اب صاحب ہم کیا کہیں… چھوٹا منہ بڑی بات ہو جائیگی… جب عدالت عظمیٰ نے کہا ہے …اس نے منہ کھولا ہے اور کچھ بولا ہے تو … تو ہم کیا کہیں کہ… کہ اگر ہم کچھ کہیں گے تو لوگ ہمیں یہ منہ اور مسور کی دال کا طعنہ دیں گے… اورسو فیصد دیں گے ۔ اس لئے صاحب ہم کچھ نہیں کہیں گے سوائے اس ایک بات کے کہ … کہ عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ آوارہ کتوں کو رہائشی والے علاقوں سے کہیں دور پھینکا جائے … اور بغیر کسی تاخیر کے پھینکا جائے۔ یقینا عدالت عظمیٰ کا یہ حکم سرینگر یا کشمیر کیلئے نہیں تھا… بلکہ این سی آر دہلی کیلئے تھا … لیکن صاحب جس مسئلے کا دہلی کو سامنا ہے… وہاں کی آبادی کو ہے وہی مسئلہ یہاں کی آبادی کو بھی ہے… وہی مسئلہ ہمیں بھی در پیش ہے… کہ کم بخت ان کتوں… آوارہ کتوں نے ہماری ناک میں دم کرکے رکھ دیا ہے…آواراہ کہیں کے! خود تو جہاں چاہیں گھوم پھر لیتے ہیں… آزاد ی سے گھوم پھر لیتے ہیں لیکن… لیکن ہماری آزادی چھین لی ہے‘ اسے ہتھیا لیا ہے‘ اس پر قبضہ کر لیا ہے اور… او ر ہمیںگھروں میں یوں سمجھ لیجئے مقید کر رکھا ہے کہ… کہ جب بھی گھرسے قدم باہر رکھنا ہو تا ہے … ایسا لگتا ہے کہ جیسے میدان جنگ کی جانب ہمارے یہ قدم بڑھ رہے ہیں کہ… آگے میدان جنگ تو نہیں ہو تا ہے… لیکن میدان… کتوں کے میدان ہی میدان ‘ سڑکیں ہی سڑکیں ‘ گلی اور کوچے ہی کوچے ہو تے ہیں… یقینا ہم بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ نہیں بن رہے ہیں…اور بالکل بھی نہیں بن رہے ہیں… جانتے ہیں کہ یہ حکم نامہ دہلی کیلئے مخصوص ہے… لیکن صاحب کہتے ہیں کہ اب دہلی اور سرینگر کی تمام کی تمام دوریاں ختم ہو گئی ہیں… مٹ گئی ہیں… دل اور دہلی کی دوریاں ختم ہو گئی ہیں… اس لئے ہم چاہتے ہیں… ہماری خواہش ہے کہ عدالت عظمی نے دہلی کے آوارہ کتوں کو ٹھکانے کی جو ہدایت دی ہے اس پر یہاں بھی … اپنے کشمیر میں بھی عمل کیا جائیگا… کیوں خصلت کشمیر کے کتوں… آوارہ کتوں کی بھی وہی ہے… جو دہلی کے کتوں… آوارہ کتوں کی ہے…اس میں رتی بھر فرق نہیں ہے… تو صاحب پھر کیجئے نا انہیں بھی سرینگر بدر… انہیں بھی سرینگر اور دوسرے قصبوں سے دور بھگا دیجئے… اور پھینک آئیے تاکہ … تاکہ ہم بھی ان سے نجات پائیں…ان کتوں… آوازہ کتوں سے ۔ ہے نا؟



