جموں/۴اپریل
جموں کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ذریعہ بیوروکریسی میں 48 درمیانے درجے کے افسروں کے تبادلوں کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر سنیل شرما نے جمعہ کو نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت کو اس اقدام پر سوال اٹھانے کے لئے تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ تبادلے ان کے دائرہ اختیار میں کیے گئے تھے۔
چار دن قبل افسران کے تبادلے نے راج بھون اور جموں و کشمیر حکومت کے درمیان تازہ ترین تنازعہ کھڑا کردیا ہے ، جو ایل جی کے اقدام کو جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ کے تحت قانونی اور انتظامی فریم ورک کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتا ہے۔
بی جے پی رہنما نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اکتوبر 2019 میں نافذ ہونے والے قانون کے تحت لاءاینڈ آرڈر سے متعلق تمام تبادلے ایل جی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
شرما نے کہا”ایل جی نے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کیا ہے“۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے اس معاملے پر بلائی گئی میٹنگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تبادلے معمول کے ہیں اور قانون کے مطابق ہیں۔
نیشنل کانفرنس پر دہائیوں سے جموں و کشمیر کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھنے کا الزام لگاتے ہوئے شرما نے کہا کہ برسراقتدار پارٹی یہ تسلیم کرنے میں ناکام رہی ہے کہ’وہ دور ختم ہو چکا ہے“اور جموں و کشمیر اب پڈوچیری اور دہلی کی طرح ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے اور اس کے مطابق حکومت کرتا ہے۔
شرما نے یہ بھی نشاندہی کی کہ وزیر اعلیٰ اور دیگر وزراءبھی اپنے متعلقہ محکموں میں تبادلے کرتے ہیں، جس میں پرنسپلز، لیکچررز اور دیگر عہدیداروں کی تقرریاں بھی شامل ہیں۔
پی بے پی یونٹ صدر نے انتخابات کے دوران عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہنے پر این سی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے وعدے کے مطابق 200 یونٹ مفت بجلی فراہم نہیں کی۔ ان کی راشن اسکیم صرف دو سال کے لیے ہے، پھر بھی ان کا دعویٰ ہے کہ یہ پانچ سال تک چلے گی۔
شرما نے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کرنے کے پیچھے نیشنل کانفرنس کے ارادے پر بھی سوال اٹھایا۔” عوام کو سمجھنا چاہئے کہ یہ مطالبہ ریاست کی فلاح و بہبود کےلئے ہے یا ذاتی طاقت اور اثر و رسوخ کےلئے ہے“۔
پریس کانفرنس کے دوران شرما نے نائب وزیر اعلی سریندر کمار چودھری کی رہائش گاہ پر سابق وزیر ہرش دیو سنگھ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے واقعات حکمراں پارٹی کی مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
دریں اثنا جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر ست پال شرما نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ 6 اپریل سے شروع ہونے والے تین روزہ دورے پر جموں و کشمیر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیں گے اور سرکاری اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔
شرما نے پارلیمنٹ میں وقف بل کی منظوری کے لئے بی جے پی حکومت کی بھی ستائش کی۔