ہفتہ, اگست 1, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

پیلٹ:انصاف کا ایک ہی معیار ہونا چاہیے

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-01
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

جمہوریت کی اصل طاقت صرف انتخابات، پارلیمنٹ اور آئینی اداروں میں نہیں بلکہ اس اصول میں پوشیدہ ہوتی ہے کہ قانون، انصاف اور انسانی حقوق ہر شہری کے لیے یکساں ہوں۔ اگر ایک ہی نوعیت کے دو واقعات پر سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ، سول سوسائٹی اور میڈیا کا ردعمل مختلف ہو تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا انصاف کے پیمانے بھی بدل گئے ہیں؟ آج دہلی کے جنتر منتر میں مبینہ طور پر پیلٹ گن کے استعمال کے بعد ملک میں جو سیاسی ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے، اس نے یہی بنیادی سوال پھر زندہ کر دیا ہے۔

۲۰ جولائی کو جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پیلٹ گن کے مبینہ استعمال کے بعد قائد حزب اختلاف راہل گاندھی وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کانگریس اور دوسری اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ میں مسلسل احتجاج کر رہی ہیں اور حکومت سے جواب طلب کر رہی ہیں۔ اگر واقعی پرامن مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی گئی ہے تو یقیناً اس کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کا تعین بھی ہونا چاہیے۔ کسی جمہوری معاشرے میں شہریوں کے بنیادی حقوق سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ

ایل جی سنہا کا ’غیر قانونی‘ ہوٹلوں کی تعمیر کا انکشافـ:

کشمیر کی بیٹ انڈسٹری‘ایک مثبت کہانی

لیکن اسی کے ساتھ ایک ایسا سوال بھی موجود ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

آج جو سیاسی جماعتیں دہلی میں چند طلبہ کے پیلٹ سے زخمی ہونے پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہیں، کیا انہوں نے کبھی اپنے ماضی کا بھی جائزہ لیا ہے؟ کیا انہوں نے یہ یاد رکھنے کی کوشش کی ہے کہ جموں و کشمیر میں پیلٹ گن کو پہلی مرتبہ کس دور میں متعارف کرایا گیا تھا؟

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال پہلی مرتبہ ۲۰۱۰ میں کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دور میں شروع ہوا۔ اس وقت ملک کے وزیر داخلہ پی چدمبرم تھے جبکہ جموں و کشمیر میں عمر عبداللہ کی حکومت قائم تھی۔ اس فیصلے کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر پیش کیا گیا جو مبینہ طور پر گولی سے کم مہلک تھا، لیکن آنے والے برسوں نے ثابت کر دیا کہ اس ہتھیار نے ہزاروں زندگیاں بدل ڈالیں۔

اگر آج راہل گاندھی امت شاہ سے اخلاقی ذمہ داری کی بنیاد پر استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں تو یہ سوال بھی پوری دیانت داری سے پوچھا جانا چاہیے کہ ۲۰۱۰ میں یہی اخلاقی اصول پی چدمبرم پر کیوں لاگو نہیں کیا گیا؟ اس وقت نہ پارلیمنٹ میں ایسا شور برپا ہوا، نہ استعفے کا مطالبہ سامنے آیا اور نہ ہی کانگریس نے اس ہتھیار کے استعمال پر سنجیدہ نظرثانی کی ضرورت محسوس کی۔ اگر آج اخلاقی ذمہ داری ایک اصول ہے تو پھر یہی اصول ماضی پر بھی یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ۲۰۱۰ کے بعد ۲۰۱۶ میں جموں و کشمیر نے پیلٹ گنوں کے استعمال کا شاید اپنی تاریخ کا سب سے المناک دور دیکھا۔ ہزاروں افراد اس ہتھیار کا نشانہ بنے۔ سینکڑوں نوجوان ہمیشہ کے لیے اپنی بینائی سے محروم ہو گئے۔ سرکاری اعداد و شمار اور مختلف اداروں کی رپورٹس اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ پیلٹ گن صرف ہجوم منتشر کرنے کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ اس کے نتیجے میں مستقل جسمانی معذوری اور ناقابل تلافی انسانی نقصان بھی سامنے آیا۔

ان متاثرین میں انشا مشتاق کی کہانی آج بھی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ صرف چودہ برس کی عمر میں وہ اپنے گھر میں امتحان کی تیاری کر رہی تھیں جب پیلٹ ان کے چہرے پر لگے اور ان کی دونوں آنکھوں کی روشنی ہمیشہ کے لیے چلی گئی۔ انشا اکیلی نہیں تھیں۔ ایسے بے شمار نوجوان، بچے اور عام شہری تھے جن کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل گئیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر کی داستانیں کبھی قومی بحث کا حصہ ہی نہیں بن سکیں۔

یہاں اصل سوال کسی ایک حکومت یا کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ سیاسی رویوں کا ہے۔ اگر دہلی میں چند زخمی طلبہ کے لیے پورا سیاسی نظام متحرک ہو سکتا ہے تو جموں و کشمیر میں ہزاروں متاثرین کے لیے ایسی ہی بے چینی کیوں پیدا نہیں ہوئی؟ اگر آج پارلیمنٹ میں مسلسل احتجاج ہو سکتا ہے تو اس وقت خاموشی کیوں اختیار کی گئی؟ اگر آج انسانی حقوق کی بات کی جا رہی ہے تو کل یہی حساسیت کہاں تھی؟

راہل گاندھی آج دہلی کے متاثرہ طلبہ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، جو ان کا جمہوری حق ہے، لیکن ایک جمہوری معاشرے میں سوال پوچھنے کا حق بھی اتنا ہی اہم ہے۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ جب ۲۰۱۰ میں انہی کی جماعت مرکز میں برسر اقتدار تھی اور پیلٹ گن کو جموں و کشمیر میں متعارف کرایا گیا، تب کانگریس نے اس کے ممکنہ نتائج پر کیا موقف اختیار کیا؟ پھر ۲۰۱۶ میں جب وادی میں ہزاروں نوجوان پیلٹ کا نشانہ بنے، تب راہل گاندھی نے اسی شدت کے ساتھ ان متاثرین کے لیے آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ اگر آج وزیر داخلہ سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو کیا ماضی میں بھی یہی معیار اپنایا گیا تھا؟

یہ سوالات اس لیے نہیں اٹھائے جا رہے کہ موجودہ حکومت کو کسی قسم کی چھوٹ دی جائے۔ اگر دہلی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی ہے تو اس کی مکمل، آزاد اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور اگر کسی نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو اسے قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔ لیکن انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ماضی کے واقعات کو سیاسی سہولت کی خاطر فراموش نہ کیا جائے۔

بدقسمتی سے ہمارے سیاسی نظام میں انسانی حقوق کا معاملہ بھی اکثر سیاسی مفادات کے تابع ہو جاتا ہے۔ جب ہماری اپنی جماعت اقتدار میں ہوتی ہے تو خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے، اور جب مخالف جماعت اقتدار میں ہو تو وہی مسئلہ جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہی دوہرا معیار عوام کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔

یہ وقت کسی ایک جماعت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے سے زیادہ ایک قومی خود احتسابی کا ہے۔ کانگریس کو بھی اپنے ماضی کے فیصلوں اور خاموشیوں کا جواب دینا چاہیے اور موجودہ حکومت کو بھی اپنے ہر اقدام کی مکمل جوابدہی قبول کرنی چاہیے۔ جمہوریت میں اخلاقی ذمہ داری صرف مخالفین کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اپنے لیے بھی ہوتی ہے۔

پیلٹ گن کے بارے میں بھی اب ایک واضح قومی پالیسی کی ضرورت ہے۔ اگر گزشتہ سولہ برسوں کے تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس ہتھیار کے استعمال سے مستقل جسمانی معذوری، خصوصاً بینائی کے ضیاع، کا شدید خطرہ موجود ہے تو پھر اس کے استعمال پر ازسرنو سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ ایسے ہتھیار کے بارے میں فیصلہ سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسانی جان اور شہری حقوق کے تناظر میں ہونا چاہیے۔

آخر میں اصل سوال نہ امت شاہ کا ہے، نہ پی چدمبرم کا اور نہ ہی صرف راہل گاندھی کا۔ اصل سوال انصاف کی ساکھ کا ہے۔ اگر ایک ہی ملک میں شہریوں کے بنیادی حقوق کا معیار حالات، حکومتوں اور سیاسی مفادات کے مطابق بدلنے لگے تو پھر انصاف اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتا ہے۔ ایک طالب علم دہلی میں زخمی ہو یا جموں و کشمیر میں، ایک نوجوان کی آنکھ دارالحکومت میں ضائع ہو یا وادی میں، اس کا دکھ ایک جیسا ہے، اس کے حقوق ایک جیسے ہیں اور انصاف کا معیار بھی ایک جیسا ہونا چاہیے۔

جمہوریت کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ انصاف کو سیاست سے بلند رکھے۔ کیونکہ انصاف اگر سب کے لیے برابر نہ ہو تو پھر وہ انصاف نہیں، محض سیاسی مصلحت کا دوسرا نام رہ جاتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

کولگام میں دہشت گردوں  کی فائرنگ، غیر مقامی مزدور ہلاک، دوسرا زخمی

Next Post

آخون نے اپنی پارٹی کو اپنایا

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

ایل جی سنہا کا ’غیر قانونی‘ ہوٹلوں کی تعمیر کا انکشافـ:

2026-07-30
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

کشمیر کی بیٹ انڈسٹری‘ایک مثبت کہانی

2026-07-29
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

 حج درخواستوں میں تشویشناک کمی:

2026-07-28
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

جنتر منتر احتجاج اور کشمیری سیاستدان

2026-07-26
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

مہنگائی بڑھتی رہی، حکومت خاموش رہی

2026-07-25
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

ہماری اپنی غلطیاں تباہی کو دعوت دے رہی ہیں

2026-07-23
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

2026-07-22
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
Next Post
سازش۔۔۔۔۔۔۔؟

آخون نے اپنی پارٹی کو اپنایا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.