’آج کی دنیا اُس دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ مربوط، پیچیدہ اور کثیر قطبی ہو چکی ہے جب موجودہ عالمی ادارے قائم کیے گئے تھے‘
اقوام متحدہ کی رکنیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے‘ سلامتی کونسل کا ڈھانچہ اب بھی پرانے دور کی عکاسی کرتا ہے:وزیر خارجہ
نئی دہلی؍۱۵مئی
بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں توسیع کا زور دار مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصلاحات کے بغیر عالمی ادارے کی مؤثریت اور ساکھ محدود رہے گی۔
یہ بات بھارتی وزیر خار جہ‘ایس جے شنکر نے نئی دہلی میں برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیر خارجہ نے کہا، ’’ہم ایسے وقت میں جمع ہوئے ہیں جب عالمی حکمرانی کی مؤثریت اور کثیر جہتی نظام کی ساکھ پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔‘‘
جئے شنکر نے کہا کہ آج کی دنیا اُس دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ مربوط، پیچیدہ اور کثیر قطبی ہو چکی ہے جب موجودہ عالمی ادارے قائم کیے گئے تھے، لیکن عالمی حکمرانی کے ڈھانچے وقت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہیں کر سکے۔
جئے شنکر نے عالمی اداروں اور کثیر جہتی تجارتی نظام میں اصلاحات کے لیے چار نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا، ’’اقوام متحدہ کی رکنیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس کی ذمہ داریاں بھی بڑھی ہیں، لیکن خاص طور پر سلامتی کونسل کا ڈھانچہ اب بھی پرانے دور کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’بامعنی اصلاحات، جن میں مستقل اور غیر مستقل دونوں زمروں میں توسیع شامل ہو، کے بغیر اقوام متحدہ کی مؤثریت اور ساکھ محدود رہے گی۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی نمائندگی ناگزیر ہے۔‘‘
بھارت طویل عرصے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کا مضبوط امیدوار رہا ہے۔
اپنے دوسرے نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے جئے شنکر نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے سنجیدہ مذاکرات کا وقت آ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ برکس نے خصوصاً جوہانسبرگ سربراہی اجلاس میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث کی تھی اور مشترکہ اعلامیوں میں بھی اس اتفاقِ رائے کی عکاسی کی گئی، تاہم اصلاحات کو حقیقت بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
جئے شنکر نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ سپلائی چینز میں کمزوری، خوراک اور توانائی کے تحفظ پر دباؤ اور اہم وسائل تک رسائی میں عدم مساوات جیسے معاشی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کثیر جہتی تجارتی نظام کو بھی مضبوط اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہوگا۔ان کے مطابق غیر منڈی طرز کے اقدامات، سپلائی چینز کا ارتکاز اور غیر یقینی مارکیٹ رسائی نے عالمی معیشت کو نئے خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
جئے شنکر نے کہا کہ عالمی تجارتی تنظیم(ڈبلیو ٹی او) کے مرکز پر مبنی ایک اصولی، منصفانہ، کھلا اور جامع تجارتی نظام آج بھی ضروری ہے، تاہم اسے ترقی پذیر ممالک کے خدشات اور عدم توازن کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔










