جموں کشمیر کا شعبہ صحت ڈھانچہ برسوں سے کئی چیلنجز کا شکار رہا ہے۔ جدید ہسپتالوں کی کمی، ماہر ڈاکٹروں کی قلت، سپر اسپیشلٹی علاج کے محدود مراکز اور مریضوں پر دہلی یا چندی گڑھ جیسے شہروں کا مہنگا سفر۔ ایسے حالات میں اونتی پورہ، ضلع پلوامہ میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کا قیام ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ادارہ صرف ایک ہسپتال نہیں بلکہ ایک جامع منصوبہ ہے جو علاج، میڈیکل ایجوکیشن، ریسرچ اور معاشی ترقی کے دروازے کھولے گا‘ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کی تکمیل میں تاخیر پہ تاخیر ہو رہی ہے اور ہر چھ آٹھ ماہ بعد ایک نئی ڈیڈ لائن دی جاتی ہے ۔
قانون ساز اسمبلی کے ممبران کی ایک کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ اونتی پورہ میں زیر تعمیر آل انڈیا انسٹچوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) آئندہ سال کے آخر میں چالو ہونے کا امکان ہے۔زیر تعمیر ادارے میں ایم بی بی ایس کورسز اگلے سال جولائی میں شروع ہونے کی توقع ہے ۔
اگلے سال کے آخر میں چالو ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ابھی ایمس اونتی پورہ کو پایہ تکمیل تک پہنچنے میں مزید ۱۶ ماہ لگیں گے ۔لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ نئی دیڈ لائن بھی حمتی ثابت ہو گی کیونکہ اب تک ایسی کئی ڈیڈ لائنیں گزر چکی ہیں ‘ لیکن اس ادارے کا کام مکمل ہو نے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔
اس کی آخری ڈیڈ لائن جنوری ۲۰۲۵ تھی لیکن جب یہ گزر گئی تو کہا گیا کہ کام مکمل ہو نے میں مزید ۶ تا ۸ ماہ لگیں گے ۔ جبکہ یہ مدت بھی ختم ہو گئی تو اب ایمس اونتی پورہ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ‘ ایس موہنتی نے اسمبلی ممبران کی اس کمیٹی کو بتایا ہے کہ ادارہ اگلے سال کے آخر میں تیار ہو جائیگا ۔لیکن کوئی نہیں جانتا ہے کہ آیا اس نئی ڈیڈ لائن تک بھی ایمس اونتی پورہ چالو ہو جائیگا یا نہیں ۔
مرکزی حکومت نے ۲۰۱۹ میں جموں و کشمیر کے لیے دو ایمس کو منظوری دی…ایک جموں میں اور دوسرا اونتی پورہ میں۔ جبکہ ایمس جموں مکمل ہو چکا ہے اور گزشتہ سال وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کا افتتاح کیا تھا ، ایمس اونتی پورہ پیچھے رہ گیا ہے ۔
تاخیر متعدد چیلنجوں کی وجہ سے ہے ، جن میں تعمیراتی مواد کی نقل و حمل کے لیے اہم رسائی والی سڑکوں پر اراضی کے حصول کے تنازعات ؛ آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد کی رکاوٹیں اور پابندیاں ؛ قریبی فوجی اڈے کے ساتھ کچھ منظوریوں میں تاخیر اور کووڈ۱۹ وبائی امراض کے اثرات اور سخت موسمی حالات کی وجہ سے پیش رفت سست ہوتی ہے۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ ان رکاوٹوں کے باوجود ، گذشتہ دو سالوں میں تعمیر میں تیزی آئی ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ چار تعلیمی بلاکس ، کئی اسپتال بلاکس اور ہاسٹل بلاکس پر کام تکمیل کے قریب ہے۔
ایمس اونتی پورہ پروجیکٹ ، جس کی تخمینہ لاگت۱۸۲۸ کروڑ روپے ہے ، میں ۵۷ عمارتوں کی تعمیر شامل ہے ، جس میں ایک ہزار بستروں والا ہسپتال (۳۰۰ سپر اسپیشلٹی بیڈ)۱۰۰ طلباء کے لیے ایک میڈیکل کالج ، ۶۰ طلباء کے لیے ایک نرسنگ کالج ، ہاسٹل ، رہائشی کوارٹر ، ادویاتی پودوں والے باغات اور کھیلوں کی سہولیات جیسے فٹ بال گراؤنڈ اور ٹینس کورٹ شامل ہیں۔
اونتی پورہ اور آس پاس کے علاقوں کے رہائشیوں نے حکومت سے اس منصوبے میں تیزی لانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خطے کو جدید طبی سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کے مریضوں کے مقابلے کشمیر میں مریضوں کو علاج تک رسائی حاصل کرنے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جن کے پاس ایمس دہلی اور پی جی آئی چندی گڑھ جیسی سہولیات تک آسان رسائی ہے۔
مقامی لوگوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں ایمس پروجیکٹوں کو بیک وقت منظوری دی گئی تھی ، لیکن اونتی پورہ پیش رفت میں پیچھے ہے۔
ایک بار مکمل ہونے کے بعد ، ایمس اونتی پورہ جدید طبی خدمات فراہم کرکے اور ریاست سے باہر کی سہولیات پر مریضوں کے انحصار کو کم کرکے کشمیر کے صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دے گا۔
ہزاروں کشمیری مریض ہر سال دہلی اور دیگر شہروں کا سفر کرتے ہیں، جو نہ صرف مہنگا بلکہ ذہنی اور جسمانی طور پر بھی تھکا دینے والا عمل ہے۔ایمس اونتی پورہ کے قیام سے مریضوں کو علاقائی سطح پر ہی سستا اور معیاری علاج دستیاب ہوگا، جس سے دور دراز دیہات کے لوگ بھی مستفید ہوں گے۔
اہلِ کشمیر برسوں سے اس احساس کا شکار رہے ہیں کہ انہیں بڑے شہروں کے برابر صحتی سہولتیں نہیں ملتیں۔ ایمس اونتی پورہ اس محرومی کا ازالہ کرے گا اور صحت کے شعبے میں مساوات قائم کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہوگا۔ یہ ادارہ نہ صرف علاج بلکہ قومی یکجہتی کی ایک علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
اونتی پورہ کا قیام صرف ایک اسپتال کی تعمیر نہیں بلکہ کشمیر کے صحتی شعبے میں ایک انقلاب ہے۔ یہ ادارہ علاج، تعلیم، تحقیق اور روزگار کے مواقع کو یکجا کر کے وادی میں نئی صبح لے کر آئے گا۔ آنے والے برسوں میں یہ ادارہ ہر کشمیری کے لیے اس بات کی ضمانت ہوگا کہ معیاری اور جدید علاج اب دہلی یا ممبئی کا محتاج نہیں، بلکہ خود کشمیر میں ہی دستیاب ہے۔لیکن ایسا تب ہی ممکن ہو پائیگا جب ڈیڈ لائن پہ ڈیڈلائن کے بجائے ایمس اونتی پورہ میں جاری تعمیراتی کام کو جنگی بنیادوں پر ہاتھ میں لیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے منتخبہ عوامی نمائندوں کو جو ڈیڈلائن دی ہے اس کے اندر اسے چالو کیا جائے تاکہ وادی کے لوگوں کو اعلیٰ اور معیاری طبی سہولیات دستیاب ہو سکیں۔





