پہلے ریاستی درجہ، پھر خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی ہمارا اگلا مرحلہ ہوگا؛ مرکز نے ہمیں دہلی میں احتجاج پر مجبور کیا:وزیرا علیٰ
’ہم مرکزی حکومت کو اس وعدے کی یاد دلانا چاہتے تھے جو اس نے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے کیا تھا‘
ایجنسیاں
نئی دہلی؍۲۰ جولائی
جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس (این سی) نے پیر کو نئی دہلی میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ ریاستی درجے کی بحالی ان کی جماعت کی سیاسی جدوجہد کا صرف پہلا مرحلہ ہے، جس کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور دیگر آئینی حقوق کی بحالی کے لیے تحریک چلائی جائے گی۔
یہ احتجاج نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں منعقد کیا گیا، جس کا مقصد مرکز کو اسمبلی انتخابات کے بعد جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے سے متعلق اپنے بار بار کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرانا تھا۔
احتجاج میں شرکت سے قبل عمر عبداللہ دن کے وقت جموں گئے تھے، جہاں انہوں نے اچانک آنے والے سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا، جس کے بعد وہ دہلی واپس پہنچے اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ آٹو رکشہ کے ذریعے جنتر منتر پہنچے۔
احتجاج کا آغاز جنتر منتر پر ہوا، تاہم بعد میں مظاہرے کی اجازت نہ ملنے پر اسے روک دیا گیا۔ اس کے بعد نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں نے کانسٹی ٹیوشن کلب کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ پولیس نے احتجاج جاری رکھنے کی کوشش کرنے والے پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے سے قبل تمام جمہوری ذرائع استعمال کیے، لیکن مرکز نے انہیں دہلی میں احتجاج کرنے پر مجبور کر دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہم گزشتہ دو برس سے مسلسل مرکز کو اس کے وعدے یاد دلا رہے ہیں۔ ہم نے ان سے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام اور سپریم کورٹ سے کیے گئے وعدے پورے کریں، مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ ریاستی درجے اور خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ اسمبلی کے پہلے اجلاس ہی سے ان کی جماعت کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا’’اسمبلی کے پہلے ہی دن ہم نے ایک خصوصی قرارداد منظور کی تھی، جس میں ریاستی درجہ، خصوصی حیثیت اور ہمیں دیے گئے آئینی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ہم اپنے اس ایجنڈے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ احتجاج ایک طویل سیاسی مہم کا آغاز ہے۔’’ہم نے مرکز کو اس کے وعدے یاد دلانے کے لیے یہ احتجاج کیا ہے۔ سب کچھ یہیں سے شروع ہوگا۔ پہلے ریاستی درجہ، پھر خصوصی حیثیت کی بحالی‘‘۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ قومی دارالحکومت میں بھی انہیں پرامن احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی۔
عمرعبداللہ نے کہا’’ہم اپنے ملک کے دارالحکومت میں اپنا جائز حق مانگنے آئے ہیں، مگر افسوس کہ یہاں بھی ہمیں پرامن احتجاج کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ جمہوریت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سے تقریباً۵۰ سے۱۰۰؍ افراد اس امید کے ساتھ دہلی آئے تھے کہ وہ جنتر منتر پر پرامن دھرنا دے کر مرکزی حکومت سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں گے۔
مرکز کی یقین دہانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہم مرکزی حکومت کو اس وعدے کی یاد دلانا چاہتے تھے جو اس نے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے کیا تھا کہ انتخابات کے فوراً بعد ریاستی درجہ بحال کر دیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے بھی کہا تھا کہ یہ کام جلد از جلد ہونا چاہیے۔ اس لیے جموں و کشمیر کو مزید تاخیر کے بغیر ریاستی درجہ دیا جانا چاہیے‘‘۔
ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے ’مناسب وقت‘ کی بات پر سوال اٹھاتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’اگر حکومت سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل نہیں کرنا چاہتی تو اسے کھل کر کہہ دینا چاہیے کہ اس کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اس کے بعد ہم اپنا آئندہ لائحۂ عمل طے کریں گے‘‘۔
اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو مرکز کو اس کے اپنے وعدے یاد دلانے کے لیے دہلی آنا پڑا۔
چودھری نے کہا’’آپ نے انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اب تقریباً ڈیڑھ سال گزر چکا ہے، لیکن نہ وزیر اعظم نے اور نہ ہی وزیر داخلہ نے یہ وعدہ پورا کیا‘‘ ۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس، کانگریس اور اتحادی جماعتیں دہلی میں اس لیے جمع ہوئی ہیں تاکہ مرکز کو وہ یقین دہانی یاد دلائی جا سکے جو اس نے پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر کے عوام سے کی تھی۔انہوں نے سوال کیا’’وہ مناسب وقت آخر کب آئے گا جس کا بار بار ذکر کیا جا رہا ہے؟‘‘
بعد ازاں کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کی۔ اجلاس میں کئی قومی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔
اجلاس میں شریک رہنماؤں نے متفقہ طور پر کہا کہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی ایک آئینی اور جمہوری تقاضا ہے اور انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے مفاد میں اپنے وعدے کو جلد پورا کرے۔
واضح رہے کہ اگست۲۰۱۹ میں دفعہ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ دسمبر۲۰۲۳ میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے مرکز کو ہدایت دی تھی کہ جموں و کشمیر کو جلد از جلد دوبارہ ریاست کا درجہ بحال کیا جائے۔










