جموں: جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں دہشت گردوں کے خلاف جاری ’آپریشن تراشی-ون‘ نے سوموار کو۱۲ روز مکمل کر لیے، جس دوران سیکورٹی فورسز نے گھنے جنگلات، دشوار گزار پہاڑی راستوں اور برف پوش علاقوں میں اپنی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔
یہ آپریشن۷آسام رائفلز، سی آئی ایف ڈیلٹا وائٹ نائٹ کور، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ کوشش ہے، جس کا مقصد کشتواڑ کے جنگلات میں روپوش دہشت گردوں کا صفایا کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق فورسز مسلسل چھاترو، دچار اور سنگپورہ کے پورے بیلٹ میں گہرے جنگلات کے اندر تک سرچ آپریشن میں مصروف ہیں، جہاں اطلاعات کے مطابق تین سے زیادہ دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ فورسز جدید آلات، ڈرون سرویلانس اور پٹرولنگ کے ذریعے علاقے کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔
فورسز نے بتایا کہ۴فروری کی شام تقریباً پونے چھ بجے ڈچر کے جنرل ایریا میں دہشت گردوں سے دوبارہ رابطہ قائم ہوا، جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
وائٹ نائٹ کور نے ایک بیان میں کہا:’’چیلنجنگ جنگلاتی علاقے میں دہشت گردوں کی تلاش جاری تھی، اسی دوران دوبارہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر رابطہ قائم ہوا اور ایک دہشت گرد کو مار گرایا گیا۔ آپریشن ابھی بھی جاری ہے۔‘‘
مرنے والے دہشت گرد کی شناخت فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی، تاہم سیکورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ گروپ ضلع کے پہاڑی علاقے میں سرگرم ایک اہم جیشِ محمد سے وابستہ سیل کا حصہ ہے۔
اس آپریشن کے دوران۱۸؍اور۱۹ جنوری کی درمیانی شب اسپیشل فورسز کے جوان حوالدار گجندر سنگھ دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران شہید ہوئے۔ وہ سنگھ پورہ کے علاقے میں دہشت گردوں کی تلاش میں مصروف تھے کہ جھڑپ کے دوران شدید زخمی ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس آپریشن کے دوران فورسز کو پہلے بھی کئی مقامات پر دہشت گردوں کے ساتھ مختصر آمنا سامنا ہوا تھا، لیکن دشوار گزار جنگلاتی علاقے اور برف باری نے کارروائی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ موسمی رکاوٹوں، کھڑی چٹانوں اور گھنے جنگلات کے باوجود فورسز نے علاقے میں مضبوط گھیرا بندی قائم کی ہوئی ہے تاکہ کسی بھی دہشت گرد کو فرار نہ ہونے دیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن تراشی-ون کو ہائی رسک کاؤنٹر ٹیررزم مشن سمجھا جا رہا ہے، جس میں فورسز قدم بہ قدم پیش رفت کر رہی ہیں۔
انتظامیہ نے مقامی آبادی سے بھی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے لوگوں کو مشکوک نقل و حرکت کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت دی ہے۔ متعدد دیہات میں رات کے وقت نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے جبکہ حساس پوائنٹس پر ناکے اور پٹرولنگ بڑھا دی گئی ہے۔
فورسز کا کہنا ہے کہ چونکہ علاقے میں ابھی بھی چند دہشت گردوں کی موجودگی کے پختہ شواہد ہیں، اس لیے آنے والے دنوں میں مزید رابطوں اور جھڑپوں کا امکان ہے۔
کشتواڑ میں جاری یہ بڑا انسدادِ دہشت گردی آپریشن اس وقت جنوبی اور وسطی کشمیر کے بعد خطے میں دہشت گردی کے خلاف سب سے اہم آپریشن سمجھا جا رہا ہے۔










