سیاست میں ڈرامہ بازی نہیں ہو گی تو پھر کہاں ہو گی …….سیاستدان چونکہ اعلیٰ درجے کے ڈرامہ باز ہو تے ہیں اس لئے اگر یہ حضرات اپنے اس ہنر اور فن کا مظاہرہ سیاست میں نہیں کریں گے تو صاحب آپ ہی بتائےکہ پھر کہاں کریں گے ……. اور جب بات اسمبلی اجلاس کی ہو تو صاحب ان کی ڈرامہ بازی کے ہنر میں جو نکھا ر آتا ہے …….ان کی ڈرامہ بازی اور ادا کاری جن بلندیوں کو چھولیتی ہے‘ عام دنوں میں اس طرح کی بلندی حاصل کرنا ممکن نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے ۔ اپنے جموں کشمیر میں اس وقت اسمبلی اجلاس جاری ہے اور…….اورتوقع کی جانی چاہیے کہ سبھی جماعتوں اور سیاستدانوں سے ہمیں ان کے اس ہنر کو دیکھنےکا موقع ملے گا اور …….اور بار بار ملے گا ۔ آج منگل کی صبح حکمران جماعت ‘ نیشنل کانفرنس کے ممبران اسمبلی نے اسمبلی کے احاطے میں جموں کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کی مانگ کے حق میں ایک عدد احتجاج کیا ۔نیشنل کانفرنس ‘ جموں کشمیر کی حکمران جماعت ہے ‘ اس کے ہاتھوں میں عنان حکومت ہے اور یہ گزشتہ ۱۵ مہینوں سے جموںکشمیر پر حکمرانی کررہی ہے …….اسمبلی اجلاس کے دوران اسمبلی کے اندر نہیں بلکہ ایوان سے باہر ریاستی درجے کی مانگ کا مطالبہ کرنا بھی اس جماعت کی ڈرامہ بازی ہی ہے کہ آپ ہمیں ایک بات بتائیے ‘یہ بات کہ اس جماعت کو کس نے روکا ……. اس کے ہاتھ کس نے باندھ دئے تھے جو یہ ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ ایوان میں نہیں کر سکتی تھی ؟ارے صاحب اسپیکر اسی جماعت کا ہے ‘ اس کے اتحاد ی بھی چاہتے ہیں کہ نیشنل کانفرنس ریاستی درجے کی بحالی کا زور زور سے مطالبے کرے…….اتحادی ہی نہیں بلکہ بی جے پی کو چھوڑ کر دوسرے اپوزیشن ممبران بھی ایسا ہی چاہتے ہیں ……. پھر بھی این سی نے اسمبلی کے اندر نہیں بلکہ باہر احتجاج کیا اور……. اور اس لئے کیا کیونکہ صاحب اسمبلی اجلاس کے دوران سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کی ڈرامے بازی کی خداداد صلاحیت کو جلا ملتی ہے اور …….اور وہ ڈرامہ کرنے سے خود کو نہیں روک سکتی ہیں ……. خود کو روک نہیں پاتی ہیں اور ……. اور حکمران جماعت استثنیٰ نہیں ہے …….بالکل بھی نہیں ۔ابھی تو صاحب اسمبلی اجلاس کی شروعات ہی ہے‘ ہم کچھ اور تو نہیں لیکن یہ ایک بات یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ……. کہ آنے والے دنوں میں ہمیں اس سے بھی اچھی ڈرامہ بازی دیکھنے کو ملے گی …….این سی ہی نہیں بلکہ دوسری جماعتوں کی جانب سے بھی …… اور ہاںبی جے پی سے بھی ۔ ہے نا؟




