سیاستدان لڑتے ہیں……. ایک دوسرے سے لڑتے ہیں، اور ان کا ایک دوسرے سے لڑنا برا نہیں ہوتا……. بالکل بھی نہیں، کیونکہ ان کی لڑائی ذاتی نہیں ہوتی۔ وہ لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے ہوتی ہے، ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہوتی ہے۔ سیاست میں ایسا ہی ہوتا ہے، ہر جگہ ہوتا ہے، لیکن صاحب! اپنے کشمیر میں نہیں، بالکل بھی نہیں۔یہاں بھی سیاستدان ایک دوسرے سے لڑتے ہیں، ایک دوسرے کو نوچ لیتے ہیں، ایک دوسرے کو برہنہ کرتے ہیں، لیکن ان کی یہ لڑائی نہ لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے ہوتی ہے اور نہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے۔ ان کی لڑائی، یا یوں کہیے لڑائیاں، ذاتی نوعیت کی ہوتی ہیں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہوتی ہیں، ایک دوسرے کو ننگا کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ہمیں یاد نہیں، بالکل بھی یاد نہیں کہ کشمیر کی سیاسی جماعتیں یا سیاستدان آخری بار کب لوگوں کے لیے ایک دوسرے سے لڑ پڑے تھے……. اللہ میاں کی قسم، ہمیں یاد نہیں، بالکل بھی نہیں۔ اللہ میاں کی قسم، ہمیں شرم آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے کہ ہمارے حصے میں یہ کوڑا اور کچرا کہاں سے آ گیا اور کیوں آ گیا۔دو روز پہلے پی ڈی پی کے لیڈروں نے ایک لمبی چوڑی پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے ہندواڑہ کے سجاد لون پر الزامات کی بارش کر دی۔ یہ الزامات ہول سیل میں ذاتی نوعیت کے تھے، ان کا عوام سے کوئی تعلق نہیں تھا…….بالکل بھی نہیں تھا۔سجاد لون کہاں چپ بیٹھنے والے تھے۔ سو، وہ اگلے دن پھٹ پڑے، عملاً پھٹ پڑے، اور مرحومین تک کو انہوں نے نہیں بخشا، بالکل بھی نہیں بخشا۔ ان کے جوابی حملوں کی نوعیت بھی ذاتی تھی، اور سو فیصد ذاتی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو ایجنسیوں کی پیداوار، یا ایجنسیوں کا ’آدمی‘، قرار دے رہے تھے۔ہم حیران ہیں، حیران سے زیادہ پریشان کہ ہمارے ان بے شرم سیاستدانوں کو آخر کب عقل آئے گی؟ کب حوصلہ اور سلیقہ آئے گا؟ کب ان کی اس ناسمجھ سمجھ میں یہ بات آئے گی کہ اپنی ذاتی لڑائیاں عوام کے سامنے لانے سے عوام کا کچھ بھلا ہونے والا نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔ہم نہیں جانتے کہ کشمیر میں کون ایجنسیوں کی پیداوار ہے اور کون نہیں، لیکن ایک بات ہم ضرور جانتے ہیں……. یہ جانتے ہیں کہ ایجنسیوں کو بھی شرم آتی ہوگی……. اس بات پر شرم آتی ہوگی کہ انہوں نے کن بے شرموں کو تخلیق کیا، وجود بخشا اور …….اور پھر کشمیریوں پر مسلط کر دیا۔ہے نا؟



