ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کارروائی میں ہلاکت کی خبر نے دنیا بھر کی طرح وادیٔ کشمیر میں بھی شدید ردعمل کو جنم دیا۔ سرینگر کے تاریخی لالچوک کے گھنٹہ گھر سے لے کر وادی کے دیگر مقامات تک ہزاروں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ مظاہرے پرامن رہے، نعروں کی گونج ضرور سنائی دی لیکن کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ کشمیری عوام نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار پُرامن طریقے سے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم پیر کے روز سرینگر اور وادی کے بعض حصوں میں پابندیاں عائد کی گئیں، نقل و حرکت محدود کی گئی اور موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کم کر دی گئی۔ اس فیصلے پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی۔ سوال یہی اٹھایا گیا کہ جب اتوار کے احتجاج پُرامن رہے تو پھر اگلے روز سختی کی کیا ضرورت تھی؟ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کا جواب زمینی حقائق اور وادی کی ماضی کی تاریخ میں پوشیدہ ہے۔
کشمیر ایک طویل عرصے تک بے یقینی، احتجاج اور تصادم کی سیاست کا مرکز رہا ہے۔ ماضی میں بارہا دیکھا گیا کہ بظاہر پُرامن مظاہرے چند گھنٹوں میں تصادم کی صورت اختیار کر لیتے تھے۔ ایسے عناصر جو امن و استحکام کو برداشت نہیں کر سکتے، اکثر جذباتی فضا کا فائدہ اٹھا کر حالات کو بگاڑنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ پتھراؤ، آتش زنی اور توڑ پھوڑ کے واقعات نہ صرف سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچاتے تھے بلکہ عام شہریوں کی جان و مال کو بھی خطرے میں ڈال دیتے تھے۔ اس پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت نے مسلمانانِ کشمیر کے جذبات کو مجروح کیا۔ اتوار کو لوگوں نے انہی جذبات کا اظہار کیا۔ لیکن پیر کے روز ہڑتال کال کے بیچ اگر اسی نوعیت کے بڑے اجتماعات دوبارہ منعقد ہوتے تو حالات کا رخ کسی بھی سمت مڑ سکتا تھا۔ جذباتی ماحول میں ایک معمولی چنگاری بھی بڑے شعلے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ایسے میں انتظامیہ کی ذمہ داری صرف موجودہ صورتحال کو دیکھنا نہیں بلکہ ممکنہ خطرات کا پیشگی اندازہ لگانا بھی ہوتی ہے۔
حکومت اور سیکورٹی ایجنسیوں نے یقیناً مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی پابندیوں کا فیصلہ کیا ہوگا۔ ان کا مقصد عوام کی آواز دبانا نہیں بلکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنا تھا۔ انٹرنیٹ کی رفتار کم کرنا یا نقل و حرکت پر عارضی پابندی عائد کرنا ایک ایسا قدم ہے جو عام حالات میں شاید سخت محسوس ہو، لیکن حساس مواقع پر اسے احتیاطی تدبیر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا کے ذریعے افواہیں اور اشتعال انگیز مواد لمحوں میں پھیل سکتا ہے۔
تنقید کرنے والوں کا موقف بھی قابلِ غور ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں سوال اٹھانا اور حکومتی فیصلوں کا جائزہ لینا شہریوں کا حق ہے۔ تاہم ہر فیصلے کو یک طرفہ انداز میں دیکھنے کے بجائے اس کے پس منظر کو سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ وادی میں پچھلے چند برسوں کے دوران امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ سیاحت میں اضافہ ہوا، کاروبار نے سانس لی، تعلیمی ادارے باقاعدگی سے کھلے اور روزمرہ زندگی نسبتاً معمول پر آئی۔ یہ سب کچھ آسانی سے حاصل نہیں ہوا بلکہ اس کے لیے طویل کوششیں اور قربانیاں دی گئی ہیں۔
ایسے میں اگر کسی بین الاقوامی واقعے کے اثرات مقامی سطح پر شدت اختیار کریں تو انتظامیہ کی اولین ترجیح یہی ہوگی کہ اس استحکام کو کسی بھی قیمت پر برقرار رکھا جائے۔ احتیاطی اقدامات کا مقصد وقتی تکلیف ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اگر ان کے ذریعے بڑے نقصان کو روکا جا سکے تو انہیں مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ امر بھی قابلِ ستائش ہے کہ وادی کے عوام نے پیر کے روز عائد پابندیوں کو بڑے پیمانے پر قبول کیا اور امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے میں تعاون کیا۔ اس رویے سے یہ پیغام ملتا ہے کہ کشمیری عوام اب تصادم کے بجائے استحکام کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انتشار کا نقصان سب سے پہلے انہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ کاروبار بند ہوں، تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں یا روزانہ کی مزدوری رک جائے، اس کا براہِ راست اثر عام گھرانوں پر پڑتا ہے۔
درحقیقت یہ لمحہ اجتماعی دانشمندی کا تقاضا کرتا ہے۔ جذبات اپنی جگہ اہم ہیں اور ان کا اظہار بھی ہر شہری کا حق ہے، لیکن اس کے ساتھ ذمہ داری کا عنصر بھی لازم ہے۔ عالمی سیاست کے واقعات پر ردعمل دیتے وقت ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری اپنی زمین کی سلامتی اور ترقی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اگر کوئی قدم وقتی طور پر سخت محسوس ہو لیکن اس سے بڑے نقصان کا اندیشہ ٹل جائے تو اسے محض سیاسی عینک سے دیکھنا مناسب نہیں۔
وادی کی حالیہ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ امن کی فضا قائم رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ اسے برقرار رکھنے کے لیے عوام اور انتظامیہ دونوں کو باہمی اعتماد اور تعاون کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ اتوار کے پُرامن احتجاج اور پیر کے روز مجموعی نظم و ضبط نے یہ امید پیدا کی ہے کہ کشمیر اب جذبات اور ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود امن کو ترجیح دی جائے۔ اگر وادی نے گزشتہ برسوں میں استحکام کی طرف قدم بڑھایا ہے تو اسے پیچھے کی طرف موڑنے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ آزمائش کے ان لمحات میں اجتماعی بصیرت ہی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوتی ہے۔





