ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

سری نگر میں آوارہ کتوں کا بڑھتا خطرہ!

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-05-16
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

وادی میں بالعموم اور سرینگرشہر میں با الخصوص آوارہ کتوں کا بڑھتا ہوا خطرہ اب ایک سنگین عوامی صحت بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں کشمیر میں آوارہ کتوں کے حملوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق۲۰۲۲ سے۲۰۲۵ کے درمیان جموں و کشمیر میں دو لاکھ سے زائد کتوں کے کاٹنے کے معاملات درج ہوئے، جن میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ سری نگر رہا۔ روزانہ درجنوں افراد اینٹی ریبیز مراکز کا رخ کرتے ہیں۔ بچوں، خواتین اور معمر افراد میں خوف کی فضا بڑھتی جا رہی ہے۔ سری نگر کے کئی علاقوں خصوصاً نٹی پورہ، راجباغ، امیرا کدل، بلیوارڈ روڈ اور پولو ویو کے اطراف لوگوں کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔

متعلقہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

یہ صورتحال اس وقت مزید توجہ طلب بن جاتی ہے جب اسمارٹ سٹی منصوبوں کے باوجود عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کریں۔ اگر خوبصورت فٹ پاتھوں، جدید روشنیوں اور سیاحتی راہداریوں پر چلنے والا شہری یا سیاح خود کو آوارہ کتوں کے خوف سے محفوظ نہ سمجھے تو پھر ترقیاتی منصوبوں کی افادیت سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ ایک شہر صرف عمارتوں، پلازوں اور سڑکوں سے ’اسمارٹ‘ نہیں بنتا بلکہ اُس کی اصل شناخت عوامی تحفظ، نظم و نسق اور شہری سکون سے وابستہ ہوتی ہے۔

کشمیر میں آوارہ کتوں کے مسئلے کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ کچرے کا غیر سائنسی انتظام ہے۔ بازاروں، اسپتالوں، ہوٹلوں اور رہائشی علاقوں کے اطراف کھلے کچرے کے ڈھیر کتوں کے لیے خوراک کا مستقل ذریعہ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی افزائش میں تیزی آ رہی ہے۔ اگرچہ سری نگر میونسپل کارپوریشن نے گھر گھر سے کچرا جمع کرنے کی مہم شروع کی، مگر اس پر مکمل عمل درآمد اب بھی ایک چیلنج ہے۔ دوسری طرف نس بندی اور ویکسینیشن پروگرام محدود پیمانے پر چلائے گئے، جن کا دائرہ زیادہ تر شہری علاقوں تک محدود رہا۔

حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف کتوں کی موجودگی کا نہیں بلکہ اُن کے جارحانہ رویّے، ریبیز کے خطرے اور عوامی خوف کا ہے۔ ایک بچہ جو اسکول جاتے ہوئے کتوں کے جھنڈ سے خوفزدہ ہو، ایک بزرگ جو فجر کی نماز کے لیے نکلتے وقت ڈر محسوس کرے، یا ایک خاتون جو شام کے بعد پارک میں جانے سے گریز کرے یہ سب ایک مہذب شہری زندگی کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔

تاہم اس مسئلے کا حل جذباتی نعروں یا محض طاقت کے استعمال میں نہیں۔ آوارہ کتوں کو مارنے یا اُن کے خلاف تشدد اختیار کرنے سے مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں ہوگا۔ جانوروں کے تحفظ کے قوانین اپنی جگہ موجود ہیں اور ایک مہذب معاشرہ جانوروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانوں کے تحفظ اور جانوروں کی فلاح کے درمیان ایک متوازن، سائنسی اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔

دنیا کے کئی ممالک نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر ماڈل اپنائے ہیں۔ نیدرلینڈز، تھائی لینڈ اور بھوٹان جیسے ممالک نے’کیپچر، نیوٹر، ویکسینیٹ اینڈ ریلیز‘ یعنی CNVR ماڈل کے ذریعے آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پایا۔ اس طریقہ کار کے تحت کتوں کو پکڑ کر اُن کی نس بندی اور ویکسینیشن کی جاتی ہے اور بعد میں انہیں منظم انداز میں چھوڑا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف کتوں کی تعداد میں کمی آتی ہے بلکہ ریبیز کے خطرات بھی کم ہوتے ہیں۔ کشمیر میں بھی اسی طرز پر بڑے پیمانے پر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مخصوص ڈاگ شیلٹرز یا پناہ گاہوں کا قیام بھی ناگزیر ہے۔ گنجان آبادی والے علاقوں سے آوارہ کتوں کو منتقل کرکے ایسی جگہوں پر رکھا جا سکتا ہے جہاں اُن کی دیکھ بھال بھی ممکن ہو اور شہری آبادی بھی محفوظ رہے۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ کی حالیہ ہدایات بھی اہمیت رکھتی ہیں، جن میں ریاستی اداروں کو جانوروں کے لیے مخصوص شیلٹر قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ حکومت کو ایک مستقل ’ڈاگ مینجمنٹ اتھارٹی‘ قائم کرنی چاہیے جو میونسپل کارپوریشن، محکمہ صحت اور ویٹرنری اداروں کے ساتھ مل کر مربوط پالیسی مرتب کرے۔ اس اتھارٹی کی ذمہ داریوں میں نس بندی، ویکسینیشن، شکایات کا فوری ازالہ، شیلٹر ہومز کا انتظام اور کچرے کے نظام کی نگرانی شامل ہونی چاہیے۔ محض وقتی مہمات اور نمائشی اقدامات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر منصوبے واضح اہداف اور وقت کی پابندی کے بغیر شروع کیے جاتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی اس بحران پر قابو پانا چاہتی ہے تو پانچ سالہ واضح روڈ میپ مرتب کرنا ہوگا، جس میں ہر مرحلے کے اہداف متعین ہوں۔ پہلے مرحلے میں وسیع پیمانے پر نس بندی اور ویکسینیشن، دوسرے مرحلے میں شیلٹر ہومز اور تیسرے مرحلے میں خطرناک علاقوں سے کتوں کی منتقلی جیسے اقدامات شامل کیے جا سکتے ہیں۔

اس مسئلے کا ایک اہم پہلو عوامی شعور بھی ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ کھلے عام کچرا پھینکنے سے گریز کریں، جبکہ سماجی تنظیمیں اور رضاکار ادارے حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ شادی ہالوں، ہوٹلوں اور بازاروں سے بچ جانے والے کھانے کو منظم انداز میں شیلٹر ہومز تک پہنچانے کے منصوبے بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسا سری نگر چاہتے ہیں جو صرف تصویروں میں خوبصورت نظر آئے، یا ایسا شہر بھی جہاں لوگ خود کو محفوظ محسوس کریں؟ اسمارٹ سٹی کا تصور صرف خوبصورت انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ اُس کا بنیادی مقصد شہری زندگی کو محفوظ، آرام دہ اور باوقار بنانا ہوتا ہے۔

سری نگر کی نئی سڑکیں، پل، پلازے اور ریور فرنٹس یقیناً ترقی کی علامت ہیں، مگر اگر اُن راستوں پر چلنے والا شہری خوف میں مبتلا ہو تو ترقی کا یہ سفر ادھورا رہ جائے گا۔ حکومت، بلدیاتی اداروں، سماجی تنظیموں اور عوام کو مل کر اس بحران کا مستقل حل تلاش کرنا ہوگا۔ انسانی جان کا تحفظ اور جانوروں کی فلاح دونوں ایک مہذب معاشرے کی ذمہ داری ہیں۔ اگر سنجیدگی، سائنسی حکمت عملی اور عوامی تعاون کے ساتھ اقدامات کیے جائیں تو وہ دن دور نہیں جب سری نگر واقعی ایک محفوظ، خوبصورت اور مکمل اسمارٹ سٹی کے طور پر ابھرے گا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

بھارت کا سلامتی کونسل میں توسیع کا مطالبہ

Next Post

شی جن پنگ،ٹرمپ نہیںہیں 

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر آخر سبز کیوں نہیں؟

2026-07-08
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جَل جیون مشن:

2026-07-07
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

شی جن پنگ،ٹرمپ نہیںہیں 

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.