لوجی یہ کیا بات ہو ئی کہ… کہ وزیرا علیٰ عمرعبداللہ صاحب کاکہنا ہے کہ سنتوش ٹرافی کیلئے جموںکشمیر سے جو فٹبال ٹیم منتخب کی گئی ہے وہ میرٹ پر کی گئی ہے… علاقائی شناخت پر نہیں… بالکل بھی نہیں …یہ بات کہہ کر وزیرا علیٰ صاحب نے ٹیم کو منتخب کرنے کے عمل میں کسی جانچ سے صاف انکار کیا ہے… لیکن… لیکن وزیر اعلیٰ صاحب کے ایک صاحب… ان کے وزیر ‘ستیش شرماجی کاکہنا ہے کہ ٹیم کو منتخب کرنے کے عمل کی جانچ کی جائیگی اور قصور واروں کیخلاف کارروائی بھی ہو گی… یہ کہہ کر شرما جی مان رہے ہیں … اعتراف کررہے ہیں ٹیم کا انتخاب میرٹ پر نہیں ہوا ہے… جیسا کہ ان کے صاحب ‘… بڑے صاحب وزیر اعلیٰ صاحب کا دعوی ہے… اب سچ کیا ہے اور کیا نہیں ‘ صحیح کون کہہ رہا ہے اور کون نہیں ‘اس سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے… لیکن ایک بات جو ہماری سمجھ میں نہیں آ رہی ہے… بالکل بھی نہیں آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ اور ان کی مٹھی بھر کابینہ میں یہ کیسا تال میل ہے کہ ایک ہی اشو پر وزیر اعلیٰ کچھ کہہ رہے ہیں اور ان کے ایک کابینہ ساتھی ۳۶۰ ڈگری پلٹ کچھ اور کہہ رہے ہیں… وزیر اعلیٰ میرٹ کی بات کررہے ہیں…کسی جانچ کو مسترد کررہے ہیں اور… اور ان کے وزیر جی جانچ کی بات کررہے ہیں … اور علاقائی شناخت کو سامنے لا رہے ہیں…فٹبال ٹیم کے انتخاب کے ساتھ کیا کرنا ہے اور…اور کیا نہیں ‘ یہ تو بعد میں طے کیا جائے پہلے وزیر اعلیٰ صاحب یہ طے کریں کہ انہیں شرما جی کا کیا کرنا ہے کہ… کہ یہ جناب اپوزیشن جماعت… جو بات بات اور ہر بات میں علاقائی شناخت اور علاقائی امتیاز کو سامنے لاتی ہے ‘ کی بولی بول رہے ہیں ۔یہ تو قابل قبول نہیں ہے کہ ایک اشو ہی اشو پر وزیرا علیٰ کچھ تو ان کے ساتھی کچھ اور کہیں… اور ایک غیر متنازعہ بات کو متنازعہ بنائیں… یہ تو صاحب قابل قبول نہیں ہے… قابل قبول یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ صاحب اپنے وزیر جی کو طلب کریں اور ان سے پوچھیں کہ انہوں نے کس بنیاد پر جانچ کی بات کی… کہ… کہ اپوزیشن کا توکام ہی اپوزیشن کرناہے… اگر اپوزیشن کے اٹھائے گئے ہر ایک اشو پر جانچ ہونے لگی تو… تو پھر حکومت کو کوئی اور کام نہیں کرنا ہو گا… بالکل بھی نہیں کرنا ہو گا… سوائے جانچ کے… بات بات اور ہر ایک بات کی جانچ… اس بات کی بھی جانچ کہ شرما جی نے جانچ کی بات کیوں کہی ۔ ہے نا؟




