ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

کشمیر میں شادی کی تقریبات فضول خرچی کا اشتہار بن گئی ہیں

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-08-26
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

کشمیر میں اس وقت شادیوں کا سیزن جوبن پر ہے اور ہر روز سینکڑوں نوجوان ازدواجی رشتے سے منسلک ہو جاتے ہیں۔کشمیر جیسے معاشرے میں آج بھی شادی بیاہ کو ایک مقدس بندھن سمجھا جاتا ہے اور اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے‘لیکن یہ حقیقت ہے کہ شادی بیاہ کی تقریبات دکھاوے اور اسراف کی ایک علامت بن گئی ہیں۔
شادی ایک مقدس سماجی ادارہ ہے جو دو انسانوں اور ان کے خاندانوں کو محبت، رفاقت اور ذمہ داری کے رشتے میں جوڑتا ہے۔ کشمیر میں شادی ہمیشہ سے ایک روحانی، تہذیبی اور سماجی اہمیت رکھنے والا موقع رہا ہے۔ ماضی میں یہاں کی شادیاں سادگی اور برادری کے اشتراک کی علامت تھیں، جہاں اصل مقصد خاندانوں کو قریب لانا اور نئی زندگی کا آغاز کرنا ہوتا تھا۔ مگر بدقسمتی سے وقت کے ساتھ ساتھ شادی بیاہ کی رسومات نے اپنی اصل روح کھو دی ہے اور یہ ایک طرح کی نمائش اور فضول خرچی کا ذریعہ بن گئی ہیں۔
آج کے کشمیر میں شادیاں اکثر ایک ایسی معاشرتی دوڑ کا منظر پیش کرتی ہیں جس میں ہر کوئی دوسروں سے بڑھ کر دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ بے جا اسراف، مہنگا جہیز، لمبی باراتیں، درجنوں اقسام کاوَزوان اور ہزاروں مہمان اس موقع کو خوشی کے بجائے بوجھ میں بدل دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علماء ، دانشور اور عام لوگ بار بار یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ شادیوں کو سادہ اور کم خرچ بنایا جائے تاکہ معاشرے میں سکون، برابری اور دینی تعلیمات کی پاسداری ہو سکے۔
اسلام نے جہیز اور اسراف کی سختی سے مذمت کی ہے۔ مگر کشمیر میں آج یہ رویہ الٹ نظر آتا ہے۔ شادی ایک دینی فریضہ ہونے کے بجائے دولت کی نمائش بن گئی ہے۔اگر ہم اپنی شادیوں کو مذہبی اصولوں کے مطابق کریں تو نہ صرف والدین کو سکون ملے گا بلکہ نکاح آسان اور برکتوں والا ہوگا۔
لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔ہم اس کے برعکس کررہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں شادی سب سے بڑا معاشی بوجھ بن چکی ہے۔ متوسط اور غریب گھرانوں کو اپنی بچیوں کی شادی کے لیے برسوں بچت کرنی پڑتی ہے۔ بعض اوقات والدین قرضوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ شادی خوشی کا دن نہیں بلکہ فکر و اضطراب کا سبب بن جاتا ہے۔ اگر شادیوں کو سادہ بنایا جائے تو خاندان قرضوں اور دباؤ سے آزاد ہو سکتے ہیں۔
شادیوں میں اسراف کی وجہ سے ایک بڑا مسئلہ تاخیر شدہ شادیاں ہیں۔ والدین معاشرتی دباؤ کے باعث اپنی بچیوں کی شادی کو اس وقت تک مؤخر کرتے ہیں جب تک وہ زیادہ سے زیادہ اخراجات کے قابل نہ ہو جائیں۔
اس تاخیر سے نہ صرف گھریلو مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ نوجوان ذہنی دباؤ اور اخلاقی مشکلات کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ سادہ اور کم خرچ شادی اس مسئلے کو بڑی حد تک حل کر سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وادی میں ہزاروں گھرانے ایسے ہیں جو غربت اور بھوک سے دوچار ہیں۔ ایسے ماحول میں کھانے کی بربادی گناہ اور غیر اخلاقی رویہ ہے۔ اگر شادیوں کو سادہ بنایا جائے اور محدود کھانا رکھا جائے تو یہ وسائل کا تحفظ ہوگا اور غربت زدہ طبقے کے ساتھ انصاف بھی۔
شادیوں میں اسراف نے معاشرتی نابرابری کو بڑھا دیا ہے۔ امیر خاندان اپنی دولت دکھانے کیلئے بے تحاشا خرچ کرتے ہیں جبکہ غریب خاندان دباؤ میں آکر اپنی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہ منفی مقابلہ بازی نہ صرف لوگوں کو قرضوں میں ڈبوتی ہے بلکہ دلوں میں حسد اور نفرت بھی پیدا کرتی ہے۔ اگر شادیاں سب کے لیے سادہ ہوں تو یہ برابری، اخوت اور سکون کو فروغ دے گی۔
کشمیر میں شادی کے اخراجات زیادہ تر لڑکی کے والدین پر ڈالے جاتے ہیں۔ جہیز کا دباؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ بعض والدین بیٹی کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔
سونے کے زیورات، قیمتی کپڑے، برقی آلات اور حتیٰ کہ گاڑیاں دینا آج کل رواج بن گیا ہے۔ یہ رواج نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ خواتین کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کرتا ہے۔ سادہ شادیاں اس غلط روایت کو ختم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جو اسراف آج شادیوں میں دیکھا جا رہا ہے وہ کشمیری تہذیب کا حصہ نہیں۔ ماضی میں شادیاں نہایت سادہ، مقامی روایات اور گیتوں کے ساتھ ہوتی تھیں۔ اصل کشمیری کلچر میں دکھاوا یا فضول خرچی نہیں تھی۔سادگی کو اپنانے سے ہم اپنی اصل ثقافت کی طرف لوٹ سکتے ہیں جہاں محبت، اخوت اور برادری کی شمولیت اصل روح تھی۔
شادی ایک بابرکت اور خوشی کا موقع ہے، مگر کشمیر میں یہ اکثر والدین اور نوجوانوں کے لیے فکر و پریشانی کا سبب بن جاتی ہے۔ اسراف، دکھاوا، جہیز اور فضول مقابلہ بازی نے اس ادارے کو بوجھ بنا دیا ہے۔اگر ہم اپنی شادیوں کو اسلامی تعلیمات اور اپنی اصل ثقافت کے مطابق سادہ اور کم خرچ بنائیں تو نہ صرف خاندانوں کو سکون ملے گا بلکہ معاشرے میں عدل، محبت اور برابری بھی فروغ پائے گی۔ یہ قدم ذہنی دباؤ کم کرنے، غربت کے بوجھ کو ہلکا کرنے اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ کشمیر کے عوام اجتماعی طور پر یہ عزم کریں کہ وہ شادیوں کو نمائش کے بجائے سادگی اور اخوت کا ذریعہ بنائیں گے۔ اس سے نہ صرف معاشرہ بہتر ہوگا بلکہ آنے والی نسلیں بھی ایک صحت مند، خوشحال اور پْرامن سماج کا حصہ بن سکیں گی۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

منڈیٹ نہیں موقع دیا تھا !

Next Post

سِنر، سویاتک، کوکو گاف اور نائومی اوساکا نے اپنے میچ جیت لئے

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر آخر سبز کیوں نہیں؟

2026-07-08
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جَل جیون مشن:

2026-07-07
Next Post

سِنر، سویاتک، کوکو گاف اور نائومی اوساکا نے اپنے میچ جیت لئے

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.