جنوری کی ٹھنڈی صبح میں جب کرتویہ پتھ پر قدموں کی تھاپ گونجتی ہے تو یہ صرف ایک پریڈ کی آواز نہیں ہوتی، یہ وقت کی دھڑکن ہوتی ہے۔ پرچم کی لہروں میں تاریخ بولتی ہے، وردیوں میں قربانیوں کی کہانیاں سانس لیتی ہیں اور جھانکیوں کے رنگ اس دھرتی کے ہزاروں چہروں کو ایک لڑی میں پرو دیتے ہیں۔
یومِ جمہوریہ ہر سال آتا ہے، مگر وہ محض تاریخ کے کیلنڈر میں ایک دن نہیں، ایک توقف ہے—جہاں ایک قوم اپنے آپ سے سوال بھی کرتی ہے اور جواب بھی تلاش کرتی ہے۔۷۷واں یومِ جمہوریہ بھی اسی توقف کا نام تھا، جہاں بھارت نے خود کو دیکھا:اپنی جمہوریت کے اعتماد میں، اپنی تہذیب کی گہرائی میں اور اپنی وحدت کے خاموش مگر مضبوط رشتے میں۔
کرتویہ پاتھ پر منعقدہ اس سال کی پریڈ کئی حوالوں سے غیر معمولی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے مطابق، یہ پریڈ بھارت کی مضبوط جمہوریت، گہرے تہذیبی ورثے اور قومی یکجہتی کا عملی مظہر تھی۔ درحقیقت، پریڈ کا ہر منظر اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ بھارت کی جمہوریت محض انتخابی عمل تک محدود نہیں بلکہ ادارہ جاتی استحکام، عوامی شرکت اور قومی خود اعتمادی پر استوار ہے۔
یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لائن کی شرکت ایک اہم سفارتی پیغام بھی تھی۔ یہ محض مہمان نوازی کا مظہر نہیں بلکہ اس بات کا اعلان تھا کہ بھارت اور یورپی یونین کے تعلقات اب رسمی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی شراکت داری کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں بھارت-یورپ تعلقات کا مضبوط ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت خود کو ایک ذمہ دار عالمی شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو مشترکہ اقدار، جمہوریت اور کثیرالجہتی تعاون پر یقین رکھتا ہے۔
پریڈ میں بھارت کی عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ خاص توجہ کا مرکز رہا۔ برہموس، آکاش میزائل سسٹمز، سوریاسٹر راکٹ لانچر، ارجن مین بیٹل ٹینک اور دیگر دیسی دفاعی پلیٹ فارمز کی نمائش نے یہ واضح کر دیا کہ بھارت اب دفاعی میدان میں صرف خریدار نہیں بلکہ ایک خود کفیل اور ٹیکنالوجی پر عبور رکھنے والی طاقت بن چکا ہے۔ آپریشن سندور کی جھلکیاں، مشترکہ آپریشنل سینٹر کی نمائش اور ’بیٹل اریے فارمیٹ‘ میں فوجی دستوں کی پیش قدمی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ بھارت کی سلامتی کا تصور اب جدید حکمتِ عملی، انٹیگریٹڈ کمانڈ اور دیسی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔
یہ عسکری مظاہرہ کسی جارحانہ ذہنیت کا اظہار نہیں بلکہ ایک واضح پیغام تھا: بھارت اپنی خود مختاری، شہریوں کے تحفظ اور سرحدی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ وزیر اعظم کے الفاظ میں، بھارت کی سیکورٹی فورسز قوم کا فخر ہیں، اور یہ فخر محض وردی یا ہتھیاروں سے نہیں بلکہ پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور قربانی کے جذبے سے جڑا ہوا ہے۔
یومِ جمہوریہ کی پریڈ کا ایک اور نمایاں پہلو بھارت کی ثقافتی کثرت میں وحدت کا عملی اظہار تھا۔ ’ودھِوتا میں ایکتا‘ کے موضوع پر پیش کیے گئے ثقافتی مظاہر، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جھانکیاں، موسیقی، رقص اور لوک روایات نے یہ ثابت کیا کہ بھارت کی اصل طاقت اس کی تنوع میں پوشیدہ ہے۔ یہ تنوع کسی کمزوری کے بجائے ایک مضبوط رشتہ ہے جو مختلف زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں کو ایک آئینی فریم ورک میں جوڑتا ہے۔
پریڈ میں۱۵۰برس مکمل کرنے والے قومی ترانے ’وندے ماترم‘ کو مرکزی موضوع بنانا محض ایک تاریخی حوالہ نہیں تھا بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی تھی کہ قومی شناخت محض موجودہ سیاست سے نہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد، فکری تحریک اور اجتماعی احساس سے تشکیل پاتی ہے۔ یہ وہ احساس ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے اور قوم کو بحرانوں میں بھی متحد رکھتا ہے۔
فضائی مظاہرے، جن میں رافیل، سوخوی، مگ، جگوار اور دیگر طیاروں کی شرکت شامل تھی، نہ صرف تکنیکی مہارت کا نمونہ تھے بلکہ بھارت کی فضائی طاقت اور آپریشنل تیاری کی عکاسی بھی کرتے تھے۔ ’سندور فارمیشن‘ محض ایک علامتی نام نہیں بلکہ حالیہ عسکری تجربات اور جدید دفاعی نظریات کی نمائندگی تھی۔ ڈی آر ڈی او کی جانب سے ہائپرسانک گلائیڈ میزائل کی نمائش نے اس پیغام کو مزید تقویت دی کہ بھارت دفاعی تحقیق میں مستقبل کی سمت دیکھ رہا ہے، نہ کہ ماضی کی ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہا ہے۔
یورپی یونین کے فوجی دستے کی شرکت اس پریڈ کو ایک منفرد عالمی رنگ بھی دیتی ہے۔ یورپ کے باہر پہلی بار اس نوعیت کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کو اب صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک عالمی اسٹیج پر معتبر شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ شمولیت بھارت کی سفارتی کامیابی کے ساتھ ساتھ اس کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت کی بھی عکاس ہے۔
مجموعی طور پر، اس سال کا یومِ جمہوریہ بھارت کے لیے خود احتسابی اور خود اعتمادی دونوں کا دن تھا۔ ایک طرف جمہوریت کی مضبوطی، تہذیبی ورثے کی رنگا رنگی اور عوامی شمولیت کا جشن، تو دوسری طرف دفاعی خود کفالت، عالمی شراکت داری اور مستقبل کی تیاری کا واضح اعلان۔ یہ تقریبات اس حقیقت کی یاد دہانی تھیں کہ قومیں محض نعروں سے نہیں بلکہ اداروں، نظم، وژن اور مسلسل محنت سے مضبوط بنتی ہیں۔
بھارت کا یومِ جمہوریہ۲۰۲۶اسی پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ یہ ملک اپنی تاریخ سے جڑا ہوا، حال سے باخبر اور مستقبل کی سمت پُراعتماد نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ مضبوط جمہوریت، متحد قوم اور عالمی ذمہ داری—یہ تین ستون بھارت کے آئندہ سفر کی بنیاد بن چکے ہیں۔





