ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے …….ارادہ اس لئے نہیں ہے کہ ہم امریکہ اور چین کے کوئی ماہر نہیں ہیں جو امریکی صدر کے چین کے دورے پر کوئی رائے پیش کریں یا تبصرہ ۔ہاں ہم مانتے ہیں کہ سرینگر میں بیٹھے کچھ ’ماہرین‘ بالکل ایسا ہی کررہے ہیں …….ٹرمپ کے چین کے دورے پر اپنا تجزیہ پیش کررہے ہیں ‘ وہ بھی مفت میں ……. لیکن صاحب ہم سے یہ نہیں ہو گا ……. بالکل بھی نہیں ہو گا ۔ہاں اتنا ہم ضرور کہہ سکتے ہیں کہ یہ جو ٹرمپ ہیں ……. ٹرمپ صاحب ہیں یہ خوشامدکرتے ہیں اور خوشامد پسند بھی ہیں …….یہ بات اگر کسی کی سمجھ میں آئی ہو یا نہیں لیکن پاکستان کی فوجی اورسویل قیادت کو ضرور آگئی ہے جو…….اور ان کی خوشامد میں لگی ہو ئی ہے ……. اس امید کے ساتھ کہ ……. کہ شاید ایسا کرکے ٹرمپ صاحب سچ میں اس سے خوش ہو جائے اور ……. اور صاحب ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو ۔لیکن یہ یہاں بات پاکستان نہیں بلکہ چین کی قیادت ‘ چین کے صدر شی جن پنگ کی کریں گے …….ٹرمپ نے اپنے دورے کے دوران ان کی اس طرح خوشامد کی جس طرح پاکستانی قیادت ٹرمپ صاحب کی کرتے ہیں ……. ہمیں اس دورے میں پاکستانی قیادت اور ٹرمپ صاحب کے رویے میں کوئی فرق نظر نہیں آیا ……. بالکل بھی نہیں آیا ۔ لیکن ……. لیکن پھر بھی ایک فرق تھا ……. ایک واضح فرق اور ……. اور وہ یہ تھا کہ پاکستانی قیادت کی خوشامد کرنے سے ٹرمپ صاحب خوش تو ہوتے ہوں گے ……. لیکن شی جن پنگ نہیں ……. ٹرمپ صاحب نے ان کی خوشامد کرنے کی بہت کوشش کی ……. لیکن یہ جناب چٹان کی طرح کھڑے رہے …….رسمی استقبال کے دوران ٹرمپ صاحب ان سے نغلگیر بھی ہونا چاہتے تھے …….انہوں نے مصافحہ کرنے کے ودارن چین کے صدر کو اپنی طرف کھینچا بھی ‘ لیکن …….لیکن مجال کہ وہ ایک انچ بھی اپنی جگہ سے ہلیں ہوں ۔ہم نہیں جانتے ہیں کہ امریکی صدر کا چین کا دورہ کیسا رہا ہے ……. ہم بالکل بھی نہیں جانتے ہیں ‘اگر رہا بھی ہو گا تو ……. تو یہ ہماری سمجھ میں نہیں آئے گا لیکن جو ایک بات ہماری سمجھ میں آگئی ہے وہ یہ ہے کہ اس دورے سے ٹرمپ صاحب کی سمجھ میں یہ ایک بات ضرور آگئی ہو گی کہ …….کہ ان کے چین کے ہم منصب شی جن پنگ ‘ٹرمپ نہیں ہیں ‘ بالکل بھی نہیں ہیں ۔ ہے نا؟



