جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

ذخیرہ اندوزی نہیں، اجتماعی ذمہ داری وقت کی ضرورت

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-03-26
in اداریہ
A A
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ و ایران کے درمیان جاری جنگ نے عالمی منظرنامے کو ایک بار پھر غیر یقینی کی دھند میں لپیٹ دیا ہے۔ توانائی کی سپلائی لائنز، عالمی تجارت اور مہنگائی کے خدشات نے دنیا بھر کی معیشتوں کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے قوم کو ممکنہ چیلنجز کے لیے تیار رہنے کی تلقین نہ صرف بروقت ہے بلکہ حقیقت پسندانہ بھی۔ تاہم اس پورے منظرنامے میں ایک پہلو ایسا ہے جو حکومتی پالیسیوں سے زیادہ عوامی رویوں سے جڑا ہوا ہے—اور وہ ہے صبر، ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ۔

تاریخ گواہ ہے کہ عالمی بحران صرف سرحدوں پر نہیں لڑے جاتے، ان کے اثرات گھروں کے اندر تک محسوس ہوتے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، اشیائے ضروریہ کی قلت اور روزمرہ زندگی کی مشکلات ایک ایسی زنجیر بناتی ہیں جس کا سب سے کمزور کڑا ہمیشہ غریب اور مزدور طبقہ ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے بھی اسی نکتے کی طرف اشارہ کیا کہ مشکل حالات میں سب سے زیادہ متاثر یہی طبقات ہوتے ہیں، اس لیے ان کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات ناگزیر ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف حکومتی اقدامات ہی کافی ہوں گے؟

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

یہاں ایک خاموش مگر خطرناک رجحان سر اٹھاتا ہے…….ذخیرہ اندوزی۔ بظاہر یہ ایک انفرادی فیصلہ لگتا ہے، ایک فطری ردعمل جو خوف اور غیر یقینی سے جنم لیتا ہے۔ مگر درحقیقت یہ اجتماعی سطح پر ایک ایسا عمل ہے جو بحران کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ جب لوگ گھبراہٹ میں ضرورت سے زیادہ اشیاء خرید کر ذخیرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں تو مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً قیمتیں بڑھتی ہیں، سپلائی متاثر ہوتی ہے اور وہ لوگ جو پہلے ہی محدود وسائل رکھتے ہیں، بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کسی ایک گھر کے اضافی ذخیرے کا مطلب کسی دوسرے گھر کی خالی الماری ہو سکتا ہے۔ ایک شخص کی بے چینی، دوسرے کے لیے بھوک اور محرومی کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسے میں سوال صرف معاشی نہیں رہتا بلکہ اخلاقی بن جاتا ہے—کیا ہم اپنی سہولت کے لیے دوسروں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟

بحران کے وقت انسان کی اصل پہچان اس کے رویے سے ہوتی ہے۔ کیا وہ صرف اپنی فکر کرتا ہے یا اجتماعی بھلائی کو بھی مدنظر رکھتا ہے؟ کورونا وبا کے دوران ہم نے دونوں طرح کے مناظر دیکھے‘کہیں لوگ ضرورت سے زیادہ سامان خرید کر دوسروں کے لیے قلت پیدا کر رہے تھے، تو کہیں ایسے افراد بھی تھے جو اپنی محدود وسائل کے باوجود دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھ رہے تھے۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں ایک معاشرہ اپنے اخلاقی معیار کا تعین کرتا ہے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے سات بااختیار گروپس کی تشکیل، توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش، اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ اور سپلائی چین کو مستحکم بنانے کی کوششیں یقیناً اہم ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست اپنی ذمہ داری سے آگاہ ہے اور حالات کو سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ مگر ان تمام کوششوں کی کامیابی کا دارومدار عوامی تعاون پر بھی ہے۔ اگر عوام خود ہی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں تو بہترین پالیسیاں بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتیں۔

ذخیرہ اندوزی صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی بیماری ہے جو اعتماد کو کھوکھلا کرتی ہے۔ جب لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ مارکیٹ میں اشیاء دستیاب نہیں ہیں یا قیمتیں بے قابو ہو رہی ہیں تو بے یقینی اور خوف مزید بڑھتا ہے۔ یہ ایک ایسا دائرہ بن جاتا ہے جس میں ہر فرد دوسرے پر شک کرنے لگتا ہے، اور یوں معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔

ایسے حالات میں میڈیا، سول سوسائٹی اور مقامی کمیونٹیز کا کردار بھی انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ ذمہ دارانہ رپورٹنگ، عوام میں شعور بیدار کرنا اور غلط معلومات کی روک تھام وہ اقدامات ہیں جو اس بحران کو مزید بگڑنے سے روک سکتے ہیں۔ اسی طرح مقامی سطح پر نگرانی اور تعاون کا نظام بھی ذخیرہ اندوزی جیسے رجحانات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر بحران اپنے ساتھ ایک موقع بھی لے کر آتا ہے—اپنے رویوں کا جائزہ لینے کا، اپنی ترجیحات کو درست کرنے کا اور ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینے کا۔ آج کا چیلنج صرف یہ نہیں کہ ہم معاشی طور پر کیسے مستحکم رہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم اخلاقی طور پر کس حد تک مضبوط ہیں۔

ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر جب مستقبل غیر یقینی ہو۔ مگر یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں عقل اور شعور کو جذبات پر غالب آنا ہوتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ خریداری وقتی تسکین تو دے سکتی ہے، مگر اس کے طویل مدتی اثرات پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔

وزیر اعظم مودی کی یہ بات کہ ’ہر چیلنج کے لیے تیار رہیں‘دراصل صرف حکومتی سطح پر نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ تیاری کا مطلب صرف وسائل جمع کرنا نہیں بلکہ ذہنی اور اخلاقی طور پر خود کو مضبوط بنانا بھی ہے۔ ایک ذمہ دار شہری وہی ہے جو مشکل وقت میں نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی سوچتا ہے۔

آخر میں بات وہی آ کر ٹھہرتی ہے‘یہ وقت گھبراہٹ کا نہیں، ہوش مندی کا ہے۔ یہ وقت ذخیرہ اندوزی کا نہیں، تقسیم اور تعاون کا ہے۔ اگر ہم نے اس نازک مرحلے پر صبر اور ذمہ داری کا دامن تھام لیا تو نہ صرف اس بحران کا مقابلہ بہتر انداز میں کر سکیں گے بلکہ ایک مضبوط اور متحد معاشرے کی بنیاد بھی رکھ سکیں گے۔

ورنہ، تاریخ یہ ضرور یاد رکھے گی کہ مشکل وقت میں ہم نے ایک دوسرے کا سہارا بننے کے بجائے ایک دوسرے کی مشکلات میں اضافہ کیا تھا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

غضب کیا جو تیرے …….!

Next Post

کولکتہ نائٹ رائیڈرز کا تاریخی اعزاز: آندرے رسیل کی جرسی نمبر 12 ہمیشہ کے لیے ریٹائر

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
زخمی کیمرون گرین کی جگہ لابوشین آسٹریلیائی ٹیم میں شامل

کولکتہ نائٹ رائیڈرز کا تاریخی اعزاز: آندرے رسیل کی جرسی نمبر 12 ہمیشہ کے لیے ریٹائر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.