سمارٹ سٹی منصوبے کی افادیت پر اٹھے سوالات‘آئندہ تین روز شدید سے انتہائی شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا انتباہ
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۰ جولائی
پیر کے روز ہونے والی موسلا دھار بارش نے سرینگر کے کئی نشیبی علاقوں کو زیرِ آب کر دیا، جس کے نتیجے میں شہر بھر میں وسیع پیمانے پر پانی جمع ہو گیا اور معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔
وادی میں بارشوں کے فعال سلسلے کی پیش گوئی کے بعد ہونے والی شدید بارش سے متعدد سڑکیں زیرِ آب آگئیں، جبکہ بوشوارہ-ڈل گیٹ علاقے میں رہائشی مکانات، تجارتی مراکز، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔
ڈل جھیل کے کنارے واقع سرینگر کی مصروف ترین سیاحتی شاہراہ بلیوارڈ روڈ مکمل طور پر زیرِ آب رہی، جس کے باعث ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی اور مسافروں، سیاحوں اور مقامی تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں سڑک کے طویل حصے بارش کے پانی میں ڈوبے ہوئے نظر آئے، جبکہ گاڑیاں جمع شدہ پانی میں بمشکل آگے بڑھتی دکھائی دیں۔
مقامی رہائشیوں اور تاجروں نے بتایا کہ بوچھوارہ ڈل گیٹ علاقے میں متعدد گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں بارش کا پانی داخل ہوگیا، جس سے املاک کو نقصان پہنچا اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نکاسیٔ آب کے ناقص نظام نے معمول کی بارش کو بھی شہر کے لیے مستقل بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔
ادھر جے وی سی اسپتال بھی پانی میں گھر گیا، جس کے باعث مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
پانی جمع ہونے کے اس تازہ واقعے نے ایک مرتبہ پھر سرینگر اسمارٹ سٹی منصوبے کی افادیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ شہریوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہری بنیادی ڈھانچے پر بھاری سرمایہ خرچ کیے جانے کے باوجود شہر کی اہم شاہراہیں اور تجارتی علاقے ہر شدید بارش کے بعد زیرِ آب آ جاتے ہیں۔ انہوں نے شہر کے نکاسیٔ آب کے نظام میں فوری اور مؤثر بہتری لانے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب متعلقہ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے اور متاثرہ علاقوں سے پانی نکالنے کی کارروائیاں جاری تھیں۔
دریں اثنا، محکمۂ موسمیات نے پیر کے روز جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے آئندہ تین روز کے دوران شدید سے انتہائی شدید بارش، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور دریاؤں میں طغیانی کا انتباہ دیا ہے۔
محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر مختار احمد نے بتایا کہ یونین ٹیریٹری میں موسمی سرگرمیوں میں شدت آنے کے پیش نظر پہلے ہی ایڈوائزری جاری کی جا چکی ہے، جبکہ جموں ڈویژن کے پیر پنجال پہاڑی سلسلے میں سب سے زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے۔
احمد نے کہا’’موجودہ موسمی صورتحال اور بڑھتی ہوئی موسمی سرگرمیوں کے پیش نظر ہم پہلے ہی ایڈوائزری جاری کر چکے ہیں۔ خاص طور پر جموں ڈویژن کے پیر پنجال علاقے میں شدید اور بعض مقامات پر انتہائی شدید بارش متوقع ہے‘‘۔
محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ پیر کی صبح وادیٔ کشمیر میں بھی شدید بارش ہوئی اور آئندہ چند روز تک مزید بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
ان کے مطابق منگل کے روز وادیٔ کشمیر میں بالخصوص علی الصبح اور صبح کے اوقات میں درمیانی سے شدید بارش متوقع ہے، جبکہ جموں ڈویژن میں اسی دوران شدید سے انتہائی شدید بارش ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’کئی مقامات پر شدید جبکہ بعض علاقوں میں انتہائی شدید بارش کا امکان ہے‘‘۔
احمد نے مزید کہا کہ منگل اور بدھ کے دوران بارشوں کی شدت برقرار رہے گی، جبکہ جنوبی کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں درمیانی سے شدید بارش متوقع ہے۔ان کے مطابق’’کچھ مقامات پر مختصر وقت میں انتہائی تیز بارش ہو سکتی ہے، جسے موسلادھار بارش بھی کہا جاتا ہے‘‘۔
انہوں نے خبردار کیا کہ شدید بارش کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں قلیل وقت میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ اچانک سیلاب، دریاؤں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے، خصوصاً پہاڑی اضلاع میں۔
محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر نے کہا’’اس قسم کی موسمی صورتحال نشیبی علاقوں میں مختصر وقت میں سیلاب کا سبب بن سکتی ہے۔ اچانک سیلاب اور دریاؤں میں طغیانی کے امکانات بہت زیادہ ہیں‘‘۔
احمدنے سیاحوں، ٹرانسپورٹروں اور عام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔انہوں نے مزید کہا ’’متعدد اضلاع، خصوصاً پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے امکانات بھی زیادہ ہیں، اس لیے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے‘‘۔
احمد نے کسانوں کو بھی مشورہ دیا کہ آئندہ تین سے چار روز تک آبپاشی اور زرعی سرگرمیاں عارضی طور پر ملتوی رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ۴۸ گھنٹوں کے دوران مسلسل بارشوں کے باعث بعض اضلاع کے لیے ریڈ الرٹ جبکہ جنوبی کشمیر، اس سے ملحقہ علاقوں اور شمالی کشمیر کے بعض حصوں کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر نے کہا ’’مجموعی طور پر۲۳ جولائی تک کشمیر وادی اور جموں ڈویژن دونوں میں موسم خراب رہے گا، جس کے بعد موسمی صورتحال میں بہتری آنے کا امکان ہے۔‘‘










