فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز میں ۱۰۳؍ اہلکاروں کی برطرفی کا حکومتی فیصلہ قانونی، آئینی اور انتظامی اعتبار سے درست ہو سکتا ہے، مگر اس فیصلے کا سب سے گہرا اثر عدالتوں یا فائلوں میں نہیں، بلکہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے ذہنوں اور دلوں میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جن کیلئے سرکاری نوکری محض ملازمت نہیں بلکہ بقا، عزت اور مستقبل کی واحد امید ہوتی ہے۔ ایسے میں جب ایک کے بعد ایک بھرتی گھوٹالہ سامنے آتا ہے، تو سوال یہ نہیں رہتا کہ قصوروار کون ہے، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ ایمانداری کی قیمت آخر کیوں صرف نوجوان ادا کریں؟
سال۲۰۲۰ کی اس بھرتی میں جو کچھ ہوا، اس کی تفصیلات اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہیں۔ او ایم آر شیٹس میں چھیڑ چھاڑ، جعلی اسکین شدہ جوابی پرچے، ڈیجیٹل ڈیٹا میں ہیرا پھیری، اور میرٹ لسٹ کی کھلی بندر بانٹ‘یہ سب صرف انتظامی بے قاعدگیاں نہیں بلکہ ایک پورے خواب کا قتل ہیں۔ وہ خواب جو ہزاروں نوجوانوں نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ وہ نوجوان جو دور دراز علاقوں سے آئے، جنہوں نے کوچنگ فیس ادا کرنے کیلئے گھر کا زیور بیچا، جنہوں نے برسوں سوشل زندگی قربان کی، اور جو اس یقین کے ساتھ امتحان میں بیٹھے کہ شاید اس بار قسمت نہیں، محنت فیصلہ کرے گی۔
مگر جب کسی کو ۱۱ یا۷ ۱ نمبر پر ۹۰ نمبر مل جائیں، تو نوجوان کے دل میں سب سے پہلا سوال یہی ابھرتا ہے: کیا ہم واقعی کسی مقابلے میں تھے؟ یا یہ سب پہلے سے طے شدہ کھیل تھا جس میں ہمیں صرف حاضری کیلئے بلایا گیا تھا؟
نوجوانوں کا ردِعمل محض غصہ نہیں، بلکہ ایک خاموش مایوسی ہے۔ یہ وہ مایوسی ہے جو احتجاجی نعروں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے، کیونکہ یہ اندر ہی اندر نظام سے لاتعلقی کو جنم دیتی ہے۔ آج کا نوجوان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اگر میرٹ، امتحان اور محنت سب بے معنی ہیں، تو پھر صحیح راستہ کون سا ہے؟ یہی وہ موڑ ہے جہاں معاشرے خطرناک سمت میں مڑنے لگتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان برطرفیوں نے نوجوانوں کے زخم بھرنے کے بجائے انہیں اور کْرید دیا ہے۔ ایک طرف وہ امیدوار ہیں جو فراڈ کے ذریعے منتخب ہوئے اور آج برطرف ہوئے…ان کیلئے یہ انجام قابلِ فہم ہے۔ مگر دوسری طرف وہ ہزاروں نوجوان ہیں جو شروع ہی میں باہر کر دیے گئے، جنہیں کبھی انصاف ملا ہی نہیں۔ ان کیلئے نہ کوئی معافی ہے، نہ کوئی ازالہ، نہ کوئی یقین دہانی کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔
حکومت کا یہ کہنا کہ یہ تقرریاں ابتدا ہی سے غیر قانونی تھیں اور اس لئے آئینی تحفظ لاگو نہیں ہوتا، قانونی طور پر درست ہو سکتا ہے، مگر نوجوان اس قانونی موشگافی میں الجھنے کے بجائے ایک سادہ سوال پوچھ رہا ہے: اگر یہ سب غیر قانونی تھا تو پانچ سال تک کس کی نگرانی میں چلتا رہا؟ کیا نظام صرف تب حرکت میں آتا ہے جب معاملہ میڈیا یا عدالتوں تک پہنچ جائے؟
نوجوانوں کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ہر بھرتی گھوٹالے کے بعد کارروائی کا دائرہ اکثر نیچے تک محدود رہتا ہے۔ امیدوار برطرف ہو جاتے ہیں، مگر وہ افسران، وہ تکنیکی ماہرین، وہ دلال اور وہ اندرونی ہاتھ جو اس پورے کھیل کے اصل ڈائریکٹر ہوتے ہیں، اکثر پردے کے پیچھے محفوظ رہتے ہیں۔ یہی احساس نوجوانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انصاف شاید کمزور کیلئے نہیں بلکہ طاقتور کیلئے ایک سہولت ہے۔
جموں و کشمیر میں بے روزگاری پہلے ہی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ نجی شعبہ محدود ہے، صنعتیں کم ہیں، اور مواقع نہ ہونے کے برابر۔ ایسے میں سرکاری نوکری واحد راستہ بچتی ہے۔ جب اسی راستے پر بار بار بدعنوانی کی دیوار کھڑی کر دی جائے، تو نوجوان کہاں جائے؟ بیرونِ ریاست ہجرت؟ یا پھر وہ راستے جن کا انجام اکثر پچھتاوا ہوتا ہے؟
یہ محض انتظامی بحران نہیں بلکہ سماجی بحران ہے۔ ایک ایسا بحران جو نوجوانوں کے اعتماد کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ جب ریاست اپنے ہی طے کردہ اصولوں پر عمل نہیں کر پاتی، تو نوجوانوں سے قانون پسندی، صبر اور برداشت کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
حکومت کیلئے یہ لمحہ محض احتساب کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا بھی ہے۔ نوجوان صرف برطرفیاں نہیں چاہتے، وہ شفافیت چاہتے ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آئندہ امتحان میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ کیا نتائج واقعی ان کی محنت کی عکاسی کریں گے؟ یا پھر وہی نام، وہی ضلع، وہی رشتہ دار دوبارہ فہرست میں نظر آئیں گے؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر بھرتی گھوٹالے کے بعد صرف سزا نہیں بلکہ اصلاح بھی نظر آئے۔ امتحانی نظام کی مکمل آڈٹنگ، ٹیکنالوجی کے شفاف استعمال، نتائج کی عوامی جانچ، اور سب سے بڑھ کر، فیصلہ سازوں کی جوابدہی‘یہ سب نوجوانوں کا حق ہے، کوئی رعایت نہیں۔
آخر میں، نوجوان یہ نہیں کہہ رہے کہ نظام کامل ہو۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ نظام ایماندار ہو۔ وہ یہ ماننے کو تیار ہیں کہ ناکامی ممکن ہے، مگر یہ ماننے کو تیار نہیں کہ کامیابی خریدی جا سکتی ہے۔ اگر ریاست واقعی نوجوانوں کو اپنا سرمایہ سمجھتی ہے، تو اسے ثابت کرنا ہوگا کہ میرٹ محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک اصول ہے‘ایسا اصول جس پر سمجھوتہ نہیں ہوتا۔
۱۰۳ برطرفیاں شاید ایک فائل بند کر دیں، مگر نوجوانوں کے ذہن میں کھلے سوال تب تک بند نہیں ہوں گے، جب تک ہر امتحان انہیں یہ یقین نہ دلا دے کہ اس بار مقابلہ واقعی برابر تھا۔





