جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

یونین پبلک سروس کمیشن کے نتائج

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-03-10
in اداریہ
A A
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

ناممکن کچھ بھی نہیں ‘عزم و محنت کامیابی کی کنجی

زندگی کی حقیقت یہی ہے کہ اس دنیا میں ناممکن نام کی کوئی چیز نہیں۔ انسان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب ارادہ مضبوط ہو، حوصلہ بلند ہو اور مقصد واضح ہو تو مشکل ترین راستے بھی آسان ہو جاتے ہیں۔ حال ہی میں جموں و کشمیر کے کئی نوجوانوں کی جانب سے یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC) کے باوقار سول سروسز امتحان میں کامیابی اسی حقیقت کا ایک روشن ثبوت ہے۔ ان نوجوانوں کی کامیابی نے نہ صرف ان کے خاندانوں کو مسرت بخشی ہے بلکہ پورے خطے کے نوجوانوں کے لیے امید اور حوصلے کا ایک نیا چراغ بھی روشن کیا ہے۔

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

خاص طور پر بانڈی پورہ ضلع کے علاقے منزپورہ نائد کھئی سے تعلق رکھنے والے عرفان احمد لون کی کامیابی ایک ایسی مثال ہے جو اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اگر انسان کے اندر عزم اور حوصلہ ہو تو جسمانی معذوری بھی اس کے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ بچپن میں ایک حادثے کے دوران اپنی ایک آنکھ کھو دینے کے باوجود عرفان احمد لون نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے نہ صرف اپنی تعلیم جاری رکھی بلکہ قومی سطح کے سب سے مشکل امتحانات میں سے ایک کو کامیابی کے ساتھ پاس کر کے یہ ثابت کر دیا کہ انسان کی اصل طاقت اس کے ارادے میں ہوتی ہے۔

عرفان کی زندگی کا سفر آسان نہیں تھا۔ ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود جہاں مالی وسائل محدود تھے، ان کے والد نے محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھی۔ عرفان نے دہرادون کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار دی ایمپاورمنٹ آف پرسنز ود ویژول ڈس ایبیلٹیز سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں دہلی یونیورسٹی کے ہندو کالج سے گریجویشن مکمل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ یہ تمام مراحل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کامیابی کسی ایک لمحے کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد اور ثابت قدمی کا حاصل ہوتی ہے۔

اسی طرح جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقے پژل سے تعلق رکھنے والے توصیف احمد گنائی کی کامیابی بھی عزم و استقلال کی ایک شاندار مثال ہے۔ ایک مزدور کے بیٹے ہونے کے باوجود انہوں نے محدود وسائل کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھی اور سول سروسز جیسے مشکل امتحان میں دوسری کوشش میں آل انڈیا رینک 254 حاصل کر لی۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشی مشکلات انسان کی ترقی کی راہ میں مستقل رکاوٹ نہیں بنتیں، بشرطیکہ انسان کے اندر آگے بڑھنے کی لگن موجود ہو۔

توصیف احمد گنائی کے والد محمد اسحاق کی قربانیاں بھی قابلِ ذکر ہیں۔ اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے انہوں نے زمین فروخت کی اور جموں کے مختلف علاقوں میں مزدوری کی۔ ایک باپ کی یہ جدوجہد اس بات کی مثال ہے کہ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کس قدر قربانیاں دیتے ہیں۔ آج ان کے بیٹے کی کامیابی دراصل ان قربانیوں کا صلہ ہے اور یہ اس بات کا پیغام بھی دیتی ہے کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

اسی طرح اننت ناگ کے بیجبہاڑہ کے گاؤں کاندی گام سے تعلق رکھنے والے منیب پرہ کی کامیابی بھی قابلِ تحسین ہے۔ وہ پہلے ہی جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (JKAS) کے افسر ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے محنت جاری رکھی اور سول سروسز امتحان میں آل انڈیا رینک 581 حاصل کی۔ یہ کامیابی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ انسان کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہنا چاہیے، چاہے وہ پہلے ہی کسی مقام تک کیوں نہ پہنچ چکا ہو۔

جموں و کشمیر سے اس سال مجموعی طور پر 16 امیدواروں کا اس باوقار امتحان میں کامیاب ہونا بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ تعداد حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ میں شمار کی جا رہی ہے۔ اس کامیابی نے نہ صرف خطے کے تعلیمی ماحول کو تقویت بخشی ہے بلکہ نوجوانوں میں ایک نئی امید بھی پیدا کی ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ کشمیر کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور اگر انہیں صحیح مواقع اور رہنمائی ملے تو وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ سول سروسز امتحان کو دنیا کے مشکل ترین امتحانات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس امتحان میں کامیابی کے لیے نہ صرف وسیع علمی صلاحیت بلکہ مضبوط اعصاب، مستقل مزاجی اور طویل عرصے تک مسلسل محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں جموں و کشمیر جیسے خطے سے نوجوانوں کا بڑی تعداد میں اس امتحان میں کامیاب ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کے نوجوان کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں ہیں۔

ان کامیابیوں کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ نوجوان صرف اپنی ذاتی کامیابی تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے پورے معاشرے کے لیے ایک مثبت پیغام دیا ہے۔ آج جب نوجوانوں کے سامنے بے شمار چیلنجز موجود ہیں، ایسے میں یہ مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ تعلیم، محنت اور مثبت سوچ کے ذریعے ہر مشکل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

معاشرے میں اکثر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ کامیابی صرف ان لوگوں کے لیے ممکن ہے جن کے پاس وسائل اور سہولیات موجود ہوں۔ لیکن عرفان احمد لون، توصیف احمد گنی اور منیب پرہ جیسے نوجوانوں کی کامیابیاں اس تصور کو غلط ثابت کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اصل طاقت انسان کے حوصلے، عزم اور محنت میں ہوتی ہے۔

ان کامیابیوں سے نوجوان نسل کو یہ سبق بھی ملتا ہے کہ زندگی میں مشکلات اور رکاوٹیں آنا ایک فطری عمل ہے۔ اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ انسان ان مشکلات کا سامنا کس طرح کرتا ہے۔ جو لوگ ہمت نہیں ہارتے اور مسلسل جدوجہد کرتے رہتے ہیں، وہی آخرکار اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت اور سماجی ادارے ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں مزید مواقع فراہم کریں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے بروئے کار لا سکیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہاں کے باصلاحیت نوجوان بھی آگے بڑھ سکیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کامیابیوں کو صرف خبروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں ایک تحریک کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر کشمیر کے نوجوان ان مثالوں سے سبق حاصل کریں اور تعلیم و محنت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیں تو آنے والے برسوں میں اس خطے سے کامیابیوں کی اور بھی روشن داستانیں سامنے آ سکتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ناممکن کچھ بھی نہیں۔ انسان اگر عزم و ہمت کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف قدم بڑھائے تو کوئی رکاوٹ اس کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔ جموں و کشمیر کے ان نوجوانوں کی کامیابی اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ خواب وہی پورے ہوتے ہیں جنہیں پورا کرنے کا حوصلہ اور عزم موجود ہو۔ یہ کامیابیاں نہ صرف ان افراد کی ذاتی فتح ہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے امید، حوصلے اور اعتماد کا پیغام بھی ہیں۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ہم ظالم اور وہ مظلوم

Next Post

ٹی-20 ورلڈ کپ کی جیت کے جشن میں ڈوبا اتر پردیش

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
ٹی20 ورلڈ کپ 2024 جون میں منعقد ہو سکتا ہے

ٹی-20 ورلڈ کپ کی جیت کے جشن میں ڈوبا اتر پردیش

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.