جموں کشمیر میں حکمران جماعت ‘ نیشنل کانفرنس اور اس کی اتحادی ،کانگریس پارٹی میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ کانگریس کی جانب سے مشترکہ قانون ساز پارٹی اجلاس سے علامتی دوری اور اس کے بعد سامنے آنے والے بیانات نے نیشنل کانفرنس،کانگریس اتحاد کی حقیقت پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ محض ایک اجلاس میں شرکت یا عدم شرکت کا معاملہ نہیں، بلکہ حکومت سازی کے بعد اتحادی سیاست کے رویّے، فیصلوں کے عمل اور جمہوری شراکت داری کے تصور کا امتحان ہے۔
کانگریس کا الزام ہے کہ انتخابات سے قبل دونوں جماعتوں کے درمیان جو ہم آہنگی اور مشترکہ مقصد دکھائی دیتا تھا، وہ اقتدار میں آنے کے بعد کہیں کھو گیا۔ پندرہ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود رابطہ کمیٹی کا نہ بننا، بڑے فیصلوں میں اتحادی جماعت کو اعتماد میں نہ لینا، اور حساس سیاسی و انتظامی امور پر یکطرفہ طرزِ عمل—یہ سب ایسے نکات ہیں جنہیں محض ناراضگی کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اتحادی حکومتیں صرف عددی اکثریت کا نام نہیں ہوتیں، بلکہ اعتماد، مشاورت اور مشترکہ ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہیں۔ جب ایک بڑی جماعت اقتدار کے نشے میں اتحادی کو محض ووٹ بینک یا عددی سہارا سمجھنے لگے، تو اختلافات جنم لیتے ہیں۔ کانگریس کی شکایت یہی ہے کہ حکمران اتحاد کا حصہ ہونے کے باوجود فیصلہ سازی سے باہر رکھا گیا، چاہے وہ ریاستی درجہ بحالی کا سوال ہو، ریزرویشن پالیسی، انتظامی اصلاحات یا مرکز کے ساتھ سیاسی حکمتِ عملی۔
ریاستی درجہ کی بحالی کا مسئلہ خاص طور پر اس تنازعے کے مرکز میں ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جس پر جموں و کشمیر کی عوام کی بڑی اکثریت متفق دکھائی دیتی ہے۔ کانگریس کا موقف ہے کہ وہ اس مطالبے کو مسلسل اٹھاتی رہی ہے، مگر نیشنل کانفرنس کی جانب سے مطلوبہ سنجیدگی اور جارحانہ سیاسی دباؤ نظر نہیں آیا۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ محض اتحادی سیاست کی ناکامی نہیں، بلکہ عوامی اعتماد سے انحراف کے مترادف ہے۔
اسی طرح ریزرویشن اور انتظامی فیصلوں پر عدم مشاورت بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ جمہوری نظام میں پالیسی فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ شراکت داروں کے ساتھ مکالمے سے ہونے چاہئیں۔ اگر اتحادی جماعت کو بعد میں محض فیصلوں کی اطلاع دی جائے، تو یہ اتحاد کے تصور کو کمزور کرتا ہے اور سیاسی نقصان کا سبب بنتا ہے—جیسا کہ کانگریس نے خود اعتراف کیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس نے واضح کیا ہے کہ اس کی ناراضگی اقتدار یا عہدوں کے مطالبے سے نہیں جڑی۔ یہ بات اگر خلوص پر مبنی ہے تو اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی اتحادی جماعت کا یہ کہنا کہ ہم اقتدار نہیں بلکہ وعدوں کی تکمیل چاہتے ہیں، دراصل سیاست میں اصولی موقف کی یاد دہانی ہے۔ انتخابات سے قبل عوام سے کیے گئے وعدے کسی ایک جماعت کے نہیں ہوتے، بلکہ پورے اتحاد کی اخلاقی ذمہ داری بن جاتے ہیں۔
اس تمام صورتِ حال میں کانگریس کا یہ اعلان بھی قابلِ غور ہے کہ وہ اسمبلی کے اندر اور باہر ان مسائل کو اٹھاتی رہے گی، چاہے اتحادی اس کا ساتھ دیں یا نہ دیں۔ یہ بیان ایک طرف جمہوری حق کا اظہار ہے، تو دوسری طرف اتحاد کے مستقبل پر سوالیہ نشان بھی۔ اگر حکومت میں شامل جماعت ہی اپوزیشن کا سا کردار ادا کرنے لگے تو نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
نیشنل کانفرنس کی جانب سے بحران کو کم کرنے کی کوشش، اور رابطہ کمیٹی بنانے کا وعدہ، ایک مثبت قدم ضرور ہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ قدم وقت پر کیوں نہ اٹھایا گیا؟ پندرہ ماہ بعد اگر شکوے سنجیدہ مانے جا رہے ہیں تو یہ تاخیر خود اس الزام کو تقویت دیتی ہے کہ اتحادی کو نظرانداز کیا گیا۔ مزید یہ کہ رابطہ کمیٹی کو مؤثر بنانے کے لیے صرف اعلان کافی نہیں، بلکہ اسے حقیقی اختیارات، باقاعدہ اجلاس اور شفاف طریقۂ کار دینا ہوگا۔
یہ بحران صرف دو جماعتوں کے درمیان نہیں، بلکہ پورے سیاسی نظام کے لیے ایک سبق ہے۔ جموں و کشمیر جیسے حساس خطے میں جہاں عوام پہلے ہی عدم استحکام اور غیر یقینی کیفیت کا شکار رہے ہیں، وہاں حکومتی اتحاد کا کمزور ہونا عوامی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ بجٹ اجلاس کے دوران اگر حکمران اتحاد اندرونی اختلافات میں الجھا رہے گا تو اپوزیشن کو نہ صرف تنقید کا موقع ملے گا بلکہ عوامی توجہ بھی اصل مسائل سے ہٹ سکتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اتحادی سیاست میں اختلافات فطری ہوتے ہیں۔ مگر فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ انہیں کیسے سنبھالا جاتا ہے۔ اگر اختلافات کو دبایا جائے، یا محض بیانات کی حد تک حل کرنے کی کوشش کی جائے، تو وہ وقت کے ساتھ گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر شفاف مکالمہ، باہمی احترام اور وعدوں کی پاسداری کو بنیاد بنایا جائے تو اتحاد نہ صرف قائم رہ سکتا ہے بلکہ مضبوط بھی ہو سکتا ہے۔
آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا نیشنل کانفرنس اور کانگریس اس بحران کو ایک موقع میں بدل سکتی ہیں؟ ایک ایسا موقع جہاں وہ اتحاد کی نئی بنیاد رکھیں، عوامی وعدوں کو مرکز میں لائیں، اور یہ ثابت کریں کہ اقتدار ان کے لیے مقصد نہیں بلکہ ذریعہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ تنازع محض سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ آنے والے وقت میں حکومتی استحکام، عوامی اعتماد اور جمہوری اقدار—سب پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
جموں و کشمیر کی سیاست اس وقت کسی نئی کشمکش کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ عوام کو نتائج چاہئیں، وعدوں کی تکمیل چاہیئے، اور ایک ایسی حکومت جو اختلافات کے باوجود متحد ہو کر مسائل حل کرے۔ اتحاد کی اصل آزمائش یہی ہے—اور یہی اس وقت کا سب سے بڑا سوال بھی۔





