منگل, ستمبر 1, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home قومی خبریں

آرجی کار میڈیکل کالج و اسپتال میں عصمت دری معاملے کی سی بی آئی جانچ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2024-08-14
in قومی خبریں
A A
سب انسپکٹر بھرتی گھوٹالہ:جموں اور سرینگر میں سی بی آئی کے چھاپے

Central Bureau of Investigation (CBI) official

FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ  کا ’آئین اور شریعت کے تحفظ ‘ کیلئے ملک گیر تحریک کا اعلان

اسکائی روٹ ایرواسپیس نوجوانوں کی صلاحیت، عزم اور کاروباری جذبے کی علامت ہے: مودی

کلکتہ//کلکتہ ہائی کورٹ نے آر جی کار اسپتال میں جونیئر ڈاکٹر کے ساتھ عصمت دری اور قتل معاملے میں سی بی آئی جانچ کا حکم دیا ہے ۔ منگل کو چیف جسٹس ٹی ایس شیوگنم نے کیس کی ڈائری کا جائزہ لینے کے بعد یہ حکم دیا۔ ساتھ ہی ہائی کورٹ نے کہا کہ ریاست کے قبضے میں موجود تمام معلومات اور دستاویزات سی بی آئی کو سونپ دی جائیں۔ عدالت نے پولس کے ذریعہ جمع کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کو بھی سی بی آئی کے سونپنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔
چیف جسٹس نے آر جی کار اسپتال عصمت دری کیس میں پولیس کے کردار پر ناراضگی کا اظہار کیا ۔ منگل کو آر جی کار کیس میں دائر مفاد عامہ کے پانچ مقدمات کی ایک ساتھ سماعت ہوئی۔ دوران سماعت درخواست گزاروں نے کئی اہم سوالات کھڑے کئے ۔۔ منگل کی سماعت کے دوران ریاست کی طرف سے کیس ڈائریاں پیش کی گئیں۔ ریاستی حکومت نے دوپہر ایک بجے تک کیس ڈائری عدالت میں جمع کرادی۔ چیف جسٹس نے اس رپورٹ کو دیکھ کر پولیس کے کردار پر سوال اٹھائے ۔
منگل کی سماعت میں متوفی کے خاندان کے وکیل بکاس رنجن بھٹاچاریہ نے کہا کہ پہلے تو کسی نے گھر والوں کو فون کیا اور کہا کہ آپ کی بیٹی بیمار ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے دوبارہ فون کیا اور کہا کہ آپ کی بیٹی نے خودکشی کر لی ہے ۔ اس پر ریاستی حکومت نے بھی عدالت کو بتایا کہ خاندان کا دعویٰ درست ہے ۔ متوفی کے اہل خانہ کو دو بار فون کیا گیا۔ ریاست نے عدالت کو بتایا کہ یہ اسپتال کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ تھے جنہوں نے متوفی کے اہل خانہ کو فون کیا۔ تاہم ریاست نے عدالت میں اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ فون پر کیا کہا گیا۔
منگل کو عدالت میں اس انکوائری کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے جو سب سے پہلے آر جی کار اسپتال عصمت دری اور قتل کیس میں غیر فطری موت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ریاستی وکیل نے عدالت کو بتایاکہ ایسے اہم معاملات میں ہمیشہ غیر فطری موت کا مقدمہ درج کیا جاتا ہے ۔ پہلے تو کسی نے شکایت نہیں کی۔ اس لیے کہا گیا کہ یہ غیر فطری موت ہے ۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پولس سے اس طرح کی حرکت کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے ۔کیا لاش سڑک کے کنارے سے برآمد ہوئی؟ اسے غیر معمولی موت کیوں کہا گیاہے ؟ اسپتال کا ایک سپرنٹنڈنٹ اور پرنسپل ہوتا ہے ۔ آپ نے پرنسپل کو انعام دیا۔ کیس ازخود کیوں نہیں بنتا؟ ۔
اس کے بعد چیف جسٹس نے اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے ریاستی وکیل سے کہا کہ وہ عدالت کے اندر کیس کے دستاویزات سی بی آئی کو سونپ دیں۔ کیس کی اگلی سماعت تین ہفتوں کے لیے مقرر کی گئی ہے ۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ سی بی آئی اگلی سماعت میں تحقیقات میں پیش رفت کی رپورٹ پیش کرے ۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پیر کی صبح متوفی ڈاکٹر کے گھر گئی تھیں ۔ گھر والوں سے بات کی اس موقع پر۔پولس کمشنر ونیت گوئل بھی موجود تھے ۔ اہل خانہ سے ملاقات کے بعد وزیر اعلیٰ نے پولیس کی تفتیش کے ٹائم فریم کے بارے میں بات کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر اتوار تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتی ہے تو اس واقعہ کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی جائے گی۔ بکاس رنجن بھٹا چاریہ نے منگل کی سماعت میں اس موضوع کو اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کو مزید وقت کیوں دیا جائے کہ فوری سی بی آئی تحقیقات کا حکم دینے کی درخواست بھی عرضی گزاروں نے کی تھی۔ چیف جسٹس نے درخواست پر سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ جمعہ کو آر جی کار میڈیکل کالج کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی چوتھی منزل سے ایک خاتون ڈاکٹر کی لاش خون آلود حالت میں برآمد ہوئی تھی۔ اس واقعہ سے ریاست میں ہلچل مچ گئی۔ آر جی کار کے جونیئر ڈاکٹروں نے قتل اور عصمت دری کے الزامات لگا کر ہڑتال شروع کی ۔ بعد میں کلکتہ شہر کے تمام میڈیکل کالجوں میں ڈاکٹرس ہڑتال پر چلے گئے ۔
آر جی کار میڈیکل کالج کے ڈاکٹر کے قتل کے حوالے سے کئی حقائق پہلے ہی سامنے آچکے ہیں۔ ان تمام حقائق سے واضح ہے کہ نوجوان خاتون کو وحشیانہ تشدد کرکے قتل کیا گیا۔ اس واقعے میں پولیس پہلے ہی ایک سیوک پولس کو گرفتار کر چکی ہے ۔ واقعے میں کسی اور کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ ملزم کو ہفتہ کو سیالدہ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے 14 دن کی پولیس تحویل کا حکم دیا۔ دوسری جانب آر جی کار اسپتا ل کیس کے حوالے سے متعدد مفاد عامہ کی درخواستیں ہائی کورٹ میں دائر کی گئیں۔ منگل کو چیف جسٹس کی عدالت میں اس کیس کی سماعت ہوئی۔
بنیادی طور پر عوامی مفاد عامہ کے تحت ہائی کورٹ میں تین عرضیاں دائر کی گئی تھیں۔ ان میں ایک عرضی میں اس معاملے کی آزادانہ ایجنسی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عرضی گزاروں کی درخواست تھی کہ سی بی آئی یا کسی اور غیر جانبدار ایجنسی کو اس واقعہ کی تحقیقات سونپی جائے ۔ اس کے علاوہ مدعیان نے درخواست کی ہے کہ اس واقعہ میں کون ملوث ہے اس کی فوری طور پر تحقیقات کرکے اسے منظر عام پر لایا جائے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ عدالت اس سلسلے میں ضروری ہدایات دے ۔ تمام سرکاری ہسپتالوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی بھی درخواست کی گئی تھی۔ مدعیان کے مطابق ہسپتال کی ہر منزل کے مرکزی دروازے پر سی سی ٹی وی کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے ۔یواین آئی۔نور

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

پیرس اولمپکس؛ منو بھاکر، نیرج چوپڑا کی شادی کی خبریں گردش کرنے لگیں

Next Post

ایک منتخب حکومت کو پرچم لہرانے سے روکنا انتہائی افسوس ناک : سسودیا

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ   کا ’آئین اور شریعت کے تحفظ ‘  کیلئے ملک گیر تحریک کا اعلان
اہم ترین

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ  کا ’آئین اور شریعت کے تحفظ ‘ کیلئے ملک گیر تحریک کا اعلان

2026-09-01
اسکائی روٹ ایرواسپیس نوجوانوں کی صلاحیت، عزم اور کاروباری جذبے کی علامت ہے: مودی
قومی خبریں

اسکائی روٹ ایرواسپیس نوجوانوں کی صلاحیت، عزم اور کاروباری جذبے کی علامت ہے: مودی

2026-08-31
سونم وانگچک معاملے پر کھرگے کا مرکز پر حملہ، بولے- جنتر منتر کا واقعہ جمہوریت پر سیاہ دھبہ
قومی خبریں

سونم وانگچک معاملے پر کھرگے کا مرکز پر حملہ، بولے- جنتر منتر کا واقعہ جمہوریت پر سیاہ دھبہ

2026-08-31
زمین کے ریکارڈ اور ڈیجیٹل لون کو جوڑنے کے لیے وزارتِ دیہی ترقی اور آر بی آئی کے درمیان میٹنگ
قومی خبریں

زمین کے ریکارڈ اور ڈیجیٹل لون کو جوڑنے کے لیے وزارتِ دیہی ترقی اور آر بی آئی کے درمیان میٹنگ

2026-08-31
پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
قومی خبریں

وزیر اعظم نے وکرم یان بنانے والی کمپنی اسکائی روٹ کے بانیوں کو مبارکباد دی

2026-08-31
وانگچک کی حالت مستحکم، لیکن علاج سے کیا انکار: صفدر جنگ ہسپتال
قومی خبریں

وانگچک کی حالت مستحکم، لیکن علاج سے کیا انکار: صفدر جنگ ہسپتال

2026-08-31
وانگچک کوجنترمنتر سے ہٹانا ،طلبا کی آواز دبانا غلط : راہل
قومی خبریں

وانگچک کوجنترمنتر سے ہٹانا ،طلبا کی آواز دبانا غلط : راہل

2026-08-31
قومی خبریں

ویشنو اور دھامی نے دکھائی رام نگر-دہرادون ایکسپریس کو ہری جھنڈی

2026-08-31
Next Post
کورونا کیسز میں اضافہ تشویش کی بات نہیں: سسودیا

ایک منتخب حکومت کو پرچم لہرانے سے روکنا انتہائی افسوس ناک : سسودیا

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.