’غضب کیا جو تیرے وعدے پہ اعتبار کیا ‘ نہیں صاحب ہم نے کسی کے وعدے پر اعتبار نہیں کیا ……. بالکل بھی نہیں کیا …….اس لئے ہم ایسا نہیں کہہ سکتے ہیں …….کوئی اور بھی نہیں کہہ رہا ہے‘ لیکن جناب تھوڑا انتظار کیجئے ‘ وہ خود کہے گا ……. یہ کہے گا کہ غضب کیا جو تیرے وعدے پر اعتبار کیا …….پاکستان یہ ضرور کہے گا اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے کہے گا …….اُس ڈونالڈ ٹرمپ سے جس پر پاکستان آنکھیں بند کرکے اعتبار کررہا ہے ……. اس کے باوجود کہ دنیا میں اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے جوامریکی صدر پر اعتبار کررہا ہے……. ہمارا تو صاحب ماننا ہے کہ خود ٹرمپ صاحب خود پر اعتبار نہیں کرتے ہیں …….اگر کرتے تو یہ جناب وہ نہیں کرتے جو یہ کرتے آ رہے ہیں کہ ……. کہ پہلے ان جناب نے ایران پر حملہ کیا ‘ اس پر جنگ مسلط کردی …….اسے سرنڈر کرنے کو کہا لیکن جب ایسا کچھ بھی نہیں ہو ا تو اب ٹرمپ صاحب امن کی بات کررہے ہیں ‘ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کا اشارہ دے رہے ہیں اور……. اور ثالثی کے طور پر یہ جناب پاکستان کی خدمات حاصل کررہے ہیں یا کرنے جارہےہیں ……. ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے کہ ہم ان میں سے نہیں ہیں اور بالکل بھی نہیں ہیں جنہیں پاکستان کی ممکنہ ثالثی پر منہ میں پانی آ رہا ہے اور …….اور وزیر اعظم مودی سے سوال کررہے ہیں کہ پاکستان کیوں اور بھارت کیوںنہیں؟ ہم یقیناً ان میں سے نہیں ہیں اور ……. اور اس لئے نہیں ہیں کہ بھلا ڈونالڈ ٹرمپ پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے ؟ کیا یہ جناب کسی بھروسے کے لائق ہیں ‘ اللہ میاں کی قسم یہ کسی کے لائق نہیں ہیں اور …….اور بالکل بھی نہیں ہیں ۔ ایران کے ساتھ امن کی باتیں محض سراب ہیں‘ دھوکہ ہیں اور فریب بھی تاکہ ٹرمپ صاحب کو کچھ وقت ملے اور انہوں نے خلیج میں جو فوجی بھیج دئے ہیں وہ وہاں پہنچ جائیں …….اگر ٹرمپ واقعی امن چاہتے ہیں تو …….تو انہوں نے ان فوجیوں کو اگر واپس نہ بلاتے لیکن پیس قدمی سے تو روک سکتے تھے نا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ……. اور اس لئے نہیں کیا کیونکہ یہ کہتے کچھ اور ہیں اور……. اور کرتے کچھ اور ہیں ۔ اور جب یہ بات پاکستان کی سمجھ میں آجائے گی……. اگر آئی تو وہ بھی یقینا ًیہی کہے گا ’غضب کیا جو تیرے وعدے پہ اعتبار کیا‘۔ ہے نا؟




