن شعبوں میں بڑی ترقی ہوئی، ان میں زراعت، مویشی پروری، جنگلات اور ماہی گیری کی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی جبکہ ایک سال قبل یہ 1.5 فیصد تھی۔
مالیات، رئیل اسٹیٹ اور پیشہ ورانہ خدمات کی شرح نمو 6.6 فیصد سے بڑھ کر 9.5 فیصد ہو گئی۔
تجارت، ہوٹل، نقل و حمل، مواصلات اور نشریات سے متعلق خدمات کی شرح نمو ایک سال پہلے کی 5.4 فیصد کے مقابلے میں 8.6 فیصد رہی۔
اس کے علاوہ، پہلی سہ ماہی میں مینوفیکچرنگ کے شعبہ کی شرح نمو 7.7 فیصد رہی جو پچھلے سال کی اسی سہ ماہی میں 7.6 فیصد تھی۔
عوامی انتظامیہ، دفاع اور دیگر خدمات کی شرح نمو 9.0 فیصد سے بڑھ کر 9.8 فیصد ہو گئی۔
بجلی، گیس، پانی کی فراہمی اور دیگر یوٹیلٹی خدمات کے شعبے میں بڑی کمی دیکھی گئی اور اس کی شرح نمو صرف 0.5 فیصد رہی۔ پچھلے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ 10.2 فیصد تھی۔
کان کنی کے شعبے کی ترقی کی شرح صفر سے نیچے 3.1 فیصد رہی، یعنی اس شعبے میں سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ ایک سال قبل اس کی شرح نمو 6.6 فیصد تھی۔










