جمعرات, جون 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

قرض، خودداری اور غلط ترجیحات کا انجام

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-01
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا یہ اعتراف کہ وہ اور فوجی سربراہ دنیا بھر میں ’’قرض مانگتے‘‘ پھرتے ہیں اور اس پر ’’شرمندگی‘‘ محسوس کرتے ہیں‘ ایک ریاستی ناکامی کا کھلا اعتراف ہے۔ یہ بیان کسی حزبِ اختلاف کے جلسے میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں ملک کے بڑے برآمد کنندگان اور صنعت کاروں کے سامنے دیا گیا‘یعنی اس طبقے کے روبرو جسے معیشت کا ستون سمجھا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ بات کہی کیوں گئی، سوال یہ ہے کہ یہ نوبت آئی کیوں؟
    کسی بھی ملک کے لیے قرض لینا بذاتِ خود جرم نہیں۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک بھی قرض لیتے ہیں، مگر فرق نیت، ترجیح اور استعمال کا ہوتا ہے۔ جب قرض مستقبل کی پیداوار، انسانی سرمائے، تحقیق، تعلیم اور صنعت پر خرچ ہو تو وہ سرمایہ کاری بن جاتا ہے۔ لیکن جب قرض محض سابقہ قرض کا سود اتارنے، اشرافیہ کے طرزِ زندگی کو برقرار رکھنے، یا ریاستی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے لیا جائے تو وہ زنجیر بن جاتا ہے—ایسی زنجیر جو خودداری، خودمختاری اور فیصلے کی آزادی سب کچھ جکڑ لیتی ہے۔
    آج پاکستان اسی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ۲۰۲۵تک پاکستان کا مجموعی عوامی قرض۷۶ ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جو صرف چار برس میں تقریباً دوگنا ہوا۔ یہ محض ایک معاشی عدد نہیں، بلکہ ایک سیاسی اور اخلاقی بحران کی علامت ہے۔ پاکستان اس وقت اپنے۲۳ویں آئی ایم ایف پروگرام پر ہے—یہ حقیقت خود اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ وقتی نہیں، ساختی ہے۔
    یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا۔ اس کی جڑیں ان غلط ترجیحات میں پیوست ہیں جو دہائیوں سے پاکستان کی ریاستی پالیسی کا حصہ رہی ہیں۔ ایک ایسا ملک جس نے تعمیر کے بجائے تخریب کو ترجیح دی، انسانی ترقی کے بجائے عسکری مہم جوئی کو مرکز بنایا، اور معیشت کے بجائے ’’جیوپولیٹیکل کرائے‘‘ پر انحصار کیا—وہ آخرکار اسی انجام سے دوچار ہوتا ہے۔
    پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ وہاں ریاستی وسائل کا بڑا حصہ تعلیم، صحت، تحقیق، صنعت یا برآمدات کے فروغ پر نہیں بلکہ دفاعی اخراجات، اسٹریٹجک مہمات اور ہمسایہ ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں پر صرف ہوا۔ دہشت گردی کو بطور ریاستی پالیسی استعمال کرنے کا الزام محض سیاسی بیان نہیں بلکہ عالمی رپورٹس، ایف اے ٹی ایف کی کارروائیوں اور خود پاکستان کے اندر ہونے والے حملوں نے اس حقیقت کو عیاں کیا ہے کہ یہ حکمتِ عملی بالآخر خود پاکستان کے لیے زہر بن گئی۔
    جب کوئی ملک ہمسایہ ریاستوں میں بدامنی پھیلانے کو ’’اسٹریٹجک اثاثہ‘‘ سمجھتا ہو، جب وہ اپنی سرزمین کو پراکسی جنگوں کے لیے استعمال ہونے دے، جب وہ تشدد کو سفارت کاری کا متبادل بنا لے—تو پھر دنیا اسے شراکت دار نہیں بلکہ مسئلہ سمجھتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سرمایہ نہیں آتا، تجارت نہیں بڑھتی، سیاحت نہیں پھلتی، اور آخرکار ملک قرضوں کے سہارے زندہ رہنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
    شہباز شریف نے اپنے خطاب میں چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کا شکریہ ادا کیا‘وہ ممالک جو بار بار پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے بیل آؤٹ فراہم کرتے رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ’’دوستی‘‘ کب تک رہے گی؟ چین کے اربوں ڈالر کے رول اوور، سعودی عرب کے تیل کی موخر ادائیگیاں، یو اے ای اور قطر کے قرضے—یہ سب وقتی سہارا تو ہو سکتے ہیں، مستقل حل نہیں۔ ہر چند ماہ بعد ہاتھ پھیلانا کسی بھی خوددار ریاست کے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔
    اس سارے عمل میں سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ قرضوں کی بات چیت میں فوجی قیادت کو براہِ راست شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ قرض کی ضمانت کوئی منتخب ادارہ نہیں بلکہ فوج دے رہی ہے۔ اس سے نہ صرف سویلین حکمرانی کمزور ہوتی ہے بلکہ یہ تاثر بھی پختہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں اصل طاقت کا مرکز کہاں ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے اور ممالک اسی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں—اور یہی وجہ ہے کہ اصلاحات کے بجائے محض ’’استحکام‘‘ کو ترجیح دی جاتی ہے، چاہے اس کی قیمت جمہوریت کیوں نہ ہو۔
    معاشی اعداد و شمار اس بحران کی شدت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ پاکستان میں غربت کی شرح۴۵فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے، جو۲۰۱۸میں محض 21.9 فیصد تھی۔ شدید غربت میں زندگی گزارنے والوں کی تعداد 4.9 فیصد سے بڑھ کر 16.5 فیصد ہو چکی ہے۔۲۰۲۲کے سیلاب، بے قابو مہنگائی اور معاشی بدانتظامی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ بے روزگاری 7.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ آٹھ ملین سے زائد افراد روزگار سے محروم ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی کا شکار ہیں اور غیر رسمی شعبے میں۸۵ فیصد افرادی قوت نیم بے روزگاری کا شکار ہے۔
    اس کے باوجود ریاستی ترجیحات میں بنیادی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ برآمدات آج بھی چند روایتی شعبوں—خاص طور پر ٹیکسٹائل—تک محدود ہیں۔ سافٹ ویئر، زراعت، لائیو اسٹاک اور ویلیو ایڈڈ صنعتوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، مگر کم پیداوار، ناقص پالیسی اور طاقتور طبقات کے مفادات آڑے آ جاتے ہیں۔ جاگیردار طبقہ اور ریٹیل سیکٹر آج بھی مؤثر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں، جس کے بغیر کوئی بھی معیشت پائیدار نہیں ہو سکتی۔
اس ساری تصویر میں ایک اور تلخ حقیقت بھی شامل ہے: ریاست ’’پرسیپشن مینجمنٹ‘‘ پر بھاری رقوم خرچ کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق عالمی سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے لابنگ، اور یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب کسی ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں نشست حاصل کرنے کے لیے خطیر رقم ادا کی گئی۔ ایک طرف عوام مہنگائی، بجلی کی قلت اور بے روزگاری سے تنگ ہیں، دوسری طرف ریاستی وسائل علامتی اثر و رسوخ پر خرچ ہو رہے ہیں—یہی وہ تضاد ہے جو پاکستان کے بحران کو محض معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بحران بنا دیتا ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ جب کسی ملک کی ترجیحات غلط ہوں، جب وہ تعمیر کے بجائے تخریب کو اپنی پہچان بنالے، جب وہ دہشت گردی اور عدم استحکام کو خارجہ پالیسی کا ہتھیار سمجھے، اور جب وہ انسانی ترقی کے بجائے عسکری مہم جوئی پر وسائل نچھاور کرے—تو انجام اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا جو آج پاکستان بھگت رہا ہے۔
    قرضوں پر چلنے والی ریاستیں آخرکار اپنی خودمختاری گروی رکھ دیتی ہیں۔ فیصلے واشنگٹن، بیجنگ یا ریاض میں ہوتے ہیں، اور اسلام آباد میں صرف ان پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ خودداری صرف نعرہ نہیں، ایک طرزِ حکمرانی کا نام ہے—اور وہ طرزِ حکمرانی اصلاحات، شفافیت، علاقائی امن اور اندرونی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔
    پاکستان کے وزیرِ اعظم کی شرمندگی اگر محض الفاظ تک محدود رہی تو تاریخ اسے ایک اور کھویا ہوا موقع قرار دے گی۔ لیکن اگر یہ اعتراف واقعی کسی تبدیلی کا پیش خیمہ بنے‘اگر دہشت گردی سے مکمل لاتعلقی، ہمسایہ ممالک سے پرامن تعلقات، ٹیکس اصلاحات، انسانی ترقی اور برآمدات پر مبنی معیشت کی جانب سنجیدہ قدم اٹھائے گئے—تو شاید یہ بحران کسی نئے آغاز کی بنیاد بن سکے۔ ورنہ قرض، شرمندگی اور بے بسی کا یہ چکر یونہی چلتا رہے گا، اور قوم ہر چند سال بعد ایک نئے ’’اعتراف‘‘ کی منتظر رہے گی۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’گاندھیائی اقدار سے امید کی کرن ابھرے گی‘

Next Post

کشمیری باہر کیوں نہ جائیں؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

کشمیری باہر کیوں نہ جائیں؟

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.