خبر ہے کہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے ‘ وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ صاحب محنت کررہے ہیں …….سخت محنت کررہے ہیں ۔نہیں صاحب ریاستی درجے کی بحالی کے حوالے سے محنت نہیں کررہے ہیں کہ ……. کہ یہ اتنے بھی نا سمجھ نہیںہیں ……. بالکل بھی نہیںہیں جو اب تک ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی ہو گی کہ……. کہ دہلی اس حوالے سے ‘ ریاستی درجے کی بحالی کے حوالے سے دور نہیں بلکہ بہت دور ہے ۔ اس لئے وزیر اعلیٰ صاحب اس پر محنت نہیں کررہے ہیں کہ یہ وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ اور نہیں ہو گا ……. بالکل بھی نہیں ہو گا ۔ وزیرا علیٰ صاحب محنت کررہے ہیں اور آئندہ ہفتے پیش ہو نے والے بجٹ کے حوالے سے محنت……. سخت محنت کررہے ہیں …….مل رہے ہیں ‘ لوگوں سے مل رہے ہیں ‘ لوگوں کے نمائندوں سے مل رہے ہیں تاکہ بجٹ پر ان سے مشاورت کی جائے اور……. اور ایسا بجٹ مرتب کیا جائے جیسا لوگ چاہتے ہیں …….اسی لئے اپنے وزیر اعلیٰ محنت ……. سخت محنت کررہے ہیں اور ……. اور اس پرہم خوش ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ خوش ہیں ۔ ہمیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ وزیر اعلیٰ صاحب کی یہ محنت رائیگان نہیں جائے گی ……. بالکل بھی نہیں جائے گی اور جب وہ بجٹ پیش کریں گے تو……. تو یہ ایسا ہی ہو گا جیسا لوگ اور ان کے نمائندے چاہتے تھے ……. وزیر اعلیٰ ایسا ہی کریں اور ……. اور وزیر اعلیٰ صاحب ایسا کر سکتے ہیں ……. یا آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ صاحب تو اتنا کر ہی سکتے ہیں ۔ ہاں رہی بات اس بجٹ کو عملانے کی…….اس میں کی گئیں باتوں اور وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی‘ تو صاحب کیا آپ گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ صاحب کی جان لیں گے ؟آپ نے انہیں ووٹ ہی تو دیا ہے ‘اس کی ان سے کتنی قیمت لیں گے؟ اب وزیر اعلیٰ صاحب کیسے کہیں گے …….آپ کو کیسے بتائیں گے کہ بجٹ پر مشارت اور بجٹ اسی مشارت کے عین مطابق پیش کرنا تو ٹھیک ہے اور…….اور اتنا وہ کر سکتے ہیں …….لیکن صاحب اس سے زیادہ کچھ نہیں…….مطلب بجٹ کو پھر آئندہ ایک سال میں عملانا ان سے نہیں ہو گا ……. ان سے نہیں ہو سکتا ہے اور وزیر اعلیٰ صاحب گزشتہ سال پیش کئے گئے بجٹ کے بعد یہ بات عملی طور پر آپ کو سمجھانے کی کوشش بھی کررہے ہیں …….اگر آپ پھر بھی نہیں سمجھتے ہیں تو صاحب غلطی آپ کی ہے…….گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ صاحب نہیں……. بالکل بھی نہیں ۔ ہے نا؟




