ویانا، 20 جولائی (یو این آئی) آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے گزشتہ ہفتے سے تیل کی قیمتیں مسلسل چڑھ رہی ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری دو طرفہ حملوں کے باعث آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے توانائی کی عالمی ترسیل پر منفی اثرات کے خدشات میں اضافے کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔
دنیا بھر میں سمندری راستے سے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔
جمعے کے روز برینٹ خام تیل اور امریکی معیار کے خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ‘WTI’دونوں کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور برینٹ خام تیل کی قیمت 11 جون کے بعد پہلی مرتبہ 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں یہ تازہ اضافہ امریکہ کے ایرانی اہداف پر تازہ حملوں کے بعد ہوا ہے۔جوابی کاروائی میں تہران نے بھی خلیج میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کئے ہیں۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے اس خدشے کو دوبارہ جنم دیا ہے کہ مہنگائی بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہے اور شرحِ سود میں متوقع کمی مؤخر ہو سکتی ہے۔ تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر معاشی عوامل اس صورتحال کو کسی حد تک متوازن رکھے ہوئے ہیں۔
اجناس کی مشاورتی کمپنی SPI Asset Management سے اسٹیفن اِنز نے کہاہے کہ”منڈیاں ایک مرتبہ پھردو متضاد کہانیوں کے درمیان توازن قائم کرنے پر مجبور ہیں جو بظاہر ایک ہی منظرنامے کا حصہ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ اگرچہ تیل کی بلند قیمتیں مالیاتی منڈیوں میں ایک نیا جغرافیائی سیاسی رسک پریمیم شامل کر رہی ہیں، تاہم امریکہ میں مہنگائی میں کمی اور محنت کی منڈی میں نرمی کے باعث یہ امکان کم ہے کہ تیل کی قیمتوں کا جھٹکا وسیع پیمانے پر مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے گا۔
اسٹیفن اِنز کے مطابق اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر تیل کی بلند قیمتیں طویل عرصے تک برقرار رہیں تو وہ صارفین کے اخراجات کو کمزور کر سکتی ہیں اور عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار کو سست کر سکتی ہیں۔










