حیدرآباد/نئی دہلی// جی-20 کے ایگریکلچر ورکنگ گروپ (اے ڈبلیو جی) کے تحت وزراء کی تین روزہ میٹنگ آج حیدرآباد میں ایک زبردست انداز میں شروع ہوئی۔ اجلاس میں رکن ممالک، مدعو ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے 200 سے زائد مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔
وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ میٹنگ میں ترجیحی زراعت کے شعبوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے ۔ یہ شعبہ اس سال کے ایگریکلچر ورکنگ گروپ کی بنیاد ہیں۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں غذائی تحفظ اور غذائیت کے تئیں مکمل عزم کا اظہارکیا گیا ہے ، اسی کے مطابق پالیسیاں بنائی گئی ہیں اور ان کے کامیاب نفاذ کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے ۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ اس بار جی-20 کی صدارت وزیر اعظم کی قابل قیادت میں ہندوستان کی ذمہ داری ہے ۔ اس کے تحت 15-17 جون 2023 کے دوران حیدرآباد میں ایگریکلچر ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد کیا جارہا ہے ۔ مسٹر تومر نے بتایا کہ ایگریکلچر ورکنگ گروپ کے ترجیحی شعبے فوڈ سیکورٹی اور نیوٹریشن ہیں جس میں زرعی تنوع کو فروغ دینے اور غذائی تحفظ کو بڑھانے کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے ۔ دوسرا، موسمیاتی سمارٹ اپروچ کے ساتھ پائیدار زراعت جس میں آب و ہوا کی لچکدار ٹیکنالوجیز اور زراعت کے نظام کے ماڈلز پر توجہ دی جائے تاکہ پائیدار زرعی پیداوار اور سبز اور موسمیاتی لچکدار زراعت کے لیے فنانسنگ ہو۔ تیسرا، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے ، ٹیکنالوجی کے اشتراک اور سرمایہ کاری اور چھوٹے اور پسماندہ کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کے لیے اقتصادی مواقع بڑھانے کے ذریعے ویلیو چینز کی لچک اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے جامع زرعی ویلیو چینز اور فوڈ سسٹم ڈیولپ کئے جارہے ہیں۔
مسٹر تومر نے کہا کہ ہندوستان زراعت کے شعبے میں بہت خوشحال اور طاقتور ہے اور زراعت کے شعبے کے عالمی مفاد میں اپنے علم اور تجربے کا اشتراک کرتا ہے ، جس کے لیے ہم مستقبل میں بھی تیار رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ نو سالوں میں ملک میں زرعی شعبے میں کئی نئی جہتیں قائم ہوئی ہیں جن کے ذریعے چھوٹے کسانوں کی فلاح و بہبود بنیادی مقصد ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کے پیش نظر زرعی شعبے کے مفاد میں فیصلے کیے گئے ہیں۔ اس سمت میں ہندوستان کی پہل پر اقوام متحدہ کی طرف سے اعلان کردہ جوار کا بین الاقوامی سال (شری انا) ملک اور دنیا میں منایا جا رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان فصلوں کے تنوع کے حوالے سے کسانوں میں بیداری بھی لا رہا ہے ۔









