کمال ہے۔ اللہ میاں کی قسم، کمال ہے۔ یہ کمال ہے کہ آپ سیاست کو کتنا بھی برا کہیں، اس سے کتنی بھی نفرت کریں، لیکن اس میں ایسا کچھ تو ہے جو کسی اور شعبے میں نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔آپ اپنی ساری عمر سرکار کی خدمت میں گزار دیتے ہیں۔ آپ کے دن رات اور رات دن، دن کا سکون اور راتوں کا آرام، سب اسی خدمت کے نذر ہو جاتا ہے……. لیکن……. لیکن جونہی آپ ۶۰ سال کے ہوتے ہیں، آپ کو چلتا کیا جاتا ہے……. یقیناً عزت سے کیا جاتا ہے، لیکن چلتا تو کیا ہی جاتا ہے……. یہ سوچ کر کہ اب آپ ۶۰ سال کے ہو گئے ہیں، اس لیے اب آپ ہمارے کسی کام کے نہیں رہے……. اس لیے آپ کو ریٹائر کر دیا جاتا ہے۔سبکدوشی کی عمر صرف سرکاری محکموں میں ہی نہیں بلکہ کارپوریٹ دنیا میں بھی مقرر ہے۔ ایک مخصوص عمر پر وہاں بھی آپ کو دروازہ دکھا دیا جاتا ہے……. اور آپ گھر بیٹھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں……. آپ کو لگتا ہے کہ ۶۰ سال کی عمر میں اب آپ سے کچھ نہیں ہو پائے گا۔لیکن……. لیکن صاحب! سیاست میں ایسا نہیں ہے……. اور بالکل بھی نہیں ہے۔ نہ سیاست جوائن کرنے کی کوئی عمر مقرر ہے اور نہ ہی اسے چھوڑنے کی۔اپنے آخون صاحب……. محمد سعید آخون صاحب……. ۷۶ سال کے ہیں……. یعنی اگر یہ جناب سرکاری ملازم ہوتے تو آج سے ۱۶ سال پہلے ریٹائر ہو چکے ہوتے……. لیکن دیکھیے، ۷۶ سال کی عمر میں یہ جناب اپنی سیاسی زندگی کا ایک نیا باب شروع کر رہے ہیں۔ الطاف بخاری کی اپنی پارٹی میں شامل ہو کر انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا ایک نیا سفر شروع کیا ہے۔ہمیں اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے……. اور بالکل بھی نہیں ہے……. کہ آخون صاحب اپنی پارٹی میں شامل ہو کر اب کون سا تیر ماریں گے۔ ہمیں اس میں یقیناً کوئی دلچسپی نہیں ہے……. ہمیں اس سے بھی کوئی غرض نہیں کہ یہ جناب نیشنل کانفرنس کے ساتھ ایک عمر گزارنے کے بعد اس جماعت کو الوداع کیوں کہہ گئے۔ یہ سب باتیں……. ان سب باتوں میں ہماری کوئی دلچسپی نہیں ہے۔دلچسپی اگر ہے تو صرف اس ایک بات میں ہے کہ ۷۶ سال کی عمر میں کسی نئے شعبے میں نئی شروعات کرنے کا آپشن شاید صرف سیاست میں ہی موجود ہے……. کسی اور پیشے میں شاید نہیں……. بالکل بھی نہیں۔اس لیے سیاست زندہ باد!ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔




