جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیش کیے گئے تازہ اعداد و شمار نے ایک ایسی حقیقت کو سرکاری طور پر آشکار کیا ہے جس کا ادراک عوامی سطح پر پہلے سے موجود تھا مگر اس شدت کے ساتھ شاید محسوس نہیں کیا جا رہا تھا۔
6.7 فیصد بے روزگاری کی شرح محض ایک معاشی اشاریہ نہیں بلکہ ایک ایسے بحران کی علامت ہے جو خاموشی سے معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کر رہا ہے۔ جب اسے قومی اوسط 3.5 فیصد کے مقابل رکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ مسئلہ عمومی معاشی سست روی کا نہیں بلکہ علاقائی نوعیت کے گہرے عدم توازن کا ہے۔
جموں و کشمیر کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ تعلیم کے مواقع بڑھنے سے ڈگری یافتہ نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے مگر اس کے متوازی روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو سکے۔ نتیجتاً تعلیم امید کے بجائے انتظار کا ذریعہ بن گئی ہے۔ نوجوان برسوں مقابلے کے امتحانات کی تیاری میں گزارتا ہے، عارضی ملازمتیں اختیار کرتا ہے یا گھر پر بے یقینی کی کیفیت میں رہتا ہے۔ اس صورتحال میں بے روزگاری صرف معاشی نہیں رہتی بلکہ نفسیاتی دباؤ، سماجی اضطراب اور احساس محرومی کو جنم دیتی ہے۔
مشن یووا کے بنیادی سروے میں تقریباً نصف افراد کا یہ کہنا کہ وہ کام کرنا چاہتے ہیں مگر کام نہیں کر رہے، دراصل مسئلے کی اصل نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں کام کرنے کی صلاحیت اور خواہش موجود ہے مگر معیشت اتنے مواقع پیدا نہیں کر پا رہی۔ یہ وہ کیفیت ہے جسے چھپی ہوئی یا مجبوری کی بے روزگاری کہا جا سکتا ہے، اور یہی سب سے زیادہ خطرناک شکل ہوتی ہے کیونکہ اس میں ناامیدی آہستہ آہستہ سماجی رویوں کو متاثر کرنے لگتی ہے۔ ایک ایسا نوجوان جو اپنی صلاحیت کے مطابق جگہ نہ پا سکے، بالآخر عدم اعتماد اور لاتعلقی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو سیاسی ردعمل کی کمی بھی ہے۔ اسمبلی میں یہ اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد توقع تھی کہ اسے ایک مشترکہ مسئلہ سمجھ کر سنجیدہ بحث کی جائے گی۔ کیونکہ روزگار کسی ایک جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے استحکام کا مسئلہ ہوتا ہے۔ لیکن معاملہ رسمی کارروائی تک محدود رہا۔
یہ اعداد و شمار سامنے رکھنے کے بعد امید تو اس بات کی تھی کہ جموںکشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں ‘ جن کے نمائندے اسمبلی میں موجود ہیں ‘ وہ سارے معاملات کو ایک طرف کرکے اس سنجیدہ مسئلہ پر غور کریں گی تاکہ اس سنگین مسئلہ کا کوئی حل تلاش کیا جا سکے ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اس مسئلہ کو کسی بھی جماعت نے ثانوی حیثیت بھی نہیں دی ۔ حکومت نے ایک سوال کے جواب میں جموںکشمیر میں بے روز گاری کے اعداد و شمار پیش کئے اور اسی کے ساتھ بات ختم ۔
یہی طرز عمل بتاتا ہے کہ بے روزگاری آہستہ آہستہ ایک معمول کی حقیقت بن چکی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی بحران معمول سمجھ لیا جائے تو اس کا حل مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ توجہ صرف سرکاری ملازمتوں پر نہیں بلکہ کاروبار اور خود روزگار کے فروغ پر ہے۔ اصولی طور پر یہ سمت درست ہے کیونکہ محدود سرکاری ڈھانچہ لاکھوں نوجوانوں کو کھپا نہیں سکتا۔ تاہم کاروبار صرف قرض فراہم کرنے سے نہیں چلتا بلکہ ایک مکمل معاشی ماحول کا تقاضا کرتا ہے۔ تربیت، مارکیٹ تک رسائی، اعتماد، رہنمائی اور ابتدائی ناکامیوں کو برداشت کرنے کا نظام یہ سب مل کر کاروباری ثقافت کو جنم دیتے ہیں۔ اگر نوجوان کو صرف قرض دے کر چھوڑ دیا جائے تو وہ چند مہینوں بعد دوبارہ اسی مقام پر آ سکتا ہے جہاں سے اس نے آغاز کیا تھا۔
اصل مسئلہ معیشت کی ساخت سے جڑا ہوا ہے۔ خطے کی معیشت طویل عرصے تک سرکاری اخراجات اور خدماتی شعبے پر منحصر رہی ہے جبکہ صنعتی بنیاد محدود ہے۔ سیاحت موسمی ہے، زراعت محدود زمینوں تک پھیلی ہوئی ہے اور نجی سرمایہ کاری احتیاط کا شکار رہتی ہے۔ ایسے میں ہر سال تعلیم یافتہ نوجوانوں کی نئی تعداد ایک چھوٹے معاشی ڈھانچے پر دباؤ بڑھا دیتی ہے۔ نتیجتاً ملازمت کے مواقع بڑھنے کے بجائے مسابقت بڑھتی ہے۔
اس صورتحال کا حل وقتی اسکیموں سے ممکن نہیں بلکہ طویل المدتی معاشی حکمت عملی سے ممکن ہے۔ تعلیم کو مقامی معیشت کی ضرورت سے جوڑنا ہوگا تاکہ ڈگری اور ہنر کے درمیان فاصلہ کم ہو۔ چھوٹے کاروبار کو صرف رجسٹریشن تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں منڈیوں سے جوڑنا ہوگا۔ مقامی پیداوار کو علاقائی اور قومی مارکیٹ تک رسائی دینا ہوگی تاکہ روزگار کا دائرہ مقامی کھپت سے آگے بڑھ سکے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ نوجوان کو ایک ہی دروازے یعنی سرکاری ملازمت کے انتظار سے نکال کر متعدد راستوں پر اعتماد دینا ہوگا۔
بے روزگاری کا مسئلہ دراصل وقت کے ساتھ مقابلہ ہے۔ جتنا دیر سے اسے سنجیدگی سے لیا جائے گا اتنا ہی اس کے سماجی اثرات گہرے ہوتے جائیں گے۔ آج کا بے روزگار نوجوان کل کا ناراض شہری بن سکتا ہے اور ناراضی کسی بھی معاشرے کی ترقی کی رفتار کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسے محض معاشی اعداد و شمار نہ سمجھا جائے بلکہ انسانی امکانات کا مسئلہ سمجھا جائے۔
جموں و کشمیر کے پاس سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں۔ اگر انہیں مواقع مل جائیں تو یہی طاقت معیشت کو سہارا دے سکتی ہے، اور اگر مواقع نہ ملیں تو یہی طاقت مایوسی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ فیصلہ پالیسیوں سے کم اور ترجیحات سے زیادہ جڑا ہوا ہے۔ جب روزگار کو مرکزی ترجیح بنا لیا جائے گا تو حل کی سمت خود واضح ہونا شروع ہو جائے گی۔





