سندھ طاس معاہدہ کی منسوخی کے بعد مرکزی حکومت کا دریائے چناب پر۵۱۲۹کروڑ روپے کی لاگت سے ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ پر کام شروع کرنے کا حکم ایک اہم اور مثبت پیش رفت ہے ۔
گزشتہ سال جب مرکزی حکومت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا تو اس کے بعد پہلی مرتبہ ایسا امکان پیدا ہوا ہے کہ جموں کشمیر اپنے آبی وسائل کے استعمال کے بارے میں آزادانہ منصوبہ بندی کر سکے۔ ساولکوٹ منصوبے پر کام شروع کرنے کا فیصلہ محض ایک انفراسٹرکچر منصوبہ نہیں بلکہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ یہ اس سوچ کی علامت ہے کہ پانی کو صرف بہنے دینا نہیں بلکہ اسے توانائی، معیشت اور روزگار میں بدلنا بھی ضروری ہے۔
جموں کشمیر کی تاریخ میں پانی ہمیشہ ایک عجیب تضاد کی علامت رہا ہے۔ ایک طرف پہاڑوں سے اترتے دریا، گرجتے آبشار اور بے پناہ پن بجلی کی صلاحیت، اور دوسری طرف دہائیوں تک بجلی کی قلت، سردیوں میں اندھیرے اور ترقی کی سست رفتار۔ اس تضاد کی جڑیں صرف جغرافیہ میں نہیں بلکہ سیاست اور بین الاقوامی معاہدوں میں بھی پیوست ہیں۔۱۹۶۰کا سندھ طاس معاہدہ اسی تضاد کی بنیادی وجہ بنا۔ بظاہر یہ دو ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاہدہ تھا، مگر اس کا سب سے بڑا بوجھ جس خطے نے اٹھایا وہ جموں کشمیر تھا وہ خطہ جہاں سے یہ دریا نکلتے ہیں۔
معاہدے کے تحت تین مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے لیے مخصوص قرار پائے جبکہ بھارت کو ان کے استعمال کا محدود حق ملا، وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ پانی ذخیرہ نہ کیا جائے اور بڑے پیمانے پر کنٹرول نہ ہو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جموں کشمیر میں بڑے آبی ذخائر بنانے کی گنجائش محدود ہو گئی اور پن بجلی کے بیشتر منصوبے تکنیکی پابندیوں کے دائرے میں قید ہو کر رہ گئے۔ جو علاقے پانی پیدا کرتے تھے وہی اس سے کم ترین فائدہ اٹھا سکے۔ پانی بہتا رہا مگر مقامی معیشت کو توانائی نہ مل سکی۔
گزشتہ دہائیوں میں یہ صورتحال بار بار سامنے آئی کہ کسی بھی نئے منصوبے کے ڈیزائن پر اعتراض اٹھ جاتا، ڈیم کی اونچائی کم کرنی پڑتی، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش گھٹ جاتی یا بین الاقوامی سطح پر تنازع کھڑا ہو جاتا۔ نتیجتاً کئی منصوبے برسوں التوا کا شکار رہے۔ ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ اسی تاخیر کی ایک واضح مثال ہے جو تقریباً چار دہائیوں تک فائلوں میں دبا رہا۔ اگر ایسے منصوبے وقت پر مکمل ہوتے تو آج جموں کشمیر نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر رہا ہوتا بلکہ شمالی ہندوستان کو بجلی فراہم کرنے والا بڑا مرکز بن چکا ہوتا۔
یہ محض اقتصادی نقصان نہیں تھا بلکہ سماجی اور ترقیاتی اثرات بھی سامنے آئے۔ صنعت کاری محدود رہی، روزگار کے مواقع پیدا نہ ہو سکے، اور خطہ اپنی قدرتی صلاحیت کے باوجود مرکزی امداد پر انحصار کرتا رہا۔ سردیوں میں بجلی کی کٹوتیاں ایک مستقل مسئلہ بن گئیں حالانکہ یہی خطہ ہزاروں میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اپنی ایک درمیانی جسامت کی ندی سے اتنی بجلی پیدا کرتے ہیں جتنی صلاحیت صرف چناب کے ایک حصے میں موجود ہے، مگر یہاں پانی کے ساتھ سب سے زیادہ احتیاط برتی گئی۔
چناب بیسن میں دیگر منصوبوں کو تیز رفتار بنیادوں پر مکمل کرنے کے فیصلے اسی سمت کی کڑی ہیں۔ اگر ان منصوبوں کو بروقت مکمل کیا گیا تو آنے والے برسوں میں جموں کشمیر کی توانائی صورتحال مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔ بجلی کی خود کفالت کے ساتھ ساتھ اضافی بجلی کی فروخت سرکاری آمدنی کا بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس سے مقامی صنعتوں کو سستی توانائی ملے گی، سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کو تقویت ملے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ایک ایسا خطہ جو اب تک قدرتی وسائل کے باوجود معاشی طور پر محدود رہا، توانائی کے ذریعے خود انحصاری کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ دہائیوں میں جو منصوبے اعتراضات، سفارتی تنازعات یا قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے رکے رہے، انہیں اب ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ صرف بڑے ڈیم نہیں بلکہ درمیانے اور چھوٹے پن بجلی منصوبے بھی شروع ہونے چاہئیں تاکہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں مقامی سطح پر ترقی کا عمل شروع ہو۔ اگر منصوبہ بندی جامع ہو تو پن بجلی یہاں زراعت، سیاحت اور چھوٹی صنعتوں کو بھی نئی زندگی دے سکتی ہے۔
البتہ ترقی کے اس مرحلے میں ماحولیاتی توازن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پہاڑی علاقوں کا ماحولیاتی نظام حساس ہوتا ہے، اس لیے جدید انجینئرنگ، مناسب بحالی پالیسی اور مقامی آبادی کی شمولیت لازمی ہے۔ ترقی اسی وقت پائیدار ہوگی جب مقامی لوگوں کو اس کے فوائد براہ راست ملیں اور ماحول محفوظ رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جموں کشمیر نے ایک ایسے معاہدے کی قیمت دہائیوں تک ادا کی جس میں اس کی رائے شامل نہیں تھی۔ اب حالات بدل رہے ہیں اور یہ خطہ اپنے وسائل کے مطابق اپنی تقدیر سنوارنے کا موقع پا رہا ہے۔ ساولکوٹ جیسے منصوبے اس تبدیلی کی علامت ہیں۔ یہ صرف بجلی گھر نہیں بلکہ اس احساس کا اظہار ہیں کہ دریا جس زمین سے نکلتے ہیں، سب سے پہلے اسی زمین کے لوگوں کے کام آنے چاہئیں۔
اگر حکومت سنجیدگی سے تمام زیر التوا منصوبوں کو مکمل کرے، واضح توانائی پالیسی اپنائے اور عمل درآمد میں تاخیر نہ ہونے دے تو آنے والے برسوں میں جموں کشمیر کا تشخص بدل سکتا ہے۔ بجلی کی قلت کی جگہ توانائی کی فراوانی لے سکتی ہے، انحصار کی جگہ خود کفالت آ سکتی ہے اور قدرتی وسائل پہلی بار حقیقی معنوں میں مقامی ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
سندھ طاس معاہدے کی معطلی دراصل ایک تاریخی اقتصادی موقع ہے۔ اگر اس موقع کو درست منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی سے استعمال کیا گیا تو ممکن ہے کہ مستقبل میں جموں کشمیر کی پہچان تنازع نہیں بلکہ توانائی اور ترقی بن جائے اور اس کے دریا آخرکار اسی سرزمین کی خوشحالی کا سبب بنیں جہاں سے وہ جنم لیتے ہیں۔





