’باپو کے عدم تشدد، سچائی اور انسانی وقار کے نظریات پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں‘
جموں: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ عالمی بے یقینی، تنازعات اور موسمیاتی بحرانوں کے اس دور میں مہاتما گاندھی کے عدم تشدد، سچائی اور انسانی وقار کے نظریات پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
گاندھی گلوبل فیملی کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران منوج سنہا نے کہا کہ تاریخی مقام پر منعقد ہونے والی یہ تقریب محض ایک یادگاری اجتماع نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے لیے امن اور اُمید کی علامت ہے۔ ان کے مطابق گاندھیائی نظریات نے نہ صرف ماضی کی نسلوں کی رہنمائی کی بلکہ آج کی دنیا کے لیے بھی یہ اصول روشنی کا مینار ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ موجودہ دور شدید غیر یقینی صورتحال کا حامل ہے، جہاں عالمی سطح پر جغرافیائی تناؤ، معاشرتی تقسیم اور اقتصادی تبدیلیاں واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے حالیہ بین الاقوامی حالات کا ذکر کرتے ہوئے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان گزشتہ دو دہائیوں سے جاری مذاکرات کے بعد۲۷جنوری کو بڑے تجارتی معاہدے کی حتمی منظوری کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
ایل جی نے کہا کہ آج نہ صرف ملکوں کے درمیان بلکہ سماجوں اور افراد کے درمیان بھی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، اور حالات ایسے ہیں جیسے دنیا کسی ایسی چنگاری کی منتظر ہو جو موجودہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہو۔
منوج سنہا نے کہا، ’اگر دنیا کے ایک کونے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہوں اور دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی انسانی مستقبل کے لیے خطرہ بن گئی ہو، تو ایسے میں مہاتما گاندھی کی آواز حوصلہ اور سمت عطا کرتی ہے۔‘
لیفٹیننٹ گورنر کے مطابق گاندھی صرف ماضی کے لیڈر نہیں تھے بلکہ عصرِ حاضر کے لیے بھی ایک رہنما روشنی ہیں۔ عدم تشدد، سچائی اور خود ارادیت کا ان کا فلسفہ آج اسی قدر ضروری ہے جتنا آزادی کی جدوجہد کے دوران تھا۔
سنہا نے گاندھی کے۱۶مارچ۱۹۴۷کے ہفت روزہ ہریجن میں شائع ہونے والے ایک معروف اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گاندھی مذہب کو تنوع کے باوجود ایک ہی سرچشمے کی مختلف شاخیں سمجھتے تھے، جس طرح ایک درخت کی بے شمارٹہنیاں ہوتی ہیں لیکن جڑ ایک ہوتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گاندھیائی فکر میں انسانی وقار، مساوات، سماجی انصاف اور نوجوانوں کے حقوق کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور یہی اصول دنیا کے سخت ترین مسائل کے حل کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی نے جس اخلاقی جرات اور سچائی کے ساتھ راستہ چنا، وہ آج بھی انسانیت کے لیے مضبوط ترین رہنمائی ہے۔
سنہا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جموں و کشمیر میں امن، ہم آہنگی اور ترقی کے لیے گاندھیائی اصولوں کی اہمیت کو مزید مستحکم کیا جائے گا تاکہ نئی نسل کو صحیح سمت دی جا سکے۔
اس دورا ن جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو یوم شہدا کے موقع پر ان شہداء کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے قوم اور آزادی، انصاف اور جمہوریت کے نظریات کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
اس موقع پر سول سیکرٹریٹ میں شہدا کے اعزاز میں دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر کے ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ میں کہا گیا’’ آج یوم شہدا کے موقع پر وزیراعلیٰ نے ان شہداء کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے قوم اور آزادی، انصاف اور جمہوریت کے نظریات کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا‘‘۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ شہدا کی عظیم قربانیاں نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہیں گی۔پوسٹ کے مطابق ‘سول سیکرٹریٹ میں ان کے اعزاز میں دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔










