لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے جموںکشمیر میں مزید ۱۴ سیاحتی مقامات کو کھولنے کے فیصلے کواہم اور بروقت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس پہلگام میں پیش آئے دہشت گردانہ حملے کے بعد جن حفاظتی خدشات کے پیش نظر پچاس کے قریب مقامات عارضی طور پر بند کیے گئے تھے، ان کی مرحلہ وار بحالی کا عمل اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جہاں ریاستی انتظامیہ کا پیغام واضح دکھائی دیتا ہے حالات قابو میں ہیں اور وادی دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ رہی ہے۔
سیاحت کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی رہی ہے۔ یہاں کا ایک بڑا طبقہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ گھوڑے والوں سے لے کر ٹیکسی ڈرائیور تک، ہوٹل مالکان سے لے کر دستکاروں تک، چائے فروشوں سے لے کر گائیڈز تک ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد کی روزی روٹی اس شعبے سے جڑی ہے۔ ایسے میں کسی ایک بڑے واقعے کے بعد جب سیاحتی مقامات بند کیے جاتے ہیں تو اس کے اثرات صرف بازاروں کی رونق کم ہونے تک محدود نہیں رہتے بلکہ گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونے لگتے ہیں اور لوگوں کے ذہنوں میں غیر یقینی کی کیفیت جنم لیتی ہے۔
پہلگام حملے کے بعد یہی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ اگرچہ یہ فیصلہ حفاظتی نقطہ نظر سے ضروری تھا مگر اس کے طویل اثرات سامنے آنے لگے تھے۔ گزشتہ چند مہینوں میں سیاحوں کی واپسی شروع ہو چکی تھی لیکن کئی اہم مقامات کے بند رہنے کی وجہ سے ایک نفسیاتی خلا برقرار تھا۔ سیاحت میں بحالی صرف اس وقت مکمل محسوس ہوتی ہے جب لوگ خود کو آزادانہ نقل و حرکت کے قابل سمجھیں۔ چند مقامات کی بندش پورے خطے کی تصویر کو متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ اعلان کو ایک اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کشمیر ڈویژن میں یوسمرگ، دودھ پتھری، کوکرناگ کا ڈنڈی پورہ پارک، پیر کی گلی، دبجن‘ ٹیولپ گارڈن جیسے مقامات کا کھلنا محض سیاحتی فہرست میں اضافہ نہیں بلکہ ایک علامتی پیغام بھی ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں فطرت کی خاموشی اور حسن کا امتزاج سیاح کو صرف مناظر ہی نہیں بلکہ سکون بھی فراہم کرتا ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس اعلان کا وقت نہایت اہم ہے۔ مارچ کے آغاز کے ساتھ ہی کشمیر میں سیاحتی موسم کا آغاز ہوتا ہے۔ بہار کے ساتھ ٹیولپ گارڈن کی کشش، پھر گرمیوں میں پہاڑی علاقوں کی سیر اور اس کے بعد خزاں کے رنگ یہ سب وہ عوامل ہیں جو سیاحتی سیزن کو متحرک کرتے ہیں۔ ایسے میں مقامات کی بحالی ایڈوانس بکنگ اور ٹور آپریٹرز کے اعتماد کے لیے انتہائی ضروری تھی۔ سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے جہاں فیصلے پیشگی اندازوں پر ہوتے ہیں۔ اگر کسی خطے کے بارے میں غیر یقینی کی کیفیت ہو تو ٹور ایجنسیاں اپنے پیکجز تبدیل کر دیتی ہیں اور ایک بار سیاح کا رخ بدل جائے تو اسے واپس لانا آسان نہیں ہوتا۔
مقامی لوگوں کے بیانات سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے لیے محض انتظامی اعلان نہیں بلکہ امید کی واپسی ہے۔ دودھ پتھری اور دبجن جیسے علاقوں میں خاندانوں کا مکمل انحصار سیاحت پر ہے۔ جب مقامات بند ہوتے ہیں تو آمدنی یکدم صفر ہو جاتی ہے جبکہ اخراجات برقرار رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کو عوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور اہم پہلو بھی جڑا ہوا ہے کھیلوں کی سیاحت۔ گلمرگ میں آئندہ ہفتے کھیلو انڈیا ونٹر گیمز کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ اس طرح کے ایونٹس صرف چند دنوں کی سرگرمی نہیں ہوتے بلکہ وہ پورے سیزن کی سمت متعین کرتے ہیں۔ جب قومی سطح کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں تو میڈیا کوریج بڑھتی ہے، بیرونی ریاستوں کے کھلاڑی اور سیاح آتے ہیں اور ایک مثبت بیانیہ تشکیل پاتا ہے۔ اس ماحول میں سیاحتی مقامات کی بندش ایک تضاد پیدا کرتی، جسے موجودہ فیصلے نے ختم کر دیا ہے۔
سیاحت کی بحالی کو صرف معاشی اعداد و شمار سے نہیں ناپا جا سکتا۔ کشمیر کے لیے یہ تاثر کا مسئلہ بھی ہے۔ کئی دہائیوں تک یہاں کے بارے میں خوف کا بیانیہ غالب رہا۔ گزشتہ چند برسوں میں حالات میں بہتری کے ساتھ جو مثبت تاثر بننا شروع ہوا تھا، اس کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ جب سیاح آزادانہ طور پر دور دراز علاقوں تک جاتے ہیں اور اپنے تجربات سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں تو وہ کسی بھی سرکاری بیان سے زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ مقامات کا کھلنا دراصل ایک نفسیاتی دیوار کو گرانے کے مترادف ہے۔
البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس فیصلے کے ساتھ بنیادی سہولیات اور سکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ سیاحت صرف دروازے کھول دینے سے نہیں بڑھتی بلکہ سہولت، صفائی، ٹرانسپورٹ اور معلوماتی رہنمائی جیسے عناصر اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ کئی نئے کھلنے والے مقامات ابھی انفراسٹرکچر کے لحاظ سے مکمل تیار نہیں ہیں۔ اگر رش اچانک بڑھا اور سہولیات ناکافی رہیں تو منفی تاثر بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے انتظامیہ کو اب توجہ اگلے مرحلے پر مرکوز کرنا ہوگی — پائیدار سیاحت۔
پائیدار سیاحت کا مطلب ہے کہ ترقی اور ماحولیات میں توازن قائم رہے۔ کشمیر کے کئی خوبصورت مقامات ماضی میں بے ہنگم سیاحتی دباؤ کے باعث متاثر ہوئے ہیں۔ کچرے کے مسائل، پانی کی قلت اور ٹریفک کی بے ترتیبی جیسے مسائل دوبارہ نہ ابھریں، اس کے لیے مقامی کمیونٹی کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ جب مقامی لوگ خود کو شراکت دار محسوس کرتے ہیں تو وہ سیاحت کو بوجھ نہیں بلکہ موقع سمجھتے ہیں۔
یہ فیصلہ ایک وسیع تر عمل کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس میں انتظامیہ سیاحت کو محض موسمی سرگرمی سے نکال کر سال بھر کی معیشت میں بدلنا چاہتی ہے۔ سرما میں اسکیئنگ، بہار میں پھولوں کی سیاحت، گرمیوں میں پہاڑی ٹریکنگ اور خزاں میں ثقافتی تقریبات اگر یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے تو کشمیر واقعی ایک ہمہ موسمی سیاحتی خطہ بن سکتا ہے۔
مختصراً، ۱۴ نئے سیاحتی مقامات کی بحالی ایک انتظامی حکم سے زیادہ ایک علامت ہے اعتماد کی، استحکام کی اور مستقبل کی طرف بڑھتے قدموں کی۔ تاہم اصل کامیابی تب ہوگی جب سیاح واپس آئیں، بار بار آئیں اور یہاں سے مطمئن ہو کر لوٹیں۔ کیونکہ کشمیر کی سیاحت کا سب سے بڑا سرمایہ نہ صرف اس کے پہاڑ اور جھیلیں ہیں بلکہ وہ احساسِ تحفظ ہے جو ایک مسافر اپنے ساتھ واپس لے کر جاتا ہے۔ یہی احساس اگر مضبوط ہو گیا تو وادی کی معیشت بھی مستحکم ہوگی اور اس کی تصویر بھی۔










